تبصرہ
پچھلے صفحات میں ہم نے ان مخالف مذہب استدلالات کاذکرکیاہے،جواس بات کے ثبوت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں کہ دورِ جدید نے مذہب کے لیے کوئی علمی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک بے بنیاددعویٰ ہے۔جدیدطریقِ فکر نے مذہب کوکسی بھی درجہ میں کوئی نقصان نہیں پہنچایاہے۔اگلے ابواب میں ہم مذہب کے بنیادی تصورات کوایک ایک کرکے لیں گے اوردکھائیں گے کہ کس طرح مذہب آج بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے، جیسے کہ وہ پہلے تھا۔یہاں گزشتہ دلائل پرایک عمومی تبصرہ پیش کیاجاتاہے۔
1۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے اس دلیل کولیجیے،جوطبیعیاتی تحقیق کے حوالے سے پیش کی گئی ہے،یعنی کائنات کامطالعہ کرنے سے معلوم ہواکہ یہاں جوواقعات ہورہے ہیں ، وہ ایک متعین قانونِ فطرت کے مطابق ہورہے ہیں ، ا س لیے ان کی توجیہ کرنے کے لیے کسی نامعلوم خدا کا وجود فرض کرنے کی ضرورت نہیں ۔ کیوں کہ معلوم قوانین خوداس کی توجیہ کے لیے موجودہیں ۔ اس استدلال کا بہترین جواب وہ ہے جوایک عیسائی عالم نے دیاہے، اس نے کہا:
Nature is a fact, not an explanation
یعنی فطرت کاقانون کائنات کاایک واقعہ ہے،وہ کائنات کی توجیہ نہیں ہے۔ تمہارا یہ کہناصحیح ہے کہ ہم نے فطرت کے قوانین معلوم کرلیے ہیں ۔ مگرتم نے جوچیزمعلوم کی ہےوہ اس مسئلے کاجواب نہیں ، جس کے جواب کے طورپرمذہب وجودمیں آیاہے۔ مذہب یہ بتاتاہے کہ وہ اصل اسباب ومحرکات کیاہیں جوکائنات کے پیچھے کام کررہے ہیں ۔ جب کہ تمہاری دریافت صرف اس مسئلہ سے متعلق ہے کہ کائنات جوہماری سامنے کھڑی نظرآتی ہے،اس کاظاہری ڈھانچہ کیاہے۔ جدیدعلم جوکچھ ہمیں بتاتاہے وہ صرف واقعات کی مزید تفصیل ہے، نہ کہ اصل واقعہ کی توجیہ۔سائنس کاساراعلم اس سے متعلق ہے کہ’’جوکچھ ہے وہ کیاہے‘‘۔یہ بات اس کی دسترس سے باہر ہے کہ “جوکچھ ہے، وہ کیوں ہے‘‘۔ جب کہ توجیہ کاتعلق اسی دوسرے پہلوسے ہے۔
اس کوایک مثال سے سمجھیے۔مرغی کابچہ ا نڈے کے مضبوط خول کے اندرپرورش پاتا ہے، اور اس کے ٹوٹنے سے باہرآتاہے۔ یہ واقعہ کیوں کرہوتاہے کہ خول ٹوٹے اوربچہ جو گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں ہوتا، وہ باہرنکل آئے۔پہلے انسان اس کاجواب یہ دیتا تھا کہ”خدا ایسا کرتا ہے‘‘۔ مگراب خوردبینی مشاہدہ کے بعد معلوم ہواکہ 21روزکی مدت پوری ہونے والی ہوتی ہے، اس وقت ننھے بچے کی چونچ پرایک نہایت چھوٹی سے سخت سینگ ظاہرہوتی ہے،اس کی مددسے وہ اپنے خول کو توڑکرباہر آجاتاہے۔سینگ اپناکام پورا کر کے بچہ کی پیدائش کے چنددن بعد خودبخود جھڑجاتی ہے۔
مخالفین مذہب کے نظریے کے مطابق یہ مشاہدہ اس پرانے خیال کوغلط ثابت کردیتا ہے کہ بچہ کوباہرنکالنے والاخداہے۔کیوںکہ خوردبین کی آنکھ ہم کو صاف طور پردکھارہی ہے کہ ایک 21روزہ قانون ہے جس کے تحت وہ صورتیں پیداہوتی ہیں ، جوبچہ کوخول کے باہر لاتی ہیں ۔ مگریہ مغالطہ کے سوااورکچھ نہیں ۔ جدیدمشاہدہ نے جوکچھ ہمیں بتایاہے،وہ صرف واقعہ کی چندمزیدکڑیاں ہیں ، اس نے واقعہ کااصل سبب نہیں بتایا۔ اس مشاہدہ کے صورت حال میں جوفرق پیداہواہے، وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ پہلے جوسوال خول کے ٹوٹنے کے بارے میں تھا،وہ “سینگ‘‘ کے اوپر جا کر ٹھہر گیا۔ بچہ کا اپنی سینگ سے خول کوتوڑنا واقعہ کی صرف ایک درمیانی کڑی ہے،وہ واقعہ کاسبب نہیں ہے۔ واقعہ کاسبب تواس وقت معلوم ہوگاجب ہم جان لیں کہ چونچ پرسینگ کیسے ظاہرہوئی۔دوسرے لفظوں میں ا س آخری سبب کاپتہ لگالیں، جوبچہ کی اس ضرورت سے واقف تھاکہ اس کوخول سے باہرنکلنے کے لیے کسی سخت مددگارکی ضرورت ہے، اوراس نے مادہ کومجبورکیاکہ عین اس وقت پر ٹھیک 21 روز بعد بچہ کی چونچ پرایک ایسی سینگ کی شکل میں نمودارہوجواپناکام پوراکرنے کے بعدجھڑجائے۔ گویاپہلے یہ سوال تھاکہ”خول کیسے ٹوٹتاہے‘‘، اوراب سوال یہ ہوگیاکہ”سینگ کیسے بنتی ہے‘‘۔ ظاہرہے کہ دونوں حالتوں میں کوئی نوعی فرق نہیں ۔اس کوزیادہ سے زیادہ حقیقت کاوسیع ترمشاہدہ کہہ سکتے ہیں حقیقت کی توجیہ کانام نہیں دے سکتے۔
یہاں میں ایک امریکی عالم حیاتیات سیسل بوائس ہیمن (1913-1984) کے الفاظ نقل کروں گا:
“غذاہضم ہونے اورا س کے جزءبدن بننے کے حیرت انگیزعمل کوپہلے خداکی طرف منسوب کیاجاتاتھا، اب جدیدمشاہدہ میں وہ کیمیائی ردِ عمل کانتیجہ نظرآتاہے۔ مگرکیااس کی وجہ سے خداکے وجودکی نفی ہوگئی۔آخرکون طاقت ہے،جس نے کیمیائی اجزاء کوپابندکیاکہ وہ اس قسم کامفیدردِ عمل ظاہرکریں۔غذاانسان کے جسم میں داخل ہونے کے بعدایک عجیب و غریب خودکارانتظام کے تحت جس طرح مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ اس کودیکھنے کے بعد یہ بات بالکل خارج از بحث معلوم ہوتی ہے کہ حیرت انگیزانتظام محض اتفاق سے وجود میں آگیا۔حقیقت یہ ہے کہ اس مشاہدہ کے بعدتواورزیادہ ضروری ہوگیاہے کہ ہم یہ مانیں کہ خدا اپنے ان عظیم قوانین کے ذریعہ عمل کرتاہے، جس کے تحت اس نے زندگی کو وجود دیاہے۔‘‘
The Evidence of God in an Exapanding Universe, p. 221
اس سے آپ جدید دریافتوں کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ سائنس نے کائنات کے بارے میں انسان کے مشاہدے کوبہت بڑھادیاہے۔اس نے دکھادیاہے کہ وہ کون سے فطری قوانین ہیں ،جن میں یہ کائنات جکڑی ہوئی ہے،اورجس کے تحت وہ حرکت کررہی ہے۔مثلاًپہلے آدمی صرف یہ جانتاتھاکہ پانی برستاہے،مگراب سمندرکی بھاپ اٹھنے سے لے کربارش کے قطرے زمین پرگرنے تک کاوہ پوراعمل انسان کومعلوم ہو گیا ہے، جس کے مطابق بارش کاواقعہ ہوتاہے۔ مگریہ ساری دریافتیں صرف واقعہ کی تصویرہیں ، وہ واقعہ کی توجیہ نہیں ہیں ۔سائنس یہ نہیں بتاتی کہ فطرت کے قوانین کیسے بن گئے۔وہ کیسے اس قدرمفیدشکل میں مسلسل طورپرزمین وآسمان میں قائم ہیں ، اوراس صحت کے ساتھ قائم ہیں کہ ان کی بنیادپرسائنس میں قوانین مرتب کیے جاتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ وہ فطرت جس کومعلوم کرلینے کا مدعی بن کر انسان یہ کہنے لگاہے اس نے کائنات کی توجیہ دریافت کرلی، وہ محض دھوکاہے۔یہ ایک غیرمتعلق بات کوسوال کاجواب بناکرپیش کرناہے۔یہ درمیانی کڑی کوآخری کڑی قراردیناہے۔یہاں پھرمیں مذکورہ عالم کے الفاظ دہراؤں گا— فطرت کائنات کی توجیہ نہیں کرتی، وہ خوداپنے لیے توجیہ کی طالب ہے:
Nature does not explain, she herself is in need of an explanation.
اگرآپ کسی ڈاکٹرسے پوچھیں کہ خون سرخ کیوں ہوتاہے،تووہ جواب دے گاکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے چھوٹے سرخ اجزا ہوتے ہیں (ایک انچ کے سات ہزارویں حصہ کے برابر) یہی سرخ ذرات خون کوسرخ کرنے کاسبب ہیں ۔
“درست،مگریہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں ۔‘‘
“ان ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتاہے،جس کانام ہیموگلوبین (Haemoglobin) ہے۔ یہ مادہ جب پھیپھڑے میں آکسیجن جذب کرتاہے توگہراسرخ ہوجاتاہے۔‘‘
“ٹھیک ہے، مگرہیموگلوبین کے حامل سرخ ذرات کہاں سے آئے۔‘‘
“وہ آپ کی تلی میں بن کرتیارہوتے ہیں ۔‘‘
“ڈاکٹرصاحب! جوکچھ آپ نے فرمایاوہ بہت عجیب ہے،مگرمجھے بتائیے کہ ایساکیوں ہے کہ خون،سرخ ذرات،تلی اوردوسری ہزاروں چیزیں اس طرح ایک کُل کے اندرباہم مربوط ہیں ، اور اس قدرصحت کے ساتھ اپنااپناعمل کررہی ہیں ۔‘‘
“یہ قدرت کاقانون ہے۔‘‘
“وہ کیاچیزہے جس کوآپ قانون قدرت کہتے ہیں ۔‘‘
“اس سے مرادہےطبیعی اورکیمیائی طاقتوں کااندھاعمل۔‘‘
(Blind interplay of physical and chemical forces)
“مگرکیاوجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میں عمل کرتی ہیں ، جوانھیں ایک متعین انجام کی طرف لے جائے۔کیسے وہ اپنی سرگرمیوں کواس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیااڑنے کے قابل ہوسکے، ایک مچھلی تیرسکے،ایک انسان اپنی مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ وجودمیں آئے۔‘‘
“میرے دوست مجھ سے یہ نہ پوچھو۔سائنس داں صرف یہ بتاسکتاہے کہ جوکچھ ہورہا ہے، وہ کیاہے۔ اس کے پاس اس سوال کاجواب نہیں ہے کہ جوکچھ ہو رہا ہے،وہ کیوں ہورہاہے۔‘‘
یہ سوال وجواب واضح کررہاہے کہ سائنسی دریافتوں کی حقیقت کیاہے۔بلاشبہ سائنس نے ہم کوبہت سی نئی نئی باتیں بتائی ہیں ،مگر مذہب جس سوال کاجواب ہے، اس کاان دریافتوں سے کوئی تعلق نہیں ، اس قسم کی در یافتیں اگرموجودہ مقدارکے مقابلے میں اربوں کھربوں گنابڑھ جائیں،جب بھی مذہب کی ضرورت باقی رہے گی،کیوں کہ یہ دریافتیں صرف ہونے والے واقعات کوبتاتی ہیں ، یہ واقعات کیوں ہورہے ہیں اوران کاآخری سبب کیاہے،اس کاجواب ان دریافتوں کے اندرنہیں ہے،یہ تمام کی تمام دریافتیں صرف درمیانی تشریح ہیں ،جب کہ مذہب کی جگہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ آخری اورکلی تشریح دریافت کرلی جائے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی مشین کے اوپرڈھکن لگا ہوا ہوتوہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ چل رہی ہے،اگرڈھکن اتاردیاجائے توہم دیکھیں گے کہ باہر کا چکّر کس طرح اورایک چکّر سے چل رہاہے،اوروہ چکر کس طرح دوسرے بہت سے پرزوں سے مل کر حرکت کرتاہے،یہاں تک کہ ہوسکتاہے کہ ہم اس کے سارے پرزوں اوراس کی پوری حرکت دیکھ لیں، مگرکیااس علم کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے مشین کے خالق اوراس کے سبب حرکت کارازبھی معلوم کرلیا،کیاکسی مشین کی کارکردگی کوجان لینے سے یہ ثابت ہوجاتاہے کہ وہ خودبخودبن گئی ہے، اور اپنے آپ چلی جارہی ہے۔اگرایسانہیں ہے توکائنات کی کارکردگی کی بعض جھلکیاں دیکھنے سے یہ کیسے ثابت ہوگیاکہ یہ ساراکارخانہ اپنے آپ قائم ہوا،اوراپنے آپ چلا جا رہا ہے۔ ہیریس(A. Harris) نے یہی بات کہی تھی، جب اس نے ڈارونزم پرتنقیدکرتے ہوئے کہا:
"Natural selection may explain the survival of the fittest, but cannot explain the arrival of the fittest," (Revolt Against Reason by A. Lunn, p.133)
یعنی انتخاب طبیعی کا قانون صرف زندگی کے بہترمظاہرکے باقی رہنے کی توجیہ کرسکتاہے،وہ یہ نہیں بتاتاکہ یہ بہترزندگیاں خودکیسے وجودمیں آئیں۔
2۔ اب نفسیاتی استدلال کولیجیے۔کہاجاتاہے کہ خدااوردوسری دنیاکاتصورکوئی حقیقی چیزنہیں ہے،بلکہ یہ انسانی شخصیت اورانسانی آرزوؤں کوکائناتی سطح پرقیاس کرناہے۔ لیکن میرے لیے ناقابل تصورہے کہ اس میں استدلال کاپہلوکیاہے۔ اس کے جواب میں اگر میں کہوں کہ فی الواقع انسانی شخصیت اورانسانی آرزووئیں کائناتی سطح پرموجودہیں تومجھے نہیں معلوم کہ مخالفین کے پاس وہ کون سی حقیقی معلومات ہیں جن کی بنیادپروہ اس کی تردیدکرسکیں گے۔
ہم جانتے ہیں کہ جنین کاخوردبینی مادہ چھ فٹ لمبے چوڑے انسان کی سطح پرایک شخص کی موجودگی کی پیشین گوئی ہے۔ناقابل مشاہدہ ایٹم میں وہ نظام پایاجاتاہے،جو شمسی نظام کی سطح اربوں میل کے دائرے میں گردش کررہاہے۔پھرشعورجس کاہم انسان کی صورت میں تجربہ کررہے ہیں ، وہ اگر کائناتی سطح پرزیادہ مکمل حالت میں موجودہوتواس میں تعجب کی کیابات ہے۔اسی طرح ہمارا ضمیر اورہماری فطرت جس وسیع تر دنیاکوچاہتے ہیں وہ اگرایک ایسی دنیاکی بازگشت ہوجوفی الواقع کائنات کے پردہ میں موجودہے تو اس میں آخراستحالہ (impossibility)کا کیا پہلو ہے۔
الف:علمائے نفسیات کایہ کہنابجائے خودصحیح ہے کہ بچپن میں بعض اوقات ایسی باتیں ذہن میں پڑجاتی ہیں جوبعدکوغیرمعمولی شکل میں ظاہرہوتی ہیں ۔ مگراس سے یہ استدلال کرناکہ انسان کی یہی وہ خصوصیت ہے،جس نے مذہب کوپیداکیا،بالکل بے بنیادقیاس ہے۔ یہ ایک معمولی واقعہ سے غیرمعمولی نتیجہ اخذکرناہے۔یہ ایسی ہی بات ہے، جیسے میں کسی کمہارکومٹی کی مورت بناتے ہوئے دیکھوں توپکاراٹھوں کہ بس یہی وہ شخص ہے،جوذی روح انسان کاخالق ہے۔کھلونا سازی اور انسان سازی میں بعض اعتبار سے یقیناً مشابہت ہے، مگر دونوں کی نوعیت میں اتنا فرق ہے کہ ایک واقعہ سے دوسرے واقعہ پر قیاس کرنا، ایک غیر منطقی قیاس(illogical argument) ہے۔ کمہار بیشک مٹی کے کھلونوں کابنانے والا ہے، مگریہ کہناکہ اسی طرح کوئی اورکمہارتھا،جس نے خوداس کمہار کو بنایا،ایک بے تکی بات کے سوااورکچھ نہیں ۔
جدیدطرزِ فکرکی یہ عام کمزوری ہے کہ وہ معمولی واقعہ سے غیرمعمولی استدلال کرتا ہے، حالانکہ منطقی اعتبارسے ا س استدلال میں کوئی وزن نہیں ، اگرایساہوتاہے کہ ایک شخص لاشعور میں دبے ہوئے خیالات کے تحت کبھی خلافِ معمول الفاظ کا منھ سے نکالنےلگتا ہے، تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوگیاکہ انبیاء کی زبان سے کائنات کے جس علم کاانکشاف ہواہے، وہ بھی اسی طرح محض لاشعور کا ایک کرشمہ ہے۔ پہلے واقعہ کوتسلیم کرتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں اس سے دوسرے واقعہ کے بارے میں استدلال کرناایک غیرعلمی اورغیرمنطقی روش کا مظاہرہ کرناہے، یہ صرف اس بات کاثبوت ہے کہ توجیہ کرنے والے کے پاس نبی کے غیرمعمولی کلام کوسمجھنے کے لیے کوئی اور معیار موجود نہیں تھا،اس کو ایک ہی بات معلوم تھی— یہ کہ بعض مرتبہ کوئی شخص خواب یاجنون یابے ہوشی کی حالت میں کچھ ایسی باتیں زبان سے نکالنے لگتاہے جوعام طورپرہوش کی حالت میں کسی کی زبان سے ادانہیں ہوتیں،اس نے فورًاکہہ دیاکہ بس یہی وہ چیزہے جومذہبی قسم کی باتوں کی ذمہ دار ہے، حالانکہ کسی کے پاس حقیقت کوناپنے کاایک ہی معیارہوتواس سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ بطور واقعہ بھی حقیقت کوناپنے کاایک ہی معیارہوگا۔
فرض کیجیے کہ دورکے کسی سیارہ سے ایک ایسی مخلوق زمین پراترتی ہے،جوسنتی توہے مگر بولنا نہیں جانتی، وہ صرف سماعت کی صفت سے آشناہے،تکلم کی صفت کی اسے کوئی خبرنہیں ہے۔وہ انسان کی گفتگواورتقریریں سن کریہ تحقیق شروع کرتی ہے کہ” آواز‘‘ کیا ہے، اور کہاںسے آتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران اس کے سامنے یہ منظرآتاہے کہ درخت کی دوشاخیں جوباہم ملی ہوئی تھیں، اتفاقاً ہواچلی اوررگڑسے ان میں آوازنکلنے لگی۔ پھرجب ہوا رکی توآوازبندہوگئی۔ یہ واقعہ بارباراس کے سامنے آتاہے۔اب ان میں کاایک “ماہر‘‘ بغور اس کامطالعہ کرنے کے بعداعلان کرتاہے کہ کلام انسانی کارازمعلوم ہوگیا۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کے منھ میں نیچے اوراوپرکے جبڑوں میں دانت کی موجودگی اس کاسبب ہے۔جب یہ نیچے اوپرکے دانت باہم رگڑکھاتے ہیں توان سے آوازنکلتی ہے،اوراسی کوکلام کہا جاتا ہے— دوچیزوں کی رگڑسے ایک قسم کی آوازپیداہونابجائے خودایک واقعہ ہے۔ مگراس واقعہ سے کلام انسانی کی تشریح کرناجس طرح صحیح نہیں ہے۔اسی طرح غیرمعمولی حالات میں لاشعورسے نکلی ہوئی باتوں سے کلامِ نبوت کی تشریح نہیں کی جاسکتی۔
ب:لاشعورمیں جوخیالات دبادیے جاتے ہیں وہ اکثر اوقات ایسی ناپسندیدہ خواہشیں ہوتی ہیں ، جو خاندان اورسماج کے خوف سے پوری نہیں ہوسکیں۔مثلاًکسی کے اندراپنی بہن یالڑکی کے ساتھ جنسی جذبہ پیداہوتووہ اس خیال سے اسے دبادیتاہے کہ ا س کا ظاہر کرنا رسوائی کاباعث ہوگا، اگر ایسا نہ ہوتووہ شاید اس کے ساتھ شادی کرنا پسند کرتا، کسی کوقتل کرنے کاخیال ہوتوآدمی اس ڈرسے اپنے ذہن میں دفن کردیتاہے کہ اس کوجیل جاناپڑے گا وغیرہ وغیرہ۔گویالاشعورمیں دبی ہوئی خواہشیں اکثر اوقات وہ برائیاں ہوتی ہیں ، جوماحول کے خوف سے بروئے کارنہ آسکیں، اب اگرایسے کسی شخص میں ذہنی اختلال (mental disorder)پیداہواوراس کالاشعورظاہرہوناشروع کرے تواس سے کیا ظاہر ہوگا۔ظاہرہے کہ وہی برے جذبات اورغلط خواہشیں اس کی زبان سے نکلیں گی جواس کے لاشعورمیں بھری ہوئی تھیں، وہ شرکا پیغمبر ہوگا، خیر کا پیغمبرنہیں ہوسکتا۔اس کے برعکس، انبیاء کی زبان سے جس مذہب کاظہورہواہے، وہ سرتاپاخیر اور پاکیزگی ہے۔ ان کاکلام اوران کی زندگی خیر اور پاکیزگی کا اتنا اعلیٰ نمونہ ہے کہ انبیاء کے سواکہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہی نہیں بلکہ ان کے خیالات میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ وہی سماج جس کے “ خوف‘‘ سے انھوں نے کبھی اپنے خیالات اپنے ذہن میں چھپالیے تھے، وہ اس پردل وجان سے فریفتہ ہوجاتا ہے، اورصدیاں گزرجاتی ہیں ، پھر بھی انھیں نہیں چھوڑتا۔
ج:نفسیاتی نقطۂ نظرسے انسان کالاشعوراصلًاخلا(vacuum)ہے۔ اس میں پہلے سے کوئی چیز موجودنہیں ہوتی بلکہ شعورکی راہ سے گزرکرپہنچتی ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ لاشعورصرف انھیں واردات اورمعلومات کاگودام ہے،جوکبھی انسان کے علم میں آیاہو۔وہ نامعلوم حقائق کاخزانہ نہیں بن سکتا۔لیکن یہ حیرت انگیزبات ہےکہ انبیاء کی زبان سے جس مذہب کااعلان ہواہے،وہ ایسی حقیقتوں پرمشتمل ہے،جو وقتی نہیں ، دائمی ہیں ۔ وہ ایسی باتیں ہیں جو نہ توانھیں پہلے سے معلوم تھیں، نہ ان کے وقت تک پوری نسل انسانی کومعلوم ہوسکی تھیں۔اگرحقائق کاسرچشمہ لاشعورہوتاتووہ ہرگزایسے نامعلوم حقائق کااظہارنہیں کرسکتاتھا۔
انبیاء کی زبان سے جس مذہب کاظہارہواہے اس میں فلکیات،طبیعیات، حیاتیات، نفسیات، تاریخ تمدن،سیاست،معاشرت،غرض سارے ہی علوم کسی نہ کسی اعتبارسے مَس ہوتے ہیں ۔ ایسا ہمہ گیرکلام لاشعورتودرکنارشعورکے تحت بھی اب تک کسی انسان سے ظاہرنہیں ہواجس میں غلط فیصلے، خام اندازے،غیرواقعی بیانات اورناقص دلائل موجودنہ ہوں۔ مگر مذہبی کلام حیرت انگیزطورپراس قسم کے غلطیوں سے بالکل پاک ہے۔وہ اپنی دعوت،اپنے استدلال اوراپنے فیصلوں میں تمام انسانی علوم کوچھوتاہے۔ مگرسیکڑوں،ہزاروں برس گزر جاتے ہیں ، اگلی نسلوں کی تحقیق پچھلی نسلوں کے خیالات کوبالکل بے بنیادثابت کردیتی ہے۔ مگرمذہب کی صداقت پھربھی باقی رہتی ہے۔ آج تک حقیقی معنوں میں اس کے اندرکسی غلطی کی نشاندہی نہ ہوسکی۔ اگرکسی نے ایسی کوشش کی ہے تووہ خودہی غلط کارثابت ہواہے۔
میں ایک کتاب (1935ء) کی مثال دیتاہوں جس میں ماہرفلکیات جیمزہنری بریسٹڈ (James Henry Breasted) نے انتہائی یقین کے ساتھ اس بات کااظہارکیاہے کہ اس نے قرآن میں ایک فنی غلطی ڈھونڈنکالی ہے۔ وہ لکھتاہے:
“مغربی ایشیاکی قوموں میں طویل مدت کے رواج اورخاص طورپراسلام کے غلبہ نے قمری کیلنڈرکودنیابھرمیں رائج کردیا۔قمری اورشمسی سال کے درمیان فرق کو محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم )اس انتہائی لغوحدتک لے گئے جوکہ تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔وہ کیلنڈرکے مسائل کی نوعیت سے اتنازیادہ بے خبر تھے کہ قرآن میں باضابطہ انھوں نے کبیسہ کے مہینے (Intercalary Months) کاٹھہراناممنوع قرار دے دیا۔ 354 دنوں کانام نہادقمری سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتاہے۔ اس لیے وہ اپنی گردش میں ہر33سال میں ایک سال اورہرصدی میں تین سال زیادہ ہوجاتا ہے۔ ایک ماہانہ مذہبی عمل جیسے رمضان اگراس وقت جون میں ہو تو چھ(6) سال بعدوہ اپریل میں آئے گا۔ 1935 میں ہجرت کو1313 سال گزر چکے ہیں ، جب سے کہ ہجری سال شروع ہوا۔ مگر ہماری ہرایک صدی مسلمانوں کے قمری سال کے اعتبارسے ایک سوتین سال سے زیادہ کی ہوتی ہے،ہمارے عام شمسی سالوں کے اعتبار سے جب 1313سال ہوتے ہیں تو مسلم سال کے اعتبار سے تقریباًاکتالیس (41) سال زیادہ ہوچکے ہوتے ہیں ۔ اس طرح مسلمانوں کا سال ہجری وقت تحریر 1354 تک پہنچ چکا ہے،یعنی شمسی اعتبار سے 1313سالوں میں 41سال مزید۔ مشرقی ملکوں کے یہودی چرچ نے اس قسم کی لغویت (absurdity)کوختم کرکے لوندیامہینوں کے اضافہ کا طریقہ (intercalation) کو اختیارکیااوراس طرح اپنے قمری کیلنڈرکوشمسی سال کے ڈھانچہ کے مطابق بنالیا۔اس بنا پرتمام مغربی ایشیااب تک اس انتہائی قدیم طریقے كے قمری کیلنڈرکی زحمت کو برداشت کررہاہے۔‘‘
Time and its Mysteries, New York. 1962, p. 56
یہاں مجھے شمسی اورقمری کیلنڈرکے فرق پرکوئی بحث نہیں کرنی ہے۔میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مصنف نے جس واقعہ کوپیغمبراسلام کی طرف منسوب کرکے “انتہائی لغوبے خبری‘‘کاالزام لگایا ہے، وہ واقعہ بذاتِ خودصحیح نہیں ۔ قرآن میں جس چیزکی ممانعت کی گئی ہے،وہ کبیسہ کا مہینے ٹھہرانانہیں ،بلکہ “نسیٔ ‘‘ ہے(9:37)۔ نسیٔ کے معنی عربی زبان میں تاخیرکے ہیں ،یعنی موخر کرنا ہٹانا،مثلاًحوض پرایک جانورپانی پی رہاہے، اورآپ نے اس کو ہٹاکراپنے جانورکوحوض پر کھڑا کر دیا کہ پہلے آپ کاجانورپانی پی لے،اس کے بعد دوسرا پیے، تواس طرح ہٹانے کوکہیں گے —"نَسَاَالدَّابّۃَ‘‘۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے عرب میں جوطریقے رائج ہوئے تھے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ سال کے بارہ مہینوں میں سے چارمہینے “اشہرحرم‘‘ (خاص ادب واحترام کے مہینے) ہیں ، یہ مہینے ذوالقعدہ،ذوالحجہ،محرم اوررجب تھے، ان میں خونریزی اورجدال وقتال قطعاً بند کر دیا جاتا تھا۔ لوگ حج وعمرہ اورکاروبار کے لیے امن وامان کے ساتھ آزادانہ سفرکرسکتے تھے۔بعدکوجب قبائل عرب میں سرکشی پیداہوئی توانھوں نے اس قانون کی پابندی سے بچنے کے لیے نسیٔ کی رسم نکالی،یعنی جب کسی زورآور قبیلہ کی خواہش ماہ محرم میں جنگ کرنے کی ہوئی تواس سردارنے اعلان کردیاکہ اس سال ہم نے محرم کواشہرحُرُم سے نکال کراس کی جگہ صَفرکوحرام کردیا۔ دوسرے لفظوں میں محرم کواپنی جگہ سے ہٹا کر صفرکی جگہ رکھ دیا۔یہی محترم مہینوں کوآگے پیچھے کرنے کی رسم تھی، جس کونسیٔ کہا جاتا تھا، اوراسی کے متعلق قرآن (9:37)میں کہاگیا ہے کہ یہ “زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْر‘‘ہے، یعنی کفر میں ایک اضافہ ہے۔
بعض لوگوں نے لکھاہے کہ عربوں میں “لوند‘‘ کی بھی ایک قسم کارواج تھا،یعنی مہینوں کا عدد بدل دیتے تھے،مثلاًبارہ مہینے کے چودہ بنالیے،مگرایک مفسرقرآن کے الفاظ ہیں :
“بعض اقوام جواپنے مہینوں کاحساب درست رکھنے کے لیے لوند کا مہینہ ہرتیسرے سال بڑھاتی ہیں ،وہ نسیٔ میں داخل نہیں ۔‘‘
معلوم ہواکہ دورِ بے خبری میں بھی پیغمبراسلام نے بے خبری کی بات نہیں کہی، حالانکہ اگر ان کے الفاظ صرف لاشعورسے نکلے ہوئے ہوتے تواس قسم کی بے خبری کا ظاہر ہونا لازمی تھا۔
3۔ تاریخ یاسماجی مطالعہ کے حوالے سے استدلال کرنے والوں کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ صحیح رخ سے مذہب کامطالعہ نہیں کرتے،اس لیے پورامذہب ان کو اصل حقیقت کے خلاف ایک اور ہی شکل میں نظرآنے لگتاہے،ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چوکور چیزکوکوئی شخص ترچھا کھڑا ہو کر دیکھے،ظاہرہے کہ ایسے شخص کووہی چیزجوحقیقتاً چوکور ہے، تکونی نظرآسکتی ہے۔
ان حضرات کی غلطی یہ ہے کہ وہ مذہب کامطالعہ ایک معروضی مسئلہ (objective problem) کے طورپرکرتے ہیں ۔({ FR 35 }) یعنی ظاہری طورپرمذہب کے نام سے جوکچھ تاریخ میں کبھی پایاگیاہے،ان سب کومذہب کے اجزاسمجھ کریکساں حیثیت سے جمع کرلینا اورپھران کی روشنی میں مذہب کے بارے میں ایک رائے قائم کرنا۔ اس کی وجہ سے پہلے ہی قدم پران کی پوزیشن غلط ہوجاتی ہے۔اس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ مذہب ان کی نظروں میں محض ایک سماجی عمل بن جاتاہے،نہ کہ کوئی سچائی کی دریافت۔ایک چیزجوسچائی کی دریافت کی نوعیت رکھتی ہو،وہ بذاتِ خودایک آئیڈیل ہوتی ہے، اوراس کے اپنے آئیڈیل کی روشنی میں اس کے مظاہراوراس کی تاریخ کامطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو چیز سماجی عمل کی حیثیت رکھتی ہو،اس کااپناکوئی آئیڈیل نہیں ہوتابلکہ سماج کاعمل ہی ا س کی حقیقت کاتعین کرتاہے۔کوئی چیزجوسماجی آداب یاسماجی روایات کی حیثیت رکھتی ہو۔اس کی یہ حیثیت صرف اس وقت تک قائم رہتی ہے، جب تک سماج نے بالفعل اس کویہ حیثیت دے رکھی ہو،اگرسماج اس کوچھوڑکراس کی جگہ کوئی اورطریقہ اختیارکرلے توپھروہ ایک تاریخی چیزہوجاتی ہے، اورسماجی روایت کی حیثیت سے اس کاکوئی مقام باقی نہیں رہتا۔
مگرمذہب کامعاملہ اس سے مختلف ہے۔مذہب کامطالعہ ہم اس طرح نہیں کرسکتے، جس طرح ہم سواری،لباس اورمکان مطالعہ كاکرتے ہیں ۔ کیوں کہ مذہب اپنی ذات میں ایک حقیقت ہے، جس کو سماج اپنے ارادہ سے قبول کرتاہے یااسے قبول نہیں کرتایاقبول کرتاہے توناقص شکل میں ۔اس کی وجہ سے مذہب اپنی اصولی حیثیت میں توہمیشہ یکساں رہتاہے،مگرسماج کے اندررواج یافتہ ہیئت کے اعتبار سے اس کی شکلیں مختلف ہوجاتی ہیں ۔ اس لیے سماج کے اندررواج یافتہ مذاہب کی یکساں فہرست بندی کرکے ہم مذہب کوسمجھ نہیں سکتے۔
مثال کے طورپرجمہوریت (democracy)کو لیجیے۔ جمہوریت ایک مخصوص سیاسی معیار کا نام ہے، اورکسی حکومت کواس معیارکی روشنی ہی میں جمہوری یاغیرجمہوری کہا جا سکتا ہے،یعنی جمہوریت کے اپنے معیار کی روسے تمام ملکوں کودیکھاجائے گا، اور صرف اسی رویہ کوجمہوری قرار دیا جائے گاجوحقیقتاً جمہوری ہو۔اس کے برعکس، اگر جمہوریت کامطالعہ اس طرح کیاجائے کہ ہروہ ملک جس نے اپنے نام کے ساتھ “جمہوری‘‘کالفظ لگارکھا ہے، اس کو حقیقتاًجمہوری فرض کرکے جمہوریت کوسمجھنے کی کوشش کی جائے توپھرجمہوریت ایک بے معنی لفظ بن جائے گا۔کیوں کہ ایسی حالت میں امریکا کی جمہوریت چین کی جمہوریت سے مختلف ہوگی،انگلینڈ کی جمہوریت مصرکی جمہوریت سے ٹکرائے گی، ہندوستان کی جمہوریت کاپاکستان کی جمہوریت سے کوئی جوڑنہیں ہوگا۔اس کے بعدجب ان سارے مشاہدات کوارتقائی ڈھانچہ میں رکھ کر دیکھا جائے گا تووہ اورزیادہ بے معنی ہوجائے گا۔کیوں کہ فرانس جو جمہوریت کامقام پیدائش ہے، اس کامطالعہ بتائے گاکہ جمہوریت اپنے بعدکے ارتقائی مرحلہ کے مطابق نام ہے، جنرل ڈیگال(1890-1970ء)کی فوجی آمریت کا۔
اس طریق مطالعہ کایہ نتیجہ ہے کہ مذہب کے لیے خداکی ضرورت بھی باقی نہیں رہی۔ مذہب کی تاریخ میں اس کی مثال موجودہے کہ مذہب خداکے بغیربھی ہوسکتاہے۔ یہ مثال بدھ ازم کی ہے،جو”مذہب‘‘ ہونے کے باوجودخداکے تصورسے خالی ہے۔ اس لیے آج بہت سے لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ مذہب کامطالعہ خداسے الگ کرکے کیا جانا چاہیے، اگر اس ضرورت کوتسلیم کرلیاجائے کہ لوگوں کے اندراخلاق اورتنظیم پیداکرنے کے لیے مذہبی نوعیت کی کوئی چیزضروری ہے تواس مقصدکے لیے لازمی طورپرخداکو ماننا ضروری نہیں ، بے خدامذہب بھی اس ضرورت کو پورا کرسکتا ہے، چنانچہ یہ لوگ بدھ ازم کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ اب موجودہ ترقی یافتہ دورمیں اس قسم کا مذہبی ڈھانچہ سماج کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ان حضرات کے نزدیک دورِجدید کا خدا خود سماج اور اس کے سیاسی اورمعاشی مقاصدہیں ۔ اس خداکاپیغمبرپارلیمنٹ ہے،جس کے ذریعہ وہ اپنی مرضی سے انسانوں کو باخبرکرتاہے، اوراس کی عبادت گاہیں ،مسجداورگرجانہیں ،بلکہ ڈیم اورکارخانے ہیں ، وغیرہ وغیرہ۔ (ملاحظہ ہوجولین ہکسلے کی کتاب”مذہب بغیرالہام‘‘)
مذہب کواقرارِخداسے انکارِخداتک پہنچانے میں ارتقائی مطالعہ کابھی دخل ہے۔ یہ حضرات یہ کرتے ہیں کہ پہلے ان تمام چیزوں کوجمع کرلیتے ہیں جوکبھی مذہب کے نام سے منسوب رہی ہیں ، اور اس کے بعد اپنی مرضی کے مطابق ان کے درمیان ایک ارتقائی ترتیب قائم کرلیتے ہیں ، جس میں ایسے تمام پہلوؤں کویکسرنظراندازکردیاجاتاہے،جس سے ان کی مزعومہ ارتقائی ترتیب مشتبہ ہوسکتی ہو، مثلاً انسانیات(anthropology)اورسماجیات (sociology)کے ماہرین نے زبردست مطالعہ اور تحقیق کے بعدیہ “دریافت‘‘ کیاہے کہ خداکاتصورکئی خداؤں سے شروع ہوااوربتدریج ترقی کرتے کرتے ایک خداتک پہونچا، لیکن یہ ترقی ان کے نزدیک الٹی ہوئی ہے۔کیوں کہ خداکے تصورنے ایک خداکی شکل اختیار کرکے اپنے آپ کوتضادمیں مبتلاکرلیاہے، “کئی خدا‘‘ کاتصورکم ازکم اپنے اندریہ قدرت رکھتاتھاکہ مختلف خداؤں کوماننے والے ایک دوسرے کوتسلیم کرتے ہوئے باہم مل جل کر رہیں ۔مگر”ایک خدا‘‘کے عقیدے نے قدرتی طورپرتمام دوسرے خداؤں اوران کے ماننے والوں کو باطل ٹھہرایااوربرترمذہب (Higher Religion) کاتصورپیداکیا،جس کی وجہ سے قوموں اور گروہوں میں کبھی نہ ختم ہونے والی جنگیں شروع ہوگئیں، اس طرح خداکے تصور نے غلط سمت میں ارتقا کرکے خودہی اپنے لیے موت کاسامان مہیاکردیاہے،کیوں کہ ارتقا کا قانون یہی ہے۔
Man in the Modren World, p. 112
مگراس ارتقائی ترتیب میں صریح طورپراصل واقعہ کونظراندازکردیاگیاہے،کیوں کہ معلوم تاریخ کے مطابق سب سے پہلے پیغمبرحضرت نوح تھے،اوران کی دعوت کے متعلق ثابت ہے کہ وہ ایک خداکی دعوت تھی،اس کے علاوہ تعددآلہہ (Polytheism) کامطلب بھی مطلق تعددنہیں ہے،کبھی کوئی قوم ان معنوں میں مشرک نہیں رہی ہے کہ وہ بالکل یکساں نوعیت کے کئی خدامانتی ہو۔اس کے برعکس تعددآلہہ کامطلب ایک بڑے خداکو مان کرکچھ اس کے مقربین خاص کا اقرار کرنا ہے،جوذیلی خداؤں کے طورپرکام کرتے ہیں ۔ شرک کے ساتھ ہمیشہ ایک “خدائے خدائگان‘‘ کا تصور پایا جاتا رہا ہے۔ ایسی حالت میں “ارتقائی مذہب‘‘ ایک بے دلیل عقیدہ کے سوا اور کیا ہے۔
مارکسی نظریۂ تاریخ اورزیادہ بے معنی ہے۔ یہ نظریہ اس مفروضہ پرمبنی ہے کہ اقتصادی حالات ہی وہ اصل عامل ہیں ، جوانسان کی تعمیروتشکیل کرتے ہیں ، مذہب جس زمانےمیں پیداہواوہ جاگیرداری اورسرمایہ داری نظام کازمانہ تھا۔ اب چوں کہ جاگیرداری اورسرمایہ داری نظام استحصال اورلوٹ کھسوٹ کانظام ہے،اس لیے اس کے درمیان پیداہونے والے اخلاقی ومذہبی تصورات بھی یقینی طورپراپنے ماحول ہی کاعکس ہوں گے وہ لوٹ کھسوٹ کے نظریات ہوں مگریہ نظریہ علمی حیثیت سے کوئی وزن رکھتا ہے، اور نہ تجزیہ سے ا س کی تصدیق ہوتی ہے۔
یہ نظریہ انسانی ارادہ کی بالکلیہ نفی کردیتاہے، اوراس کوصرف معاشی حالات کی پیداوار قرار دیتا ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ آدمی کی اپنی کوئی ہستی نہیں ، جس طرح صابن کے کارخانے میں صابن ڈھلتے ہیں ،اسی طرح آدمی بھی اپنے ماحول کے کارخانے میں ڈھلتاہے،وہ الگ سے سوچ کرکوئی کام نہیں کرتابلکہ جوکچھ کرتاہے،اسی کے مطابق سوچنے لگتاہے،اگریہ واقعہ ہے تومارکس،جوخودبھی “سرمایہ دارانہ نظام‘‘کے اندرپیداہوا تھا،اس کے لیے کس طرح ممکن ہواکہ وہ اپنے وقت کے معاشی حالات کے خلاف سوچ سکے۔کیااس نے زمین کامطالعہ چاندپرجاکرکیاتھا،اگرمذہب کو پیدا کرنے والی چیز وقت کااقتصادی نظام ہے توآخرماركس ازم بھی وقت کے اقتصادی نظام کی پیداوار کیوں نہیں ہے۔ مذہب کی جوحیثیت ماركس ازم کوتسلیم نہیں ہے، وہی حیثیت اس کے اپنے لیے کس طرح جائزہوگی— حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ اشتعال انگیزحدتک لغوہے،اس کے پیچھے کوئی بھی علمی اورعقلی دلیل موجود نہیں ۔
تجربے سے بھی اس نظریے کی غلطی واضح ہوچکی ہے۔روس کی مثال اس کوسمجھنے کے لیے کافی ہے،جہاں تقریباًآدھی صدی سے اس نظریہ کومکمل غلبہ حاصل ہے، طویل ترین مدت سے زبردست پروپیگنڈہ ہورہاہےکہ روس کے مادی حالات بدل گئے ہیں ،وہاں کانظام پیداوار،نظام تبادلہ اور نظامِ تقسیم دولت سب غیرسرمایہ دارانہ ہوچکاہے،مگراسٹالن کے مرنے کے بعدخودروسی لیڈروں کی طرف سے تسلیم کیاگیاہے کہ اسٹالن کے زمانۂ حکومت میں روس کے اندرظلم وجبر کانظام رائج تھا، اور عوام کااسی طرح استحصال کیا جا رہا تھا،جیسے سرمایہ دارانہ ملکوں میں ہوتاہے، اوراگراس حقیقت کو سامنے رکھاجائے کہ رو س میں پریس پرحکومت کامکمل کنٹرول ہونے کی وجہ سے اسٹالن کے لیے یہ ممکن ہوسکاکہ وہ اپنے ظلم اوراستحصال کودنیاکے سامنے عدل وانصاف کے نام سے مشہور کرے، اور پریس کایہی کنٹرول اب بھی وہاں جاری ہے،تویہ بات سمجھ میں آجاتی ہے آج بھی خوبصورت پروپیگنڈے کے پس منظرمیں روس کے اندروہی سب کچھ ہورہاہے،جواسٹالن کے زمانے میں ہوتا تھا۔ روسی کمیونسٹ پارٹی کی بیسویں کانگریس(فروری1956ء ) نے اسٹالن کے مظالم کاانکشاف کیا تھا۔ اس کے بعداگرپارٹی کی مثلاًپچیسویںکانگریس اس کے دوسرے جانشینوں کی درندگی کا راز فاش کرے تواس میں ہرگز اچنبھے کی کوئی بات نہ ہو گی (اکتوبر1964ء میں خروشچیف کی برطرفی اوراس کے بعدکے واقعات سے اس کی تصدیق ہوچکی ہے )۔آدھی صدی کے اس تجربے سے جونتیجہ نکلاہے، اس کامطلب صاف طورپریہ ہے کہ پیداواراورتبادلہ کا نظام خیالات کی صورت گری سے کوئی تعلق نہیں رکھتا،اگرانسانی ذہن نظام پیداوار کا تابع ہوتااوراسی کے مطابق خیالات پیدا ہوا کرتے تواشتراکی حکومت میں ظلم اوراستحصال کی ذہنیت بھی یقینی طورپرختم ہوجانی چاہیے تھی۔ جب کہ وہاں پیداوار کا نظام اشتراکی اصول کے مطابق بالکل بدل دیا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے خلاف دورِ جدید کا پورا استدلال ایک قسم کا علمی سفسطہ (Scientific Sophism) ہے، ا س کے سوااورکچھ نہیں ۔ اس نام نہاد علمی استدلال کی حقیقت صرف یہ ہے کہ “کہیں کی اینٹ کہیں کاروڑا،بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘ یہ صحیح ہے کہ واقعات کے مطالعہ کے لیے “علمی طریقہ‘‘ اختیارکیاجاتاہے، مگرعلمی طریقہ محض ایک طریقہ ہونے کی وجہ سے صحیح نتائج تک نہیں پہونچاسکتا،اسی کے ساتھ دوسرے ضروری پہلوؤں کوملحوظ رکھنابھی ضروری ہے۔ مثلاً ادھوری اور یک رخی معلومات پراگرعلمی طریقہ کو آزمایا جائے تووہ بظاہرعلمی ہونے کے باوجودناقص اور غلط نتیجے ہی تک پہنچائے گا۔
جنوری 1964ء کے پہلے ہفتہ میں نئی دہلی میں مستشرقین کی ایک بین الاقوامی کانگرس ہوئی، جس میں بارہ سوعلمائے مشرقیات (orientalists)شریک ہوئے۔اس موقع پر ایک صاحب نے ایک مقالہ پڑھا جس میں کئی مسلم یادگاروں کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی بنوائی ہوئی نہیں ہیں بلکہ ہندوراجاؤں کی بنوائی ہوئی ہیں ۔مثلاًقطب مینار جو قطب الدین ایبک کی طرف منسوب ہے،وہ دراصل وشنودھوج ہے،جس کواب سے 23سوسال پہلے سمندرگپت نے بنوایا تھا، بعد کے مسلم مورخین نے اس کوغلط طورپر قطب مینارکے نام سے پیش کیا،اس کی دلیل یہ ہے کہ قطب مینار میں ایسے پتھرلگے ہوئے ہیں ، جوبہت پرانے ہیں ، اورقطب الدین ایبک سے بہت پہلے تراشے گئے تھے۔
بظاہریہ ایک علمی ا ستدلال ہے،کیوں کہ یہ واقعہ ہے کہ قطب مینارمیں ایسے کچھ پتھر موجود ہیں ، مگر قطب مینارکے مطالعہ کے لیے صرف اس کے پرانے پتھروں کاحوالہ دینے سے علمی استدلال کا حق ادانہیں ہوتا،اسی کے ساتھ اوربہت سے پہلوؤں کوسامنے رکھنا ضروری ہے،اورجب ہم ایسا کرتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ یہ توجیہ قطب مینارپرپوری طرح چسپاں نہیں ہوتی،اس کے بجائے یہ دوسری توجیہ زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ اس کے پرانے پتھردراصل پرانی عمارتوں کے کھنڈرسے حاصل کیے گئے جس طرح دوسری قدیم سنگی عمارتوں میں کثرت سے اس کی مثالیں موجودہیں ،پھرجب اس دوسری توجیہ کوقطب مینارکی ساخت،اس کے نقشۂ تعمیر،پرانے پتھروں کااندازِ نصب، مینار کے ساتھ ناتمام مسجد اور جوابی مینارکے بقیہ آثارنیزتاریخی شہادتوں کے ساتھ ملاکردیکھیں تو ثابت ہو جاتا ہے کہ یہی دوسری توجیہ صحیح ہے،اورپہلی توجیہ ایک مغالطہ کے سوااورکچھ نہیں ۔
مخالفین مذہب کامقدمہ بھی بالکل ایساہی ہے،جس طرح مذکورہ بالامثال میں چند پتھروں کو ایک خاص رنگ دے کرسمجھ لیاگیاہے کہ علمی استدلال حاصل ہوگیا۔اسی طرح چند جزئی اور اکثر اوقات غیرمتعلق واقعات کوناقص رخ سے پیش کرکے یہ سمجھ لیاگیاہے کہ علمی طریق مطالعہ نے مذہب کی تردیدکردی،حالانکہ واقعہ کے تمام اجزاء کوصحیح رخ سے دیکھا جائے توبالکل دوسرانتیجہ برآمد ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مذہب کی صداقت کایہ بذاتِ خودایک کافی ثبوت ہے کہ اس کو چھوڑنے کے بعدبہترین ذہن بھی الل ٹپ باتیں کرنے لگتے ہیں ، اس کے بعدآدمی کے پاس مسائل پر غور وفکر کے لیے کوئی بنیادباقی نہیں رہتی،مخالفین ِ مذہب کی فہرست میں جو نام ہیں ،وہ اکثرنہایت ذہین اور ذی علم افرادہیں ۔بہترین دماغ،وقت کے بہترین علوم سے آراستہ ہوکراس میدان میں اترے ہیں ، مگران اہل دماغ نے ایسی ایسی مہمل باتیں لکھی ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتاکہ اس کولکھتے وقت آخر ان کا دماغ کہاں چلاگیاتھا۔یہ سارالٹریچر بے یقینی،تضاد،اعتراف ناواقفیت اورالل ٹپ استدلال سے بھراہواہے۔کھلی ہوئی حقیقتوں کو نظراندازکرنااورمعمولی تنکے کے سہارے دعووں کے پل کھڑے کرنا۔ یہ ان کاکل کارنامہ ہے۔صورتِ حال بلاشبہ اس بات کاایک قطعی ثبوت ہے کہ ان حضرات کا مقدمہ صحیح نہیں ، کیوں کہ بیان اوراستدلال کی یہ خرابیاں صرف غلط مقدمہ کی خصوصیت ہیں ،صحیح مقدمے میں کبھی یہ چیزیں پائی نہیں جاسکتی۔
مذہب کی صداقت اورمخالفین مذہب کے نظریے کی غلطی اس سے بھی واضح ہے کہ مذہب کومان کرزندگی اورکائنات کاجونقشہ بنتاہے،وہ ایک نہایت حسین وجمیل نقشہ ہے، وہ انسان کے اعلیٰ افکارسے اسی طرح مطابق ہے،جیسے مادی کائنات ریاضیاتی معیاروں کے عین مطابق ہے، اس کے برعکس مخالفِ مذہب فلسفہ کے تحت جونقشہ بنتاہے، وہ انسانی ذہن سے بالکل غیرمتعلق ہے، یہاں میں برٹرینڈرسل کا ایک اقتباس نقل کروں گا:
“انسان ایسے اسباب کی پیداوار ہے،جن کاپہلے سے سوچا سمجھاکوئی مقصد نہیں ۔ اس کاآغاز، اس کی نشوونما،اس کی تمنائیں اور اس کے اندیشے، اس کی محبت اور اس کے عقائد، سب محض ایٹموں کی اتفاقی ترتیب کانتیجہ ہیں ۔ اس کی زندگی کی انتہا قبرہے، اوراس کے بعد کوئی چیزبھی اسے زندگی عطانہیں کرسکتی۔صدیوں کی جدوجہد،تمام قربانیاں،بہترین احساسات اورعبقریت کے روشن کارنامے سب نظامِ شمسی کے خاتمہ کے ساتھ فناہوجانے والی چیزیں ہیں ۔ انسانی کامرانیوں کا پورا محل ناگزیرطورپرکائنات کے ملبے کے نیچے دب کررہ جائے گا،یہ باتیں اگربالکل قطعی نہیں تو وہ حقیقت سے اتنی قریب (so nearly certain) ہیں کہ جوفلسفہ بھی اس کاانکارکرے گا وہ باقی نہیں رہ سکتا۔‘‘
Limitations of Science, p. 133
یہ اقتباس گویاغیرمذہبی مادی فکرکاخلاصہ ہے۔ اس کے مطابق ساری زندگی نہ صرف یہ کہ بالکل تیرہ وتارنظرآتی ہے،بلکہ اگرزندگی کی مادی تعبیرکولیاجائے توپھرخیروشرکاکوئی قطعی معیارباقی نہیں رہتا،اس کی روسے انسانوں پربم گراناکوئی ظالمانہ فعل نہیں ،کیوں کہ انسانوں کوبہرحال ایک دن مرناہے۔ا س کے برعکس مذہبی فکرمیں امیدکی روشنی ہے، اس میں زندگی اورموت دونوں بامعنی نظرآتے ہیں ، اس میں ہماری نفسیات کے تمام تقاضے اپنی جگہ پالیتے ہیں ، ایک تصور کے ریاضیاتی ڈھانچے فٹ ہوجانے کے بعداگرسائنسداں مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس نے حقیقت پالی تومذہبی تصور کا انسانی ذہن میں پوری طرح بیٹھ جانایقینی طورپراس بات کاثبوت ہے کہ یہی وہ حقیقت ہے، جس کو انسان کی فطرت تلاش کررہی تھی، اس کے بعدہمارے پاس اس کے انکارکے لیے کوئی واقعی بنیاد نہیں رہتی۔
یہاں میں ایک امریکی ریاضی داں (Earl Chester Rex) کے الفاظ نقل کروں گا:”میں سائنس کے اس تسلیم شدہ اصول کواستعمال کرتاہوں جوزیادہ مختلف نظریوں میں سے کسی ایک انتخاب کے لیے کام میں لایاجاتاہے۔ اس اصول کے مطابق اس نظریے کو اختیار کرلیا جاتا ہے، جو مقابلۃ ً نہایت سادگی کے ساتھ تمام متنازعہ فیہ مسائل کی تشریح کردے،بہت عرصہ ہواجب یہی اصول ٹالمی کے نظریے(Ptolemaic Theory) اور کوپرنیکس کے نظریے کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کیاگیا،اول الذکرکادعویٰ تھاکہ زمین نظامِ شمسی کامرکزہے،ا سکے برعکس ثانی الذکر کہتا تھا کہ سورج نظامِ شمسی کا مرکز ہے، ٹولومی کانظریہ اس قدرپیچیدہ اورالجھاہواتھاکہ زمین کی مرکزیت کانظریہ ردکر دیا گیا۔‘‘
The Evidence of God, p. 179
مجھے اعتراف ہے کہ میرایہ استدلال بہت سے لوگوں کے لیے کافی نہیں ہوگا،ان کے مادی ذہن کے چوکھٹے میں کسی طرح خدااورمذہب کی بات نہیں بیٹھے گی۔مگرجوچیزمجھے مطمئن کرتی ہے، وہ یہ کہ ان حضرات کاعدمِ اطمینان حقیقۃً مذہب کے حق میں استدلال کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ ان کاوہ کنڈیشنڈ ذہن ہے،جومذہبی استدلال کوقبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، جیمزجنیز نے اپنی کتاب “پراسرارکائنات‘‘ کے آخرمیں نہایت صحیح لکھاہےکہ میرے خیال میں ہمارے جدید ذہن واقعات کی مادی توجیہ کے حق میں ایک طرح کاتعصب رکھتے ہیں :
Our modem minds have, I think, a bias towards mechanical interpretation. (Mysterious Universe,p. 189)
وھٹکر چیمبرز (Whittaker Chambers, 1901-1961)نے اپنی کتاب شہادت (Witness) میں اپنے ایک واقعہ کاذکرکیاہے،جوبلاشبہ اس کی زندگی کے لیے ایک نقطۂ انقلاب (turning point) بن سکتاتھا۔وہ اپنی چھوٹی بچی کی طرف دیکھ رہاتھاکہ اس کی نظربچی کے کان پرجاپڑی اورغیرشعوری طورپروہ اس کی ساخت کی طرف متوجہ ہوگیا،اس نے اپنے جی میں سوچا۔”یہ کتنی غیرممکن بات ہے کہ ایسی پیچیدہ اورنازک چیزمحض اتفاق سے وجودمیں آجائے،یقیناًیہ پہلے سے سوچے سمجھے نقشے کے تحت ہی ممکن ہوئی ہوگی‘‘۔مگراس نے جلدہی اس خیال کواپنے ذہن سے نکال دیا،کیوں کہ اسے احساس ہواکہ اگروہ اس کوایک منصوبہ مان لے تواس کامنطقی نتیجہ یہ ہوگاکہ اسے منصوبہ ساز(خدا) کوبھی مانناہوگا،اوریہ ایک ایساتصورتھا،جسے قبول کرنے کے لیے اس کا ذہن آمادہ نہیں تھا۔ اس واقعہ کاذکرکرتے ہوئے ٹامس ڈیوڈپارکس (Thomas David Parks) لکھتا ہے:
“ میں اپنے پروفیسروں اورریسرچ کے سلسلے میں اپنے رفقائے کارمیں بہت سے سائنس دانوں کے بارے میں جانتاہوں کہ علم کیمیااورطبیعیات کے مطالعہ وتجربہ کے دوران میں انھیں بھی متعدد مرتبہ اس طرح کے احساسات سے دوچارہوناپڑا۔‘‘
The Evidence of God in an Expanding Universe. Edited by John Clover Monsma, New York ,1958, p.73-74
نظریۂ ارتقا کی صداقت پرموجودہ زمانے کے “سائنسداں‘‘ متفق ہوچکے ہیں ۔ارتقا کاتصور ایک طرف تمام علمی شعبوں پرچھاتاجارہاہے،ہروہ مسئلہ جس کوسمجھنے کے لیے خداکی ضرورت تھی،اس کی جگہ بے تکلف ارتقا کاایک خوبصورت بت بناکررکھ دیاگیاہے، مگردوسری طرف عضویاتی ارتقا (Organic Evolution)کانظریہ،جس سے تمام ارتقائی تصورات اخذ کیے گئے ہیں ، اب تک بے دلیل ہے،حتیٰ کہ بعض علما نے صاف طورپرکہہ دیا ہے کہ اس تصورکوہم صرف اس لیے مانتے ہیں کہ اس کاکوئی بدل ہمارے پاس موجودنہیں ہے۔ سرآرتھرکیتھ (Sir Arthur Keith, 1866-1955)نے1953ء میں کہاتھا:
"Evolution is unproved and unprovable. We believe it only because the only alternative is special creation and that is unthinkable." (Islamic Thought, Dec. 1961)
یعنی ارتقا ایک غیرثابت شدہ نظریہ ہے،اوروہ ثابت بھی نہیں کیاجاسکتا،ہم اس پرصرف اس لیے یقین کرتے ہیں کہ اس کاواحدبدل تخلیق کاعقیدہ ہے جوسائنسی طورپر ناقابلِ فہم ہے، گویا سائنسدان ارتقا کے نظریے کی صداقت پرصرف اس لیے متفق ہوگئے ہیں کہ اگروہ چھوڑدیں تولازمی طورپرانھیں خداکے تصورپرایمان لاناپڑے گا۔
ظاہرہے کہ جولوگ مادی طرزتعبیرکے حق میں اس قسم کے تعصبات رکھتے ہوں، وہ انتہائی کھلے ہوئے واقعات سے بھی کوئی سبق نہیں لے سکتے تھے،اورمجھے اعتراف ہے کہ ایسے لوگوں کومطمئن کرنامیرے بس سے باہرہے۔
اس تعصب کی بھی ایک خاص وجہ ہے،یہاں میں ایک امریکی عالم طبیعیات (George Herbert Blount)کے الفاظ نقل کروں گا:
“خداپرستی کی معقولیت اورانکارخداکاپھسپھساپن بجائے خودایک آدمی کے لیے عملاً خدا پرستی اختیارکرنے کاسبب نہیں بن سکتا،لوگوں کے دل میں یہ شبہ چھپا ہوا ہے کہ خدا کو ماننے کے بعدآزادی کاخاتمہ ہوجائے گا،وہ علماجوذہنی آزادی (intellectual liberty)کودل وجان سے پسندکرتے ہیں ، آزادی کی محدودیت کاکوئی تصوران کے لیے وحشت ناک ہے۔‘‘
The Evidence of God, P.130
چنانچہ جولین ہکسلے نے نبوت کے تصورکو”ناقابل برداشت اظہار برتری‘‘ قرار دیا ہے۔ کیوں کہ کسی کونبی ماننے کامطلب یہ ہے کہ اس کویہ حیثیت دی جائے کہ اس کی بات خداکی بات ہے، اوراس کوحق ہے کہ وہ جوکچھ کہے تمام لوگ اس کوقبول کرلیں۔لیکن جب انسان کی حیثیت یہی ہے کہ وہ خالق نہیں مخلوق ہے،وہ خدانہیں بلکہ خداکابندہ ہے،تواس صورت واقعہ کوکسی خودساختہ تصورکی بناپرختم نہیں کیاجاسکتا۔ہم حقیقت کوبدل نہیں سکتے،ہم صرف اس کااعتراف کرسکتے ہیں ۔ اب اگر شترمرغ کاانجام ہم اپنے لیے پسندنہیں کرتے توہماری بہترین عقلمندی یہ ہے کہ جوکچھ ہے،اسے مان لیں،نہ یہ کہ جوکچھ ہے،اس کا انکار کردیں۔ حقیقت کاانکارکرکے آدمی صرف اپنانقصان کرتا ہے، وہ حقیقت کاکچھ نہیں بگاڑتا۔