گھر کے باہر
حضرت عبداﷲ بن مسعود کہتے ہیں کہ جب قرآن کی یہ آیت اتری:کون ہے جو اﷲ کو قرضِ حسن دے تو وہ اس کو کئی گُنا بڑھا کر واپس کرے (2:245)۔ اس آیت کو سن کر حضرت ابوالدحداح نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں اے ابوالدحداح۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اپنا ہاتھ دکھا ئیے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھا یا۔ انھوں نہ کہا کہ پھر میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قر ض میں دےدیا۔
ابو الد حداح کا ایک باغ تھا جس میں چھ سو کھجورکے درخت تھے۔ اس وقت ان کی بیوی ام الدحداح اپنے بچوں کے ساتھ اس باغ میں تھیں۔ روای کہتے ہیں کہ ابو الد حداح آئے اور آوازدی کہ اے ام الد حد اح۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ ابو الد حداح نے کہا کہ اس باغ سے نکلو۔ کیوں کہ میں نے اسے اپنے رب کو قرض میں دیدیا۔ ام الد حداح نے کہا کہ اے ابو الد حداح، آپ کا سودا کامیاب رہا۔ اور اپنا سامان اور بچے لے کروہاں سے چلی آئیں (سنن سعيد بن منصور، حديث نمبر 417؛ مسند احمد، حديث نمبر12482)۔
اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابوالدحداح کی بیوی کھجوروں کے باغ میں کام کرتی تھیں۔ اس طرح کے واقعات کثرت سے دوراول کی مسلم خواتین کے حالات کے تحت ملتے ہیں جن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے معیاری دور میں عورتیں گھر کے اندر بند ہو کر پڑی نہیں رہتی تھیں۔ بلکہ وہ گھر کے باہر کے ضروری کام بھی انجام دیتی تھیں۔ تاہم خواتین کی یہ بیرونی سرگرمیاں برائے ضرورت تھیں ، نہ کہ برا ئے تفریح۔ وہ ایک صالح خاندان کی تعمیر کے لیے ہوتی تھیں ، نہ کہ باہر کی دنیا میں مصنوعی مساوات کا مظاہرہ کرنے کے لیے۔
