مطالعۂ حدیث کے درجات
ابتدائی دور کے محد ثین کا عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے حدیثوں کی جمع اور تدوین کا انتہائی مشکل کام انجام دیا۔ یہ گویا مطالعہ حدیث کا ابتدائی درجہ تھا۔ اس کے بعد اگلی نسل کا یہ کام ہے کہ وہ حد یثوں کا جامع انڈ کس (Index) تیار کر کے حدیثوں سے علمی استفادے کو آسان بنا دے۔اس کے بعد اس معاملے کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں احادیث کی جو تشریحات کی گئیں ان کو مرتب کیا جائے تاکہ ان احادیث کو سمجھنے کے لیے ابتدائی بیک گراؤنڈ معلوم ہو سکے۔
اس کے بعد اس معاملے کا چوتھا درجہ یہ ہے کہ ان احادیث کا مطالعہ زمانی حالات کے پس منظر میں کیا جائے تاکہ ان احادیث کا توسیعی مفہوم معلوم کیا جا سکے۔ احادیث کے توسیعی مفہوم سے کیا مراد ہے ،اس کے چند نمونے اوپر کی مثالوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔اسی طرح اس معاملے کا پانچواں درجہ یہ ہو سکتا ہے کہ تمام صحیح احادیث کا مکمل انسائیکلو پیڈیا تیار کیا جائے، تاکہ جدید انسان کے لیے اس کے اپنے مانوس اسلوب میں حدیثوں کا مطالعہ ممکن ہو سکے ، وغیرہ۔
حدیث کے مطالعے کے درجات جو یہاں بتائے گئے، وہ حتمی در جات نہیں ہیں۔ یہ مثالیں صرف اس مسئلہ کو بتانے کے لیے دی گئی ہیں کہ تقلیدی مطالعے کے مقابلے میں اجتہادی مطالعہ کا فرق کیا ہے اور اس سے انسان کو کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
