مدرسہ صدیقیہ کا سفر

مدرسہ صدیقیہ ،سرسیا (چمپارن )کی دعوت پر بہار کا سفر ہوا۔25 مئی 2000کو میں دہلی سے پٹنہ پہنچا اور 27 مئی 2000 کو دہلی واپسی ہوئی۔ اس سفر میں بہت سے تجربات ومشاہدات پیش آئے ان کا مختصر حال یہاں لکھا جاتا ہے۔

پٹنہ ایئرپورٹ پر میں اترا تووہاں مولانا عبدالرحیم امدادی،مسٹر ایم ٹی خان ،مولانا بدر الدین قاسمی ،وغیرہ موجود تھے۔ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہوکر پہلے مسٹر ایم ٹی خان کی رہائش گاہ (عدالت گنج) پہنچا۔یہاں کچھ دیر قیام رہا اور لوگوں سے مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔

مسٹر ایم ٹی خان ہائی کورٹ میں ایک اچھے عہدہ پر ہیں۔ اپنے عہدہ کے لحاظ سے ان کو موجودہ مکان سے زیادہ بڑا سرکاری مکان مل رہا تھا مگر ان کے ہندو پڑوسیوں نے سخت اصرار کیا کہ وہ یہیں رہیں ،وہ دوسرے مکان میں نہ جائیں۔ چنانچہ انہوں نے موجودہ مکان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

26 مئی 2000 کی صبح کو ہمارا قافلہ ہوٹل سے روانہ ہوکر بِتیاکے یتیم خانہ میں پہنچا۔یہ یتیم خانہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ایک،لڑکوں کے لیے ،اور دوسرا ،لڑکیوں کے لیے۔ یتیم خانہ نہایت وسیع رقبہ میں قائم ہے اور تعمیر وغیرہ کے لحاظ سے کافی شاندار ہے۔ یتیم خانہ کے رجسٹر پر میں نے جو الفاظ لکھے وہ یہاں نقل کیے جاتے ہیں:

25 مئی 2000 کو بتیا کا یتیم خانہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔میں نے اس کو اپنی امیدوں سے زیادہ پایا۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو زیادہ سے زیادہ ترقی عطافرمائے۔

کسی بچہ یا بچی کا یتیم ہونا کوئی برائی نہیں۔ یہ ایک نعمت ہے جو فطرت کی طرف سے کسی کو دی جاتی ہے۔اگر یتیم ہونا نعمت نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ پیغمبر اسلام ﷺ کے لیے یتیمی کا انتخا ب نہ فرماتے۔یتیم ہونا کسی بچہ یا بچی کے لیے قدرت کی طرف سے ایک خوشخبری ہے۔اس بات کی خوشخبری کہ تم کو زندگی کے سفر کے لیے وہ کورس عطاکیا گیا ہے جو اس انسان کو عطا ہوا جس کے بارے میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم حضرات بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آپ ﷺ پوری تاریخ بشری کے سب سے زیادہ کا میاب انسان تھے۔

یتیم بچہ یا بچی کو پیدا ہونے کے بعد دنیا میں اپنے فطری امکان کو بروئے کار لانے کے لیے اور کیا چیز ملنی چاہیے اس کا اشارہ اس قرآنی آیت میں ملتاہے۔

أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوى (الضحی،93:6)۔ یعنی، اپنے آغاز حیات میں اپنی زندگی کی تعمیر کے لیے ایک ماویٰ۔ میں سمجھتاہوں کہ یہ یتیم خانہ اور اسی طرح تمام یتیم خانے اسی آیت کی عملی تفسیر ہیں۔ وہ یتیموں کو ماٰوی فراہم کرتے ہیں۔اس طرح کے کام کو میں اپنی زبان میں منصوبۂ خداوندی سمجھتاہوں۔ میری دعاہے کہ اللہ تعالیٰ بتیا کے اس یتیم خانہ کو حقیقی معنوں میں یتیموں کا مأویٰ بنائے اور اس کو زیادہ سے زیادہ ترقی عطافرمائے۔

یتیم خانہ کے ایک طالب علم فصیح اختر (17سال ) نے ایک نعت سنائی۔ غالباً یُتم (orphanhood)نے ان کی آواز کو کافی پراثر بنادیا تھا۔ اس نعت کا ایک شعر یہ تھا:

پتھر کا کلیجہ بھی شق ہوفولاد بھی پانی پانی ہو      اتناہے کلام رب میں اثر جو تم کو اثر معلوم نہیں

یہ یتیم خانہ 1928 سے قائم ہے۔ایک صاحب نے اپنا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ بچپن میں میں یتیم ہوگیا تھا۔ میرے رشتہ دار وں نے مجھے اس یتیم خانہ میں داخل کردیا۔ میرے ساتھ دو یتیم بچے اور تھے۔ ہم تینوں نے یتیم بچوں کی حیثیت سے اس یتیم خانہ میں پرورش پائی۔ اس وقت بظاہر ہمارا کوئی مستقبل نہ تھا۔ مگر آج ہم تینوں اللہ کے فضل سے کامیاب زندگی گزاررہے ہیں۔

       میں نے کہا کہ یہ آپ کے اسی یتیم ہونے کا نتیجہ ہے۔یتیمی کی حالت بہترین حالت ہے۔یتیمی آدمی کے اندر خود شناسی پیدا کرتی ہے۔وہ آدمی کے اندر خو د کفیل بننے کا جذبہ ابھارتی ہے۔یتیم آدمی سمجھتا ہے کہ میرا کوئی سہارا نہیں ،اس لیے مجھ کو خود ہی سارا عمل کرنا ہے۔ اس طرح وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔ یتیمی کے حالات آدمی کو ہیرو بنادیتے ہیں۔

       بتیا میں کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں سے ایک صاحب وہ تھے جن کی عمر 30 سال تھی۔ ان کے والدین کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا۔ رشتہ داروں نے ان سے بڑی بےرحمی برتی۔ حتی کہ ان کو  ایک معمولی مدرسہ میں داخل کردیا۔ چنانچہ ان کا ابتدئی زما نہ تکلیفوں اور مصیبتوں میں گزرا۔بے عزتی اس کے علاوہ تھی۔ اس کے بعد وہ کسی طرح بمبئی پہنچ گئے وہاں انہوں نے محنت کرنا شروع کیا یہاں تک کہ اب وہ ایک کامیاب انسان کی حیثیت سے زندگی گزاررہے ہیں۔ بچپن میں وہ بے سہارا اور یتیم تھے۔ اب وہ پورے معنوں میں ایک سلف میڈمین (self-made man)ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ان کے سینہ میں لوگو ں کے خلاف سخت شکایات ہیں۔ ان کا سینہ ماضی کی تلخ یادوں سے بھرا ہوا ہے۔

 میں نے ان سے نصیحت کے طورپر دوباتیں کہیں۔ ایک بات یہ کہ یاد رکھئے،سب سے بڑی عبادت اللہ کا شکر ہے۔شکر بے حد لطیف چیز ہے۔شکر اور نفرت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ جو آدمی شکر جیسی افضل عبادت کا انعام لینا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے سینہ کو نفرت سے مکمل طورپر پاک رکھے۔گندے برتن میں آپ دودھ رکھیں تو دودھ خراب ہوجائے گا۔اسی طرح نفرت اور انتقام سے بھرے ہوئے سینہ میں شکر جیسے نورانی جذبہ کا جگہ پانا ممکن نہیں۔

دوسری بات ان سے میں نے یہ کہی کہ جن لوگوں نے آپ کو بچپن میں بے سہارا چھوڑ دیا،دراصل یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو ترقی تک پہنچایا۔فطرت کا یہ قانون ہے کہ جو آدمی اپنے آپ کو بے سہارا پائے اس کے اندر عمل کا بے پناہ جذبہ ابھر آتا ہے۔ زندگی کی مشکلا ت کسی انسان کے لیے مہمیزکا حکم رکھتی ہیں۔ اس دنیا میں ترقی کے درجہ تک وہی پہنچتا ہے جس کو زندگی میں جھٹکے لگتے ہیں ،یہ گویا شاک ٹریٹمنٹ کا معاملہ ہے۔یعنی زحمت میں رحمت۔

مولانا قاری بدرالدین قاسمی (29سال) آج کل بمبئی میں رہتے ہیں۔ ان سے بہت سی باتیں ہوئیں۔ ایک موقع پر میں نے کہا کہ اعلانِ حق کوئی مطلق چیز نہیں۔ اگر اعلان حق کوئی مطلق چیز ہوتی تو حدیث میں یہ نہ ہوتا کہ:‌مَنْ ‌صَمَتَ ‌نَجَا (مسند احمد،حدیث نمبر 6481)۔ یعنی، جو چپ رہا اس نے نجات پائی۔ انہوں نے کہا کہ پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے جس کے مطابق رسولﷺ نے فرمایا:مَنْ ‌رَأَى ‌مِنْكُمْ ‌مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ(مسنداحمد،حدیث نمبر 11460)۔ میں نے کہا کہ اس حدیث کو سمجھنے میں عام طورپر سخت غلطی کی جاتی ہے۔اس حدیث میں استطاعت کی شرط لگی ہوئی ہے۔ استطاعت کا مطلب اقدام کی استطاعت نہیں ہے،بلکہ نتیجہ کی استطاعت ہے۔یعنی عملی اقدام یا لسانی اقدام کرکے اگر مطلوب نتیجہ بر آمد کرنا اپنے بس میں ہو تو اقدام کیا جائے گا ورنہ خاموشی اختیار کی جائے گی۔اور صرف دعا پر اکتفا کیا جائے گا۔

اس کے بعد ہم لوگ ساٹھی پہنچے۔ یہاں مدرسہ ریاض العلوم واقع ہے۔وہ1946 میں قائم ہوا۔ وہ ترقی کرتے کرتے ایک بڑا تعلیمی ادارہ بن چکا ہے۔ اس میں لڑکوں کی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

آج جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نمازریاض العلوم کی مسجد میں ادا کی۔نماز کے بعد مسجد میں اجتماع ہوا۔وسیع مسجد پوری طرح بھری ہوئی تھی۔ریاض العلوم کی مسجد کی تقریر میں میں نے دینی تعلیم کی اہمیت اور مدارس دینیہ کے کردار پر خطاب کیا۔ یہ ایک تفصیلی خطاب تھا اس خطاب میں دوسری باتوں کے علاوہ میں نے ایک بات یہ کہی کہ بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اس ملک میں مدارس کے خلاف سازش ہورہی ہے۔مدارس کے خلاف غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں۔ مدارس کے نظام کو تباہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ اس قسم کی مخالفانہ کو ششیں ہر چیز کے خلاف اور ہمیشہ کی جاتی رہی ہیں۔

قرآن کے بیان کے مطابق، یہ دنیا عداوتوں کی دنیا ہے۔ ہمیں عداوتوں کے ماحول میں جینا ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ ہم منفی رد عمل سے بچیں اور مثبت ردّ عمل کے ذریعہ ان حالات کا خاموش مقابلہ کریں۔ میں نے کہا، صحیح البخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ نے فرمایا:إِنَّ ‌اللهَ ‌يُعْطي ‌عَلَى ‌الرِّفق ‌مَا ‌لَا ‌يُعْطي ‌عَلَى ‌العُنْف (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)۔ یعنی، خدا پُرامن عمل پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ منفی ردّ عمل پر نہیں دیتا۔

اس حدیث میں یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ مسائل کا مقابلہ اگر تشد د کے انداز میں کیا جائے تو صرف ناکامی ہمارے حصہ میں آئے گی۔ اس کے برعکس، اگر مسائل کا مقابلہ نرمی او ر امن کے اسلوب میں کیا جائے تو کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔جمعہ کے پروگرام کے بعد ریاض العلوم میں پریس کانفرنس تھی اس میں ’’دینک جاگرن‘‘، ’’ہندستان‘‘ اور دوسرے اخباروں کے نمائندے موجود تھے۔سوال وجواب کی صورت میں یہ کانفرنس دیر تک چلتی رہی۔

ایک ہندو اخبار نویس نے کہا کہ سارے مذہبوں کو ایک کیسے بنایا جائے۔ کیوں کہ جب تک سارے مذاہب ایک نہ ہوجائیں۔ ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ اتحاد قائم نہیں ہوسکتا۔

میں نے کہا کہ اتحاد کا کوئی تعلق مذہبوں کو ایک کرنے سے نہیں ہے۔آپ جانتے ہیں کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے درمیان آپس میں لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کورو اور پانڈو دونوں کا مذہب ایک تھا۔ اس کے باوجود دونوں میں خونیں جنگ ہوئی۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں ہونے والی دوعالمی جنگوں میں دونوں فریق ایک ہی مذہب کو ماننے والے تھے۔ حال کی خلیجی جنگ دوہم مذہب لوگوں کے درمیان ہوئی ،وغیرہ۔

میں نے کہا کہ اتحاد کا راز ٹالر نس ہے۔اگر آپ کو ملک میں اتحاد لانا ہے تو مذہبوں کو بے فائدہ طورپر ایک کر نے کی بات نہ کیجیے۔ بلکہ لوگوں کو اختلاف کے باوجود متحد ہوکر رہنے کا سبق دیجیے۔ لوگوں سے کہئے کہ فرق واختلاف فطرت کا لازمی حصہ ہے۔دوسرے معاملات میں ایسا ہے کہ لوگ فرق اور اختلاف کے باوجود باہمی احترام کے اصول پر زندگی گزارتے ہیں۔ یہی اصول مذہب کے دائرہ میں بھی کارآمد ہے۔

ریا ض العلوم ساٹھی میں برابر لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اور ان سے دینی اور ملّی موضوعات پر تبادلۂ خیال جاری رہا۔ایک صاحب جومیرے ساتھ سفر میں شریک تھے،وہ شہری زندگی کے عادی ہیں۔ ہمارا سفر زیادہ تر دیہاتی علاقوں میں ہوا،جہاں اونچے نیچے راستے تھے۔ ہم کو طر ح طرح کے پرمشقت معاملات سے سابقہ پیش آیا۔ اس تجربہ سے وہ کچھ گھبراگئے اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے سفر کے اس تجربہ کوپر تاسف (deplorable) قرار دیا۔ میں نے کہا کہ اسلام نام ہے ہر واقعہ سے مثبت اثر لینے کا۔مثلاً یہ تکلیف دہ تجربات جو ہمارے ساتھ گزر رہے ہیں ،اس سے ہم کو شکرکی غذا لینا چاہیے۔ کیوں کہ یہ ہمارے لیے صرف ایک وقتی مصیبت ہے،جب کہ وہ ان گاؤں والوں کے لیے مستقل مصیبت ہے۔ہم کو سوچنا چاہیے کہ اللہ نے ہمارے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمایا ہے۔ہم کو اس سخت امتحان میں نہیں ڈالا،جس میں گاؤں اور دیہات کے یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں۔

26مئی کی شام کو مغرب کی نماز ریاض العلوم میں پڑھی گئی۔ اس کے بعدہم لوگ آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے مجھے ریاض العلوم کے تحت بننے والا لڑکیوں کا مدرسہ دکھایا گیا۔یہ ایک کشادہ اور خوب صور ت عمارت تھی۔ آج کل سارے ملک میں جگہ جگہ مسلم لڑکیوں کے لیے اسکول او ر مدرسے بنائے جارہے ہیں۔

یہ ایک بے حد خوش آئندبات ہے۔ کچھ لوگ لڑکیوں کی تعلیم پر خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ حال میں ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ جو لڑکیاں عالمہ اور فاضلہ بن رہی ہیں ان میں طلاق کی شرح دوسری لڑکیوں سے زیادہ ہے۔اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ان تعلیم یافتہ مسلم لڑکیوں کو آسانی سے سروس مل جاتی ہے۔اس لیے ان کے اندر شوہر کے تابع نہ رہنے کا وہی مزاج پیدا ہورہا ہے جو مغربی سماج کی لڑکیوں میں اسی سبب سے پایاجاتاہے۔

میں نے کہا کہ مجھے اس سے بحث نہیں کہ آپ کی یہ اطلاع درست ہے یا نہیں۔ میرے نزدیک زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس دنیا میں نہ سارے مرد معیاری ہوتے ہیں اور نہ ساری عورتیں۔ آپ پڑھائیں یا نہ پڑھائیں اس دنیا میں کبھی بھی نہ تمام خواتین معیاری خواتین بن جائیں گی اور نہ تمام مرد معیاری مرد۔

اس طرح سفر کرتے ہوئے ہم لوگ سرسیا پہنچے۔ یہاں مدرسہ صدیقیہ میں  خطاب کا پروگرام تھا۔اس مدرسہ کو مولانا عبدالرحیم امدادی نے اپنے پیرومرشد قاری محمد صدیق باندوی کے نام پر قائم کیا ہے۔یہاں خطاب کا وقت 10 بجے رات تھا۔یہاں کافی لوگ اکٹھا ہوگئے۔

میں نے اس موقع پر ایک مفصل تقریر کی۔میری تقریر کا موضوع تعلیم دین کی اہمیت تھا۔میں نے کہا کہ تعلیم دین فرض کے درجہ میں ضروری ہے۔تعلیم کا تعلق ایمان سے بہت گہرا ہے۔ایمان کیا ہے،ایمان دراصل دین خدا کی صداقت کو شعوری اور روحانی طورپر دریافت کرنا ہے۔یہ دریافت عام حالات میں علم کے بغیر نہیں ہو سکتی۔

مدرسہ صدیقیہ کے پروگرام میں حاضر ین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ یہاں کافی دیر ہوگئی یہاں تک کہ رات کے بارہ بج گئے۔ رات گزارنے کے لیےہم لوگ ساٹھی آگئے پھر صبح  کے وقت پٹنہ کے لیے روانہ ہوئے، اور27مئی 2000 کی شام کو میں واپس دہلی پہنچا۔

)الرسالہ، اکتوبر 2000(

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion