فطری طریقہ
جب بھی قومی تعمیر کا کوئی ایسا منصوبہ سامنے لایا جائے جس میں لمبی مدت کی جدو جہد کے بعد نتیجہ نکلنے والا ہو تو لوگ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ اس میں تو بہت وقت لگے گا، اور ہم کو لمبے انتظار کا موقع نہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک الٹا تبصرہ ہے ۔
گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو دیر طلب منصوبوں سے گھبرا کر فوری تدبیروں کی طرف دوڑنا، منزل پر پہنچنے کی مدت کو اور لمبا کرنا ہے ۔ دیر طلب منصوبہ تو بہر حال ایک وقت پر مکمل ہو جاتا ہے۔ مگر مختصر راستوں پر دوڑ نا صرف وقت ضائع کرنا ہے۔ کیوں کہ ایسے راستے کبھی اپنے مسافر کو منزل تک نہیں پہنچاتے۔
جو شخص درخت کی بڑی بڑی شاخوں کو گاڑ کر آنًا فانًا اپنے سامنے ایک ہرا بھرا باغ دیکھنا چاہتا ہو، اس کو پودے لگا کر باغبانی کا طریقہ بتائیے تو اس کی سمجھ میں اس قسم کی شجر کاری کبھی نہیں آئے گی ۔ وہ کہے گا کہ یہ تو بہت لمبا منصوبہ ہے۔ حالاں کہ اگر مستقبل کے لحاظ سے دیکھیے تو خود اسی کا منصوبہ غیر متناہی طور پر لمبا ہے ۔ کیوں کہ شاخیں گاڑنے والے کو تو ہزار سال میں بھی باغ دیکھنا نصیب نہیں ہو سکتا۔ جب کہ پودے لگانے والے کے لیے بہر حال ایک ایسا وقت آتا ہے جبکہ وہ ہرےبھرے باغ کا مالک بن جائے ، خواہ یہ وقت ۲۵ برس بعد آئے یا پچاس برس بعد ۔
جس طرح باغبانی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں، اسی طرح زندگی کی تعمیر میں بھی کوئی شارٹ کٹ نہیں ۔ یہ کام بہر حال طویل المدت منصوبہ ہی کے ذریعہ ہو گا۔ خواہ ہم اس کو آج شروع کریں، یا آج کے بہت دنوں بعد اس وقت شروع کریں جب کہ کام کا پہلا قیمتی موقع ہمارےہاتھ سے نکل گیا ہو۔
فطرت کا یہ طریقہ کسی انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے ۔ وہ خود خدا کا بنایا ہوا ہے جس خدا نے دنیا کو بنایا ہے اسی نے اس کے لیے یہ قانون بھی وضع کیا ہے ۔ انسان جس طرح اپنے رہنے کے لیے کوئی اور دنیا پیدا نہیں کر سکتا، اسی طرح اس کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی اور قانون وضع کر سکے۔
