خاتون لیڈر کا اعتراف
امریکا کی مشہور ناول نگار خاتون اور تحریک نسواں کی لیڈر ہوڈالرمن اپر یل 1987 میں ہندستان آئیں۔ یہاں نئی دہلی میں انھوں نے ٹائمس آف انڈیا کے ایک اسٹاف رپورٹر کو انٹرویو دیا۔ یہ انٹر ویو اخبارمذکور کے شمارہ 30 اپریل 1987 میں شائع ہوا ہے۔ یہ پورا انٹرویو اگلے صفحہ پر نقل کیا جارہا ہے۔
رھوڈالرمن نے کہا کہ میں بہت برُی خبر لے کر آئی ہوں۔ سماج میں عورت کے بدلتے ہوئے کردار پر بولتے ہوئے انھوں نے انکشاف کیا کہ امریکا كے غریبوں میں 77 فی صد تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ ان کے بیان کے مطابق اس کاسبب وہ غیر معمولی فرق ہے جو مردوں اور عورتوں کی کمائی کے درمیان پایا جاتا ہے۔ مردوں کے مقابلہ میں عورتو ں کی کمائی 62 فی صد ہے۔ صرف اس لیے کہ انھیں ہلکے قسم کے کام دیے جاتے ہیں۔یکساں مواقع اور یکساں تنخواہ یکساں کا م کے لیے محض ایک افسانہ ہے۔ عورتیں ابھی تک صرف نچلے اور درمیانی انتظامی شعبوں میں داخل ہو سکی ہیں۔
ان کا خیا ل ہے کہ یہ امتیاز مردانہ تعصب کی بنا پر ہے جو عورتوں کے خلاف کا م کررہا ہے۔ مردوں کا کہنا ہے کہ عورتوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ وہ زچگی کی چھٹی لیتی ہیں اور بچے پالتی ہیں۔ اگرچہ94 فی صد کام کرنے والی عورتوں کے یہاں بچے ہیں، ان میں سے صرف 67 فی صد اس اندیشہ کے بغیر زچگی کی چھٹی سے فائدہ اُٹھا پاتی ہیں کہ اس سے ان کی ملازمت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم سینیر ٹی کا نقصان انھیں ہمیشہ اٹھانا پڑتا ہے۔ زچگي اور بچوں کی پرورش تنخواہوں میں زبردست فرق کا سبب ہیں۔ معاشی حقیقت روحانی برابری سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ آزادی ِنسواں کے علم برداروں نے جنسی برابری اور اسقاط کے حق کے لیے شوروغل کیا اور اس کو حاصل کرلیا، وہ اس معاشی تبا ہی کااندازہ نہ کر سکے جوکہ اس کے بعد آنے والی تھی۔
انقلابی نسوانی تحریک کے تحت عورت اور مرد برابر مان لیے گئے ہیں، مگر عورت کو اس کے حیاتیاتی فرق کی کوئی رعایت نہیں ملی۔ مثال کے طورپر، امریکا میں ہر دوشادی میں سے ایک شادی طلاق پر ختم ہوتی ہے۔ اس کے بعد بچہ کی پرورش کی ذمہ داری تنہا عورت پر آجاتی ہے۔ نفقہ اور گزارہ محض لفظی قوانین ہیں ، وہ بہت ہی کم عمل میں آتے ہیں۔ صرف 5 سے10 فی صد تک ایسے مرد ہیںجو گزارہ اداکرتے ہیں، اور وہ بھی صرف پہلے سال تک۔بعد کے سالوںميں پورا بوجھ صرف ماں کواٹھانا پڑتا ہے۔ اس طرح زندگی کامعیارایک مطلقہ عورت کے لیے 73 فی صد تک گھٹ جاتا ہے، اور مرد کا اس کے مقابلہ میں 43 فی صد بڑھ جاتا ہے۔ اس قسم کی اکیلے کی زندگی کو مغرب میں مونو پیرنٹ (Monoparent)کہا جانے لگا ہے۔
ایسے گھروں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن میں صرف عورت ذمہ دار ہو اور وہ تنہا ماں اور باپ دونوں کا کردار ادا کرے۔ چنانچہ اگلے دس برسوں میں 40 تا50 فی صد بچے وہ ہوں گے جو ایسے گھروں میں پرورش پائیں گے جن کی ذمہ دار صرف عورت ہو۔ یہ ایک غیر صحت مندانہ مظہر ہے جس کے نتیجہ میں بچوں میں خود کشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ خاندانی نظام میں انحصار کے فقدان کی وجہ سے خود کشی بچوںکی خصوصیت بن رہی ہے۔
اشتراکی نسوانیت جو کہ مرد اور عورت کے درمیان پائے جانے والے ناگز یر فرق کو ملحوظ رکھتی ہے آج وقت کی پکار ہے۔ امریکی زندگی کے بارے میں (ابتداء ً) ہمارا ایک بڑھا ہوا خواب تھا— ایک شوہر جو کام کرے ، شہر کے کنارے ایک مکان ، دولڑکے، دوکاریں اور ماں جو گھرپر رہے اور کیک بنا ئے(مگر آزادیِ نسواں کی تحریک نے اس خواب کو منتشرکردیا)۔
خاندانی نظام کے ٹوٹنے کے بعد صرف حکومت کی مدد ہی مسئلہ کو حل کرسکتی ہے۔ حکومت کی طرف سے بچوںکی نگہداشت کے لیے مراکز ہوں ، زچگی کی سہولت ہو اور تنہا عورت کی معاشی کمیوں کی تلافی کے لیے اس کو مدد دی جائے۔ اگر ایسانہ ہوا تو ہماری فتوحات جھوٹی فتوحات بن کررہ جائیں گی یاویسی ہی آزادی جس کا تجربہ چتا کے اوپر ہوتا ہے۔
A Pyrrhic Victory
‘‘I come with very bad news,’’ says Rhoda Lerman. Speaking on the changing role of women in society, she revealed that 77 percent of the poor in America are women and children.
The reason she offers is the high wage differential between the earnings of men and women. Women earn 62 percent of what men earn, merely because of the "pink-collared” jobs offered to them. ‘‘Equal opportunities and equal pay for equal work are just a myth,” she declares. Women have been able to infiltrate only the lower and middle management and are offered innumerable jobs in food chains and the secretarial cadres.
This discrimination, she believes, is due to the male bias which works against women, branding them as ‘undependable, since they go in for maternity leave and have children.’ Although 96 percent of the working women have children, only 67 percent of them can enjoy maternity leave, without fear of jeopardising their jobs. However, seniority almost always suffers, says Ms. Lerman. ‘‘Maternity and childcare are the cause of high wage differentials,’’ she adds, ‘‘economic reality having nothing to do with spiritual equality.’’ Activists had clamored for sexual equality and abortion rights and won them, without anticipating the economic backlash that would ensue.
With radical feminism accepted as the code, women are treated as equal, without any concessions to their biological differences. For instance, one out of two marriages in America is ending in divorce, with the responsibility of childcare devolving on the mother alone. Alimony and maintenance are merely laws, rarely put into practice. A mere 5-10 percent of the men pay maintenance, and that too, only for the first year.
For the rest, the burden is borne solely by the mother. Thus, the quality of life of a divorced woman reduces by 73 percent and that of a man increases by 43 percent.
Single households, headed by women trying to play the role of ‘‘super-moms,’’ are on the increase, she revealed. In the next ten years, therefore, 40-50 percent of the children will be living in female-headed households, an unhealthy phenomenon, which has its repercussions in increased suicides amongst children. ‘‘Due to a lapse in the dependency structure, suicide is becoming endemic amongst children,’’ she said.
Socialist feminism, which takes into account the intrinsic differences between men and women, is the call of the hour, Ms. Lerman believes. We have had an excess of the American dream—of a husband who works, a house in the suburbs, two children, two cars and a mother who stays at home and bakes cookies.
With the family structure falling apart, she feels that only government support in the form of day-care centers, maternity leave benefits and subsidies to override the economic limitations of single women can hold the social fabric together. ‘‘Otherwise, our victories will be merely Pyrrhic victories,’’ 34 she predicts, similar, perhaps to the freedom experienced on the funeral pyre.’
(The Times of India, New Delhi, April 30. 1987)
امریکا کی خاتون لیڈر نے مذکورہ بیان میں اعتراف کیا ہے کہ تحریک نسواں کی کامیابیاں پر ک فتوحات (pyrric victories)بن کررہ گئی ہیں۔ تیسری صدی قبل مسیح میں ایک یونانی بادشاہ تھا جس کا نام پرھس (Pyrrhus)تھا۔ اس نے 281 ق م میں اٹلی پر حملہ کیا۔ لمبی جنگ کے بعد اس کو فتح حاصل ہوئی۔ مگر فتح تک پہنچتے پہنچتے وہ اپنا سب کھوچکا تھا۔ چنانچہ بعدکو 275 ق م کی جنگ میں اس کو دوبارہ شکست ہوئی۔ 272 ق م میں اس کو قتل کردیا گیا۔ پرک وکٹری اسی کی طرف منسوب ہے۔ اس کا مطلب ہے۔ ایسی فتح جو بربادی لے کر آئے۔
یہ صحیح ترین لفظ ہے جو جدید عورت کی فتح کے بارے میں بولا جاسکتا ہے۔ جدید عورت نے لمبی جدوجہد کے بعد’’ مساوات‘‘ حاصل کی۔ مگر اس خیالی مساوات کو حاصل کرنے تک وہ اپنا سب کچھ کھو چکی تھی۔مذکورہ خاتون کا کہنا ہے کہ مغربی عورت کی محرومی کی تلافی کی اب صرف ایک صورت ہے۔ یہ کہ حکومت اس کی سرپرست بن جائے، وہی حکومت جو آج بھی پوری طرح مردوں کے قبضہ میں ہے۔ گھر یلومرد کی سرپرستی پر عورت راضی نہ تھی۔ اس کی قیمت میں عورت کو حکومتی مرد کی سرپرستی پر راضی ہونا پڑا۔
