ذمہ دار کون

انیسویں صدی کے وسط کا واقعہ ہے۔ فرانس کے ایک مسیحی مسٹر لیون روش نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ امیر عبدالقادر الجزائری کے یہاں آیا اور امیر کے ہاتھ پر اسلام لایا۔ اس کے بعد امیر عبدالقادر الجزائری نے اس کو قربت دی۔ اس کو اپنا مشیر خاص بنا لیا۔ کئی مہمات میں اس کو بھیجا۔ اسی طرح اس کو جزیرہ عرب بھیجا جہاں اس نے حج ادا کیا۔

 لیون روش کی شادی الجزائر کی ایک مسلمان خاتون سے ہوئی۔ دونوں تقریباً17 سال تک ایک ساتھ رہے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ فرانس کی فوجیں الجزائر میں داخل ہوگئیں۔ جنگ کے بعد بالآخر فرانس کو امیر عبدالقادر الجزائری پر فتح حاصل ہوئی۔ اس فتح کے بعد لیون روش فرانسیسی جنرل الدوک دو مال سے مل گیا اور کھلم کھلا اعلان کر دیا کہ میں نے اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ مسیحیت اختیار کر لی ہے۔

 یہ واقعہ لیون روشن کی مسلمان بیوی کے لیے بہت اندوہناک تھا۔ اس نے کہا کہ اسلام نے اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی کر دی ہے۔ اور میں نہیں چاہتی کہ تیرے جیسا سانپ زندہ رہے اور لوگ مجھ کو تیری وجہ سے غیر ت دلائیں۔ چنانچہ اس نے خنجر لے کر لیون کو قتل کر ڈالا (الثقافۃالعربیۃ، طرابلس، دسمبر1982)۔

اس طرح کے ارتداد کے واقعات کو عام طور پر اس معنی میں لیا جاتا ہے کہ متعلقہ شخص محض منافقانہ طور پر اسلام میں داخل ہوا تھا۔ اور اپنا کام پورا کر کے اسلام سے نکل گیا۔ ممکن ہے کہ بعض ایسے واقعات بھی ہوں۔ مگر اس نظریہ کو ارتداد کے تمام واقعات پر چسپاں کرنا صحیح نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام قبول کرنے والے زیادہ تر وہ ہیں جو کسی تبلیغی جدوجہد کے نتیجہ میں مسلمان نہیں ہوتے بلکہ اپنے آپ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ میں نے بہت سے نو مسلموں سے بات کر کے یہ اندازہ کیا ہے کہ ان کے اسلام کا سبب کوئی گہرا فکری انقلاب نہیں ہوتا۔ یہ اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو پہلے سے مذہب کے معاملہ میں متشدد اور متحمس نہیں ہوتے۔ وہ کسی وقتی اور معمولی پسندیدگی کی بنا پر اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ اب اگر ان کو خوش قسمتی سے موافق حالات مل گئے تو وہ دھیرے دھیرے اسلام میں پختہ ہو جاتے ہیں۔ ان کا ابتدائی معمولی تاثر بالآخر گہرے اسلامی تاثر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مگر جن کو اسلام کے بعد اچھے حالات نہ ملیں ان کا اسلام کمزور ہوتا رہتا ہے۔ وہ ان کے شعور کی زمین میں جڑ نہیں پکڑتا۔ ان میں سے کچھ لوگ اپنے کمزور اسلام کے ساتھ زندگی گزارتے رہتے ہیں، اور کچھ لوگ دوبارہ اپنے سابق معاشرہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ وہ جس طرح ایک معمولی سبب کے پیش آنے سے اسلام میں داخل ہوئے تھے، اسی طرح دوسرا معمولی سبب پیش آنے سے اسلام کے باہر چلے جاتے ہیں۔

ایک نومسلم کا مسلم معاشرہ میں جذب ہونا مسلم معاشرہ کی ذمہ داری ہے، مگر مسلم معاشرہ یہاں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نو مسلم اپنے نئے ہم مذہبوں کے درمیان ایک قسم کا اجنبی بن جاتا ہے۔ یہ اجنبیت کبھی کبھی اپنی انتہا پر پہنچ کر وہ صورت اختیار کر لیتی ہے جس کو ہم’’ارتداد‘کہتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ارتداد کے اکثر واقعات دشمنان اسلام کی’’سازش‘‘ سے زیادہ مسلمانوں کی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ یہ غفلت خاص طور پر تین قسم کی ہے۔

1۔     دعوت و تبلیغ کا کام ہمارے یہاں اس نہج پر نہیں ہو رہا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر گہرا فکری انقلاب پیدا کرے۔ آدمی شعوری تبدیلی کے بغیر کسی سطحی یا عارضی سبب سے اسلام قبول کر لیتا ہے، ظاہر ہے کہ ایسا اسلام بہت زیادہ دیر پا نہیں ہو سکتا۔

2۔     ایک نومسلم جب اسلام قبول کرتا ہے تو وہ ایک بالکل مختلف معاشرہ سے نکل کر اسلام میں آتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو اسلام میں پختہ کرنے کے لیے اس کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ مگر مسلمانوں کے یہاں ایسے لوگوں کی ذہنی اور فکری تربیت کا کوئی سامان موجود نہیں۔ یہ تربیت تمام تر مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، مگر اس کے لیے انہوں نے اب تک کچھ نہیں کیا۔

3۔      تیسرا مسئلہ معاشرہ کا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد نومسلم ایک طرف ا پنے معاشرہ سے کٹ جاتا ہے۔ دوسری طرف مسلم معاشرہ بھی اس کو بھرپور طور پر قبول نہیں کرتا۔ یہ دوطرفہ اجنبیت اس مخلوق کے لیے یقینا ناقابل برداشت ہے جس کی تعریف سماجی حیوان (social animal )سے کی گئی ہے۔

اس طرح کے مختلف اسباب اکثر نو مسلموں کے اندر چھپی ہوئی بے چینی بن کر موجود رہتے ہیں، وہ مسلسل عدم اطمینان کا شکار رہتے ہیں اور کوئی بڑا واقعہ پیش آنے کی صورت میں اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ اپنے ماضی کی طرف چلے جاتے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion