اسلامی طریقہ

اس کے بعد وہ طریقہ ہے جو اسلامی شریعت میں  اس مسئلہ کے حل کے لیے بتا یا گیا ہے۔ یعنی مخصوص شرائط کے ساتھ کچھ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت۔

 تعد د ازواج کا یہ اصول جو اسلامی شریعت میں  مقر رکیا گیاہے، وہ دراصل عورتوں کو مذکورہ بالاقسم کے بھیانک انجام سے بچانے کے لیے ہے۔ بظاہر اگر چہ یہ ایک عام حکم ہے، لیکن اگر اس حقیقت کو سامنے رکھیے کہ عملی طور پر کوئی عورت کسی مرد کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر ہنگامی حالات ہی میں  راضی ہوسکتی ہے ، نہ کہ معمول کے حالات میں ، تویہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ حکم دراصل ایک سماجی مسئلہ کے حل کے طورپروضع کیا گیاہے۔ وہ فاضل عورتوںکو جنسی آوارگی سے بچا کر معقول اور مستحکم خاندانی زندگی گزارنے کا ایک انتظام ہے۔ بالفاظ دیگر یہ یک زوجگی کے مقابلہ میں  تعدد ازواج کو اختیار کر نے کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ تعدد ازواج اور جنسی بربادی کے درمیان انتخاب کا مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں  تعدد ازواج کو اختیار کرنا ہے۔

تعدد ازو اج کے حکم کو اگر مجر د طورپر دیکھا جائے تو وہ ایک ایسا حکم معلوم ہوگا جو مردوں کی موافقت میں  بنا یا گیا ہو۔ لیکن اگر اس کو سماج کی عملی صورت حال کے اعتبار سے دیکھیے تو وہ خود عورتوں کی موافقت میں  ہے۔ وہ عورتوں کے مسئلہ کا ایک زیادہ معقول اور فطری بندوبست (arrangement)ہے ، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

اسلام میں  تعد د ازواج کی اجازت مردوںکی جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک مسئلہ کو حل کرنے کی عملی تدبیر ہے۔ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کرنا اسی وقت ممکن ہوگاجب کہ آبادی میں  مردوں کے مقابلے میں  عورتیں زیادہ تعداد میں  پائی جارہی ہوں۔ اگر عورتوں کی تعداد نسبتاً زیادہ نہ ہو تو اس حکم پر عمل کرنا سر ے سے ممکن نہ ہوگا۔ پھر کیا اسلام مردوںکی خواہش کی تکمیل کے لیے ایک ایسا اصول بتا سکتا ہے جو سرے سے قابل حصول اور قابل عمل ہی نہ ہو۔

انسائیکلوپیڈیا برٹا نیکا (1984) نے بجاطورپر لکھا ہے کہ تعدد ازواج کے اصول کو اختیارکرنے کی ایک وجہ جنسی تناسب میں  عورتوں کی زیادتی (surplus of women) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قومیں  تعدد ازواج کی اجازت دیتی ہیں یا اس کو پسند کرتی ہیں، ان میں  بھی مردوں کی بہت بڑی اکثریت فاضل عورتوں کی محدود تعداد کی وجہ سے ایک ہی بیوی پر اکتفا کرتی ہے:

‘‘Among most people who permit or prefer it, the lare majority of men live in monogamy because of the limited number of women.’’

(Encyclopedia Britannica, VIII/97)

اسلام میں  ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت بطور آئیڈ یل نہیں ہے۔ یہ درحقیقت ایک عملی ضرورت (practical reason)کی وجہ سے ہے، اور وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آبادی میں  مردوں کے مقابلے میں  عورتو ں کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس زیادہ تعداد کے باعزت حل کے لیے تعدد ازواج کا اصول مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ایک عملی حل ہے ، نہ کہ نظریا تی آئیڈیل۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion