جو لوگ تقریر و خطابت کے
کمالات دکھا رہے ہیں

سبحان وائل (م 54ھ ) خوش بیانی میں ضرب المثل ہے ۔ امیر معاویہ کے دربار میں شامل ہو کر اس نے بڑی عزت پائی ۔ ایک بار خراسان سے ایک وفد امیر معاویہ کے یہاں آیا۔ انھوں نے سبحان کو بلوایا اور اس سے تقریر کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے کہا      ’’میرے لیے عصا لاؤ لوگوں نے کہا امیر المومنین کے دربار میں تم عصا سے کیا کرو گے‘‘  اس نے جواب دیا ’’ وہی جو موسیٰ اپنے رب سے باتیں کرتے وقت اپنے عصا سے کرتے تھے ‘‘ اس کے بعد تقریر شروع کی تو ظہر سے لے کر عصر تک اس طرح مسلسل بولتا رہا کہ درمیان میں ایک بار بھی کہیں نہیں اٹکا۔ تمام حاضرین حیرت زدہ ہو کر رہ گئے۔ امیر معاویہ نے کہا     ’’واقعی تم عرب کے سب سے بڑے خطیب ہو ‘‘  سبحان نے برجستہ کہا:نہ صرف عرب کا بلکہ سارے عجم کا اور جن وانس کا بھی ‘‘۔

زیادہ بن ابیہ (م53ھ) نے ایک بار حضرت عمر کی موجودگی میں مہاجرین وانصار کے سامنے تقریر کی۔ تقریر اتنی کامیاب تھی کہ اس کو سن کر عمر و بن العاص بول اٹھے:سبحان اللہ اس نوجوان کا باپ اگر قریشی ہو تا تو یہ اپنے عصا سے عربوں کی قیادت کرتا حجاج بن یوسف ثقفی (95-41ھ)کو زبان و بیان کی حیرت انگیز صلاحیت حاصل تھی۔ مالک بن دینار کہتے ہیں : میں نے حجاج سے زیادہ اثر انگیز اور خوش بیان مقرر نہیں دیکھا۔ جب وہ ممبر پر کھڑا ہو کر عراقیوں کے ساتھ اپنے احسانات اور عفو کا ذکر کرتا اور اس کے مقابلہ میں عراقیوں کی زیادتیاں اور بدسلوکیاں بیان کرتا تو میں اس کو سچا اور عراقیوں کو جھوٹا سمجھنے لگتا۔ حالانکہ اس نے ان میں سے ایک لاکھ 20 ہزار کو قید میں ڈال کر مار ڈالا تھا، اور جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے قید خانوں میں 50 ہزار مرد اور 30 ہزار عور تیں بند پڑی ہوئی تھیں‘‘۔

شہادت عثمان کے بعد جب مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوا اور نتیجہ میں بہت سی ایک دوسرے کی حریف جماعتیں پیدا ہو گئیں تو خطابت نے بہت ترقی کی۔ کیوں کہ ہر فرقہ اپنے نظریہ کی تبلیغ و اشاعت کے لیے سب سے زیادہ جس چیز پر اعتماد کرتا تھا، وہ خطابت اور تقریر ہی تھی۔ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہونے کے بعد پھر ختم نہ ہو سکا۔اس لیے خطابت اور تقریر کو خوب غذاملتی رہی اور اتنے زیادہ مقررین پیدا ہوئے جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔

تاہم دور سائنس کے ظہور سے پہلے تقریر و خطابت اپنی بعض مضرتوں کے ساتھ بہت سے پہلوؤں سے مفید بھی ثابت ہوتی رہی۔ خاص طور پر مقابلہ کے مواقع پر جوش جہاد ابھارنے کے لیے ۔ مگر دور سائنس میں اس قسم کی خطابت بالکل بے معنی ہو گئی ہے۔ آج علم و عمل کے سارے اندازے بدل چکے ہیں۔ اب علم میں تحقیق اور تجزیہ نے اہمیت حاصل کر لی ہے اور عمل میں منصوبہ بندی نے ۔ ظاہر ہے کہ تقریر و خطابت کا ان دونوں چیزوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے آج تقریر کا مقام وہی ہو چکا ہے جو مشاعروں میں شاعری کا ہوا کرتا ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

ان حالات میں جو لوگ اب بھی تقریر و خطات کے کمالات دکھا رہے ہیں ، وہ صرف تقریر و خطابت کے کمالات دکھا رہے ہیں ، وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انھیں زمانہ کی تبدیلیوں کی خبر نہیں۔ ان کی سرگرمیاں ممکن ہے کسی میوزیم میں جگہ پاسکیں ، مگر ان کو حال یا مستقبل کی تعمیر کا عنوان نہیں دیا جا سکتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion