عورت کا احترام

اسلام کی بنیاد دوباتوں پر ہے۔ اﷲکا خوف اور انسانوں کا احترام۔ اس کاحکم دیتے ہوئے قرآن میں  ارشاد ہوا ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (4:1)۔یعنی،اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو۔ جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا۔ اور اسی (کی جنس) سے اس کا جوڑا پیدا کیا۔ اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت پھیلا دیے۔ اور تم اللہ سے ڈرو جس کے واسطہ سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ اور قرابتوں کے باب میں  بھی۔ بے شک اللہ تمہارے اوپر نگراں ہے۔

اس آیت میں  وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا (خدانے اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا ) کا مطلب بعض لوگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے پہلے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ، اور اس کے بعدان کے جسم سے ان کی ایک پسلی نکال کر ان کی بیوی حوا کو بنایا۔ مگر یہ تشریح صحیح نہیں۔ یہ بائبل کی بات ہے، نہ کہ قرآن کی بات۔

بائبل میں  حضرت حوا کی پیدائش کے بارے میں  اسی قسم کی روایت آئی ہے۔ یہاں ہم بائبل کے الفاظ نقل کرتے ہیں:

اور خداوند خدانے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سوگیا۔ اور اس نے اس کی پسلیوں میں  سے ایک کو نکال لیا اور اس کی جگہ گوشت بھر دیا۔ اور خدا وند خدا اس پسلی سے جو اس نے آدم میں  سے نکالی تھی۔ ایک عورت بنا کر اسے آدم کے پاس لایا۔ اور آدم نے کہا کہ یہ تواب میری ہڈیوں میں  سے ہڈی اور میرے گوشت میں  سے گوشت ہے۔ اس لیے وہ ناری کہلائے گی کیوں کہ وہ نرسے نکالی گئی ہے۔ (پیدائش، 2:21-23)

بائبل کی یہی روایت ہے جس کو بعد کے کچھ لوگوں نے قرآن کی تفسیر میں  داخل کردیا۔ اور اس کی روشنی میں  قرآنی آیت کی تشریح کرنے لگے۔ مگر یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ بائبل ایک محرف کتاب ہے۔ اس میں  پیغمبروں کے کلام کے ساتھ عام انسانی کلام کی آمیزش ہوئی ہے، اس لیے اس کے بیان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ اس کی روشنی میں  قرآنی آیت کی تشریح کرنا درست ہے۔

قرآن کی مذکورہ آیت یا کسی بھی دوسری آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حوا کو آدم کی پسلی سے پیداکیاگیا۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں  جولفظ ہے وہ منھا ( اس سے ) ہے، نہ کہ من ضلع اٰدم (آدم کی پسلی سے)۔ چنانچہ محقق مفسرین نے منھا سے مراد من جنسھا لیا ہے۔ یعنی نفس واحدہ (آدم ) کی جنس سے، نہ یہ کہ خود آدم کے اپنے جسم سے۔ ابو مسلم اصفہانی اور بعض دوسرے مفسرین سے یہی قول نقل ہوا ہے اور یہی قرآنی الفاظ کے مطابق ہے۔وَالْقَوْلُ الثَّانِيوَهُوَ اخْتِيَارُ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَصْفَهَانِيُّ:أَنَّ الْمُرَادَ مِنْ قَوْلِهِ: وَخَلَقَ مِنْها زَوْجَها أَيْ مِنْ جِنْسِهَا۔(تفسیرالرازی،ج9 ، ص478)

وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمَعْنَى مِنْ جِنْسِهِ لَا مِنْ نَفْسِهِ حَقِيقَةً(البحر المحیط)

منھا کو من جنسھا کے معنی میں  لینے کی تائید بعض دوسری آیتوں سے ہوتی ہے۔ قرآن میں  نفس کا لفظ بار بارجنس کے معنی میں  آیا ہے۔ اس طرح یہ دوسری آیتیں سورہ نساء کی مذکورہ آیت کی نہایت واضح تشریح کر رہی ہیں۔ یہاں ہم چند آیتیں نقل کرتے ہیں:

وَاللهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا (16:72)۔یعنی،اور اللہ نے تم ہی میں  سے تمہارے لیے بیویاں بنائیں۔

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا (30:21)۔یعنی،اور اس کی نشانیوں میں  سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں  سے بیویاں بنائیں تاکہ تم سکون حاصل کرو۔

فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا (42:11)۔یعنی، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں  سے جوڑے بنائے اور اسی طرح مویشیوں میں  سے بھي جوڑے بنائے۔

ان آیتوں پر غور کیجیے۔ ان میں  عام مردوں کی ازواج (بیویوں) کے لیے بھی عین وہی لفظ آیا ہے جو سورہ نساء کی آیت میں  حضرت آدم کی زوج (بیوی) کے لیے آیا ہے۔ اس کے مطابق حوا کو جس طرح آدم کی ’’ نفس‘‘ سے پیداکیا گیا۔ اسی طر ح دوسرے تمام مردوں کی بابت بھی ارشاد ہوا ہے کہ ان کی بیویوی کو ان کے ’’انفس‘‘ سے پیداکیا گیا ہے۔

ظاہر ہے کہ ان دوسری آیتوں کے یہ معنی نہیں لیے جاسکتے کہ ہر مرد کی بیوی اس کے اپنے جسم کے اندر سے نکالی گئی ہے۔ یہاں لازمی طور اس کو جنس کے معنی میں  لینا ہوگا۔ یعنی یہ کہ اﷲ نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے تمہاری عورتیں بنائیں تاکہ وہ تمہارے لیے حقیقی معنی میں  رفیق زندگی بن سکیں۔

جس طرح عام آدمیوں کی بیویاں ان کی ہم جنس ہیں، نہ کی حیاتیاتی معنوں میں  ان کے جسم کا حصّہ۔اسی طرح حضرت آدم کی بیوی (حوا) بھی ان کی ہم جنس تھیں ، وہ آدم کے جسم کے اندر سے نکالی نہیں گئیں۔ اﷲ نے آدم کی طرح ان کی بیوی کو بھی اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ جس طرح اس نے عام مردوں کی طرح ان کی عورتوں کو اپنی قدرت ِ خاص سے پیدا فرمایاہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion