تنقید کوئی برائی نہیں
بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ کام کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اُس میں تنقید کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ غیر تنقیدی انداز عوام کی بھیڑ جمع کرنے کے لیے تو یقیناً مفید ہے مگر وہ کسی گہرے اصلاحی کام کے لیے ہرگز مفید نہیں۔
تنقید کوئی برائی نہیں، تنقید ایک اعلیٰ نوعیت کا ذہنی عمل ہے۔ تنقید انسان کی فکری ترقی کے لیے ضروری ہے۔ جہاں تنقید نہیں وہاں فکری ترقی بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید کو امر ممنوع (taboo) قرار دینے کا نتیجہ سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہو گا کہ لوگوں کے درمیان بے تنقید حالت قائم ہو جائے۔ بلکہ عملاً جو کچھ ہو گا وہ یہ کہ لوگ ذہنی جمود میں مبتلا ہوجائیں گے۔ اُن کے درمیان سوچنے کا عمل (thinking process) رُک جائے گا۔ اور جس انسانی سماج میں سوچنے کا عمل رک جائے وہ دھیرے دھیرے ایک ایسا سماج بن جائے گا جہاں لوگ جسمانی اعتبار سے بظاہر انسان دکھائی دیں گے، مگر اپنی عقل و فہم کے لحاظ سے وہ حیوانی سطح پر ہوں گے۔ وہ اعلیٰ فکری ترقی سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ جب کہ اس دنیا میں اعلیٰ فکری ترقی ہی کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
