متوازن تعلیم
کسی معاملہ میں جب دو فریق ہوں تو سوچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دونوں اپنی اپنی طرف دیکھیں۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دونوں دوسرے کی طرف دیکھیں۔ پہلے طریقہ میں آدمی کی نگاہ اپنی ذمہ داریوں پر ہوتی ہے اور دوسرے طریقہ میں آدمی کی نگاہ اپنے حقوق پر۔ پہلا طریقہ اصلاح کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا طریقہ فساد کی طرف۔
جب آدمی کی نظر اپنے حقوق پر ہو تواس کی تمام تر توجہ معاملہ کے دوسرے فریق کی طرف چلی جاتی ہے۔ وہ ہر چیز کا ذمہ دار فریق ثانی کو ٹھہرانے لگتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر ضد اور انتقام کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ اپنے حصہ کا کام انجام نہیں دیتا۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ سب کچھ صرف فریق ثانی کرے، خود اسے کچھ نہ کرنا ہو۔
اس کے بر عکس ،جب آدمی کی نظر اپنی ذمہ داریوں پر ہو تو اس کی ساری تو جہ خود اپنے آپ پر لگ جاتی ہے۔ وہ اپنے حصہ کی کوتا ہیوں کو تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اس کے اندر سنجیدگی اور خود احتسابی کی نفسیات جاگتی ہے۔ وہ اپنی طاقتوں کو تخریب کے بجائے تعمیر پر لگانے کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ عمل دوسرے فریق کو بھی سنجیدہ بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے حصہ کی ذمہ داریوں کو ادا کر کے دوسرے فریق کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے حصہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔
یہی دوسرا طریقہ اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام اگر دیکھتا ہے کہ کسی معاملہ میں ایک فریق نسبتاً کمزور ہے توا س کو صبر کی طرف متوجہ کر تا ہے۔ اوردوسرا فریق اگرکسی وجہ سے طاقتور حیثیت کا مالک ہے توا س کو وہ عدل اور انصاف کی تاکیدکرتا ہے۔
شوہر اور بیوی کے تعلقات کے بارے میں اسلام کی جو ہدایات ہیں، وہ بعض پہلوؤں سے اسی اصول پر مبنی ہیں۔ صنفی بناوٹ کے اعتبار سے عورت کمزور فر یق ہے اور مرد طاقتورفریق۔ اس لیے اسلام نے اپنی ہد ایات میں دونوں کے اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے تاکہ دونوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی اور موافقت کی فضاپیدا ہو اور کسی رکاوٹ کے بغیر گھر کی تعمیر ممکن ہوسکے۔
عورتوں کے بارے میں اسلام یہ تاکید کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر انقیاد کا مزاج پیدا کریں۔وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے والی بنیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ (4:34)۔يعني،صالح عورتیں اپنے شوہروں کی فرماں بردار ہیں۔
حضرت عبداﷲ بن عباس نے اس آیت کی تشریح ان الفاظ میں كي هے:الْمُطِيعَاتُ لِأَزْوَاجِهِنَّ (اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے والی عورتیں) تفسیرابن کثیر ،جلد 2، صفحہ 293۔
عورت کو اپنے شو ہر کا اطاعت گزار بنا نے کا مطلب دراصل اس کے اندر اس صالح مزاج کو پرورش کرنا ہے جس کے بعد وہ اپنے شوہر کی سچی رفیق بن سکے۔ جس کے نتیجہ میں اس کے گھرکے اندر تعمیری فضاپیدا ہو، نہ کہ لڑائی جھگڑے کی فضا۔ اطاعت گزار بیوی اپنے شوہر کے دل کو جیت کر گھر کی مالک بن جاتی ہے۔ وہ گھر کے اندر سب سے اونچی جگہ حاصل کرلیتی ہے۔ اس کے برعکس، غیر اطاعت گزار بیوی کے حصہ میں صرف یہ آتا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر اپنے شوہر سے لڑتی رہے اور اس کا نتیجہ اس کو یہ ملے کہ اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے تلخ ہوکر رہ جائے۔
دوسری طرف اسلام مرد کے اندر یہ مزاج بنا نا چاہتا ہے کہ وہ کسی حال میں عدل سے نہ ہٹے۔ وہ گھر کے اندر اپنی قوّامیت کو استعمال کرتے ہوئے یہ نہ بھولے کہ موت کے بعد اس کا معاملہ سب سے بڑے قوّام اور سب سے بڑے حاکم کے سامنے پیش آنے والا ہے۔ وہاں اس آدمی کا معاملہ سخت ہوگا جو دنیا میں اپنے زیر دستوں کے ساتھ سختی کرے۔ اور وہاں اس کا معاملہ نرم ہوگا جو دنیا میں اپنے زیردستوں کے ساتھ نرمی کار ویہ اختیار کرے۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے:
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي(سنن الترمذی، حديث نمبر3895؛ سنن الدارمی، حديث نمبر2282؛ سنن ابن ماجہ،حديث نمبر1977)۔ یعنی،حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جواپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھروالوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔
اس حدیث کے مطابق آدمی کا گھر اس کا مقام حکومت نہیں بلکہ اس کا مقام تربیت ہے۔ جو شخص گھر کے نظام میں بہتر ثابت ہو وہ پو رے سماج اور پوری قوم کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص گھر کے نظام میں براثابت ہووہ سماج اور قوم کے لیے بھی ایک براانسان ہوگا۔ پہلاآدمی وسیع تر انسانیت کے لیے رحمت ہے اور دوسراآدمی وسیع تر انسانیت کے لیے عذاب۔
عورت اور مرد کے حقوق کا معاملہ ، باعتبار حقیقت ، کسی فقہی فہرست کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ حسنِ معاشرت کا معاملہ ہے۔ اس سلسلہ میں جو ’’ فہرست ‘‘ بتائی گئی ہے وہ اسی حسنِ معاشرت کے علامتی پہلو ہیں ، نہ کہ بذات خود کو ئی مکمل فہرست۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات میں کبھی کوئی مکمل فہرست نہیں بنائی جاسکتی۔
اسلام یہ چاہتا ہے کہ دونوں فریق فطری حقیقتوں کا اعتراف کریں۔ دونوں فریق حقوق سے زیادہ ذمہ داریوں پر نگاہ رکھیں۔ دونوں فریق اپنی ذات سے زیادہ مشترک مقصد (خاندانی نظام کی بر قراری ) کو اصل اہمیت کی چیز بنا ئیں اور اس مقصد کی خاطر ہر ذاتی قربانی کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔
اچھا گھر اچھا مزاج رکھنے والے لوگوں کے ذریعہ بنتا ہے۔ ایک اچھے خاندان کی تعمیر وہ مرد اور عورت کرتے ہیں جو اس سے پہلے خود اپنے شعور کی تعمیر کر چکے ہوں۔ شادی شدہ زندگی کی کا میابی کا راز’’ فہرست احکام‘‘ سے واقفیت سے زیادہ اس پر منحصر ہے کہ عورت اور مرد ’’حقائق حیات‘‘سے واقف ہوں۔ جو لوگ زندگی کی حقیقتوں کو جانیں وہ کبھی ناکام نہیں ہو سکتے۔ اور جو لوگ زندگی کی حقیقتوں کونہ جانیں ، ان کے لیے اس دنیا میں کامیاب ہونا بھی مقدر نہیں۔
