معاشرت کی تعمیر وتشکیل میں مذاہب کا رول
جن لوگوں نے 1947 سے پہلے کا ہندستان دیکھا ہے ، اور پھر وہ آج کا ہندستان دیکھ رہے ہیں، وہ دو نوں زمانوں کے درمیان ایک نمایاں فرق پائیں گے۔ پہلے زمانہ میں اخلاقی قدروں کی اہمیت تھی ، انسانی احترام تھا، لوگ ایک دوسرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر تے تھے۔ اب ہمارے سماج میں یہ سب چیزیں ختم ہوگئیں ۔ اب انسانیت کے بجائے خود غرضی کا رواج ہے۔ ذمہ داریوں کے بجائے حقوق کا شور سنائی دیتا ہے۔ میل ملاپ کے بجائے ٹکراؤ کا دور دورہ ۔
یہ فرق کیوں ہوا۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پہلے سماج کے اوپر مذہب کا غلبہ تھا، اب سماج کے اوپر سیاست کا غلبہ ہو گیا ہے۔ پہلے مذہبی شخصیتیں لوگوں کی رہنما ہوا کرتی تھیں۔ اب نئے حالات میں غیر مذہبی شخصتیں لوگوں کی رہنما بن گئی ہیں ۔ اس تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ کی تعمیر وتشکیل میں مذاہب کا رول کتنا زیادہ ہے ۔
مذاہب کا کام کیا ہے ۔ وہ بنیادی طور پر ہے — آدمی کو مادیت کی سطح سے اٹھانا اور اس کو روحانی سطح پر جینے والا بنانا ۔ اس طرح جب آدمی کے اندر روحانیت آتی ہے تو اپنے آپ وہ خود غرضی سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ لوگوں کے لیے ایسے آدمی کے اندر نفرت کے بجائے محبت آجاتی ہے۔ وہ تمام انسانوں کو اپنا سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے اندر لینے سے زیادہ دینے کا مزاج آجاتا ہے۔ اور جس سماج میں ان قدروں کا رواج پیدا ہو جائے وہ سماج لازمی طور پر امن اور بھائی چارہ کا سماج بن جائے گا۔
موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں سیاسی تحریکوں کا زور ہے۔ ہرا خبار اور ہر جلسہ سیاسی آوازوں سے گونجتَا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی طرح پہلے زمانہ میں مذہبی اور روحانی تحریکوں کا زور تھا۔ ہر جگہ اور ہر طرف مذہبی شخصیتیں لوگوں کا مرکز اور لوگوں کی معلم بنی ہوئی تھیں۔ اس طرح مذاہب کے اثر سے ساری دنیا میں مثبت انسانی روایات قائم ہوئیں۔ انھیں مثبت روایات کے زیر اثر ساری دنیا چلتی رہی۔ یہاں تک کہ نیا زمانہ آیا جس نے ان مذہبی روایتوں کو توڑ دیا۔
سیاست ہمیشہ ٹکراؤ پر چلتی ہے۔ جب کہ مذہب کی بنیاد محبت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جب سماج پر سیاست کا غلبہ ہوا تو اس کے فطری نتیجہ کے طور پر سماج میں باہمی تناؤ اور ٹکراؤ کا ماحول قائم ہو گیا۔ اس کے برعکس، پچھلے زمانہ میں جب مذہب کا غلبہ تھا تو سماج میں محبت اور انسانیت کی قدریں پرورش پا رہی تھیں ۔
اس سلسلہ میں چند بڑے مذا ہب کی مثال لیجیے۔ ہندو ازم نہایت قدیم مذہب ہے۔ ہندو ازم کا نظریہ وہ تھا جس کو ادویت واد کہا جاتا ہے۔ اس نظریہ کے فلسفیانہ پہلو سے قطع نظر، اس نے لوگوں میں یہ احساس جگایا کہ میں اور تو کا فرق اضافی ہے۔ حقیقت میں دونوں ایک ہیں۔
یہ مذہبی نظریہ لوگوں کے اندر یہ ذہن بناتا ہے کہ اگر میں سچا ہوں تو دوسرا بھی اپنے لحاظ سے سچا ہو سکتا ہے۔ اس طرح ہندو مذہب کے پھیلاؤ نے وہ چیز پیدا کی جس کو موجودہ زمانہ میں سیکولرزم کہا جاتا ہے ۔ اور بلاشبہ عملی اعتبار سے مشترک سماج کے لیے سیکولرزم سے بہتر کوئی نظریہ نہیں۔
سیکولرزم لوگوں کے اندر ہم وجودیت (co-existence) کا ذہن بناتا ہے۔ اور ہم وجودیت یا بقائے باہم کا نظر یہ مشترک سماج کی تعمیر وتشکیل کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ ہندستانی سماج میں اس فکر کے اثرات ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ یہاں ہر مذہب کے لوگ آئے ، اور ہر ایک کو یہاں استقبال ملا۔ مذہبی بنیاد پر کبھی ہندستان میں کسی کی مخالفت نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہندستان میں ہر مذہب کے لوگ بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اور وہ یہاں شیر و شکر ہو کر رہ رہے ہیں۔
اس کے بعد بدھزم کو لیجیے ۔ بدھ ازم کی تحریک زیادہ تر مذہبی ظاہر پرستی کے خلاف اٹھی ۔ بدھ ازم نے ظاہری ڈھانچہ کے بجائے اقدار (values) پر زور دیا۔ اس نے انسان کو سب سے زیادہ اہمیت دے کر یہ تعلیم دی کہ انسان کے ساتھ اچھا سلوک کر ناسب سے بڑا مذہبی عمل ہے۔
اس طرح بدھ ازم کے پھیلا ؤ نے لوگوں کے اندر تواضع ، سادگی، انکساری ، امن پسندی کا مزاج پیدا کیا۔ اس سے انسانی معاشرہ میں زبر دست اخلاقی انقلاب آیا۔ اس انقلاب کے واضح اثرات ان سماجوں کے اندر دیکھے جا سکتے ہیں جہاں بدھ ازم کو زیادہ پھیلاؤ۔ خاص طور پر جاپان اور تھائی لینڈ سے لے کر ملیشیا اور سنگا پور تک کا علاقہ اس کی مثال ہے۔ ان ملکوں کے لوگوں میں امتیازی طور پر امن پسندی ، تواضع اور اطاعت شعاری کا مزاج دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ بڑی حد تک بدھ ازم کی دین ہے ۔
اس کے بعد مسیحیت کو لیجیے۔ مسیحی قوموں میں ایک جذ بہ تمام قوموں سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ اور وہ انسانی محبت اور خدمت خلق کا جذبہ ہے ۔ یہ براہ راست طور پر ان کے مذہب کی دین ہے ۔ حضرت مسیح نے سیاسی باتیں نہیں کیں ۔ انھوں نے وقت کی حکومت سے کوئی ٹکراؤ نہیں کیا ۔ انھوں نے کہا کہ جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو۔
اس طرح مسیحیت میں انسانی محبت اور انسانی خدمت کی روایتیں قائم ہوئیں۔ اس سے مسیحی قوموں میں یہ مزاج پیدا ہوا کہ وہ حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کریں۔ وہ سیاسی ٹکراؤ سے بچتے ہوئے خدمت خلق کے شعبوں میں اپنے آپ کو لگا دیں۔ اس مزاج کے اثرات ہندستان میں اور دوسرے ملکوں میں واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسیحی قوموں نے موجودہ زمانہ میں خدمت خلق کے میدان میں سب سے زیادہ کام انجام دیا ہے ۔
اب اسلام کو لیجیے۔ اسلام میں سب سے زیادہ زور توحید پر ہے۔ اسلام کے نزدیک ساری بڑائی صرف خدا کو حاصل ہے ۔ بڑا صرف ایک ہے ۔ باقی تمام لوگ یکساں اور برابر ہیں۔ ایک حدیث میں اس بات کو ان الفاظ میں کہا گیا ہے کہ الْخَلْقُعِيَالُاللهِ (مسند البزار، حدیث نمبر 6947)۔ یعنی، تمام انسان خدا کے پریوار ہیں۔
اس عقیدہ سے انسانی مساوات کا نظریہ پیدا ہوا۔ نہ صرف مسلمان بلکہ دوسری قومیں بھی کسی نہ کسی طور پر اس تحریک مساوات سے متاثر ہوئیں۔ ساری دنیا میں عام طور پر انسانی برابری کے اصول کو مانا جانے لگا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام سے پہلے بر ترنسل اور کم تر نسل کا نظریہ ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ انسانیت اونچے اور نیچے طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اسلام کے ذریعہ جو فکری انقلاب آیا اس نے انسانی نابرابری کے دور کوختم کیا اور انسانی برابری کے دور کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کےدھارے میں شامل کر دیا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انسانی سماج کی تعمیر وتشکیل میں مذاہب کا رول ہمیشہ نہایت مثبت رہا ہے۔ اس معاملہ میں مذاہب کے تعمیری رول سے انکار کرنا ممکن نہیں ۔
________________________________________________
نوٹ:یہ تقریر 12جنوری 1996 کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔
