اسلامی تخریب کاری
ایک خبر پڑھئے: نائجیریا کی احمد وبیلو یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں عرصہ سے شراب کی ایک کنٹین قائم تھی۔ یونیورسٹی کے ’’اسلام پسند‘‘ طلبہ اس کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مگر انتظامیہ اس کو نہیں مان رہی تھی۔ معاملہ اسی طرح ٹلتا رہا۔ یہاں تک کہ لڑکوں نے نوٹس دے دیا کہ شراب خانہ اگر ہال سے ہٹایا نہیں گیا تو وہ اس کو توڑ ڈالیں گے۔ یونیورسٹی کے حکام نے اس کے جواب میں کہا کہ جو لوگ ایسا کریں گے ان کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ طلبہ اور انتظامیہ کی یہ کش مکش بالآخر 5 مئی 1981ء کو بھڑک اٹھی۔ طلبہ نے دھاوابول کر شراب خانہ کو توڑ دیا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے اسی تخریبی کارروائی میں ملوث 24 طلبہ کو گرفتار کرلیا۔ اس کے بعد اور آگ بھڑکی۔ طلبہ نے یونیورسٹی حکام کے ’’غیر اخلاقی رویہ‘‘ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یونیورسٹی کے درودیوار کو اسلامی نعروں سے بھر دیا۔ اس واقعہ کے بعد یونیورسٹی کی دو طالبات نے قومی ترانہ میں شرکت سے انکار کر دیا۔ کیونکہ ان کے مطابق قومی ترانہ میں ’’خدا پرستی کے بجائے قوم پرستی کا ذکر ہے‘‘۔ اب حکومت نے مزید37 طلبہ کو گرفتار کرلیا۔ اس ہنگامہ آرائی میں ہزاروں طلبہ کا تعلیمی نقصان ہوا اور مسئلہ بدستور اپنی جگہ باقی رہا (7 اگست 1981ء)۔
عرب کے لوگ شراب پیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سالوں تک ان کو سمجھاتے رہے اور ان کے دل کو نرم کرتے رہے تاکہ وہ شراب کی برائی کو سمجھ جائیں اور خود اپنے ہاتھ سے شراب کے مٹکے توڑ ڈالیں۔ آج ان کے ماننے والے ان کے نام پر تخریب کاری کے ذریعہ شراب کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ اس کھلے ہوئے تضاد کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ وہ عین اسلام پر عمل کر رہے ہیں۔
لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ’’شراب پینے والوں کے پاس ایک دن بھی اس جذبہ سے نہیں گئے کہ ان کو دل سوزی اور خیر خواہی کے انداز میں سمجھائیں۔ ان کی ایک رات کی نیند بھی ان کے حق میں دعائیں کرنے میں خراب نہیں ہوئی۔ انہوں نے ایک بار بھی اس بات کا ثبوت نہیں دیا کہ وہ فی الواقع اپنے بھائیوں کی گمراہی پر تڑپ رہے ہیں اور ان کے برے انجام کے غم میں ان کا یہ حال ہو رہا ہے گویا کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔ ان کا سارا شوق بس یہ ہے کہ لوگوں کے اوپر خدائی فوجدار بن کر کھڑے ہو جائیں۔ وہ خدا کی نظر میں داعی اور مصلح بننا چاہتے ہیں حالانکہ انہوں نے ایک دن بھی دعوت اور اصلاح کا عمل نہیں کیا۔
اس قسم کی اسلامی تخریب کاری آج بہت بڑے پیمانہ پر مسلم دنیا میں جاری ہے۔ مگر ان چیزوں کا کوئی بھی تعلق اسلام سے نہیں۔ یہ سراسر لیڈری ہے۔ کچھ لوگ اس نام پر لیڈری کے ہنگامے برپا کیے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ اس نام پر۔ کچھ لوگ ایک عنوان پر اپنے حریف کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ دوسرے عنوان پر۔ جو لوگ اس تخریبی سیاست میں مصروف ہیں وہ بلاشبہ مجرم ہیں اور جو لوگ اس تخریب کاری کے حق میں اسلامی جواز پیش کر رہے ہیں وہ مجرموں کے لیڈر۔
