زیادہ بڑی طاقت
د وصاحبات ملاقات کے لیے آئے۔ دونوں دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔ ان سے گفتگو کے دوران میں نے کہاکہ قرآن ہمارے اندر یہ ذہن بنانا چاہتا ہے کہ ہم عسر میں یسرکو دیکھیں ۔ مگر موجودہ زمانہ میں ہمارے علما اس کا ثبوت نہ دے سکے۔
میں نے کہا کہ ہمارے علما فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ انگریزوں نے پروفیسرآرنلڈ کے ذریعہ کتاب پریچنگ آف اسلام (1896) لکھوائی تاکہ مسلمانوں کے عمل کارخ سیاسی جہاد سے ہٹا کر دعوت و تبلیغ کی طرف موڑ دیں ، مگر علمائے وقت اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ اسی طرح 1930 میں انگریزوں نے علما کو یہ پیش کش کی کہ دہلی میں صفدر جنگ مقبرہ کا پورا علاقہ جوکئی کیلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے ، آپ لوگوں کو دے دیا جائے گا۔ یہاں آپ لوگ تعلیم وتبلیغ کا ادارہ قائم کریں اور سیاسی ٹکراؤ کے میدان سے الگ ہو جائیں ۔ مگرعلما نے اس پیش کش کو حقیر سمجھ کر نظرانداز کر دیا اور بدستور انگریز کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول رہے۔
اس کے بعد میں نے کہا کہ اگر ان علما نے قرآن وسنت کا گہرا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ اس کو عین اسلام کے حق میں سمجھتے اور اس کو قبول کرلیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عین وہی صورتحال تھی جو واقعہ حدیبیہ کے وقت پیش آئی۔ قریش نے مسلمانوں سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کرکے سمجھا کہ ہم نے مسلمانوں سے ان کی تلوار چھین لی۔ حالاں کہ اصل صورت حال یہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں سے ’’تلوار‘‘ چھین کر زیادہ بڑی طاقت انھیں دے دی، اور وہ دعوت کے کھلے مواقع تھے۔ چنانچہ دعوت کی تسخیری طاقت ظاہر ہوئی اور صرف دو سال کے اندر مکہ فتح ہوگیا۔
اسی طرح انگریز اگرچہ علماسے ‘‘تلوار ’’چھین رہے تھے ، مگر اس کے بدلے وہ انھیں عالمی سطح پر تعارف اسلام کے ایسے کھلے مواقع دے رہے تھے جو بلاشبہ ہرتلوار سے زیادہ تسخیری طاقت رکھتے ہیں۔ علما کے شمشیری جہادکا نتیجہ عملاً اسلام اورمسلمانوں کے حق نہیں نکلا۔ لیکن اگر وہ اُس وقت دعوت کے میدان میں متحرک ہو جاتے تو آج خطہ برصغیر کی تاریخ بالکل دوسری ہوتی۔ (ڈائری،17 اگست 1989)
