نقصان میں فائدہ
ڈاکٹر عنایت اللہ سبحانی جامعۃ الفلاح (بلریاگنج، اعظم گڑھ) میں استاد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے تحت مدارس کے آخری جماعت کے طلبہ اور نوجوان اساتذہ کی تدریب کا انتظام اس سال بمبئی میں رکھا گیا تھا۔ مولانا سبحانی کا ایک لڑکا جو جامعۃ الفلاح سے فارغ ہوا ہے، اس کے پاس دعوت نامہ نہیں آیا تھا، تاہم خبرسن کر وہ بھی بمبئی پہنچ گیا۔ وہاں جب وہ تدریبی پروگرام کے ہندستانی ذمہ دار سے ملا تو انہوں نے سب سے پہلے دعوت نامہ کا مطالبہ کیا۔ جب اس نے بتایا کہ اس کے پاس دعوت نامہ نہیں ہے تو فوراً ہی انہوں نے اس کو لینے سے انکار کردیا۔
وہ لڑکا مایوس ہوکر وہاں کی مسجد میں چلا گیا۔ نماز کا وقت ہوا تو تدریب کے سعودی شیوخ نمازکے لیے مسجد میں آئے۔ یہاں ایک شیخ سے مذکورہ نوجوان کی ملاقات ہوگئی۔ اس نے اپنا قصہ بتایا۔ سعودی شیخ نے کہا کوئی ہرج نہیں، تم میرے ساتھ چلو۔ انہوں نے پروگرام کے ناظم سے کہہ کر اس کو تدریب میں شامل کرادیا۔ آخر میں جب امتحان ہوا تو یہ نوجوان پوری جماعت میں فرسٹ آیا۔ اس نے96فیصد نمبر حاصل کیے۔
یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ اس دنیا میں نقصان میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔ مذکورہ نوجوان کو جب تدریبی پروگرام کے ناظم نے ردّ کردیا تو اس کو سخت جھٹکا لگا۔ اس بناپر بعدکو جب اسے پروگرام میں شامل کیا گیا تو اس نے ان طالب علموں سے زیادہ محنت کی، جن کو نہایت آسانی کے ساتھ داخلہ مل گیا تھا۔ اس نے دوسروں سے زیادہ محنت کی۔ اس نے اساتذہ کے درس کوزیادہ توجہ سے سنا۔ زیادہ اہتمام کے ساتھ نوٹ تیار کیے۔ اس طرح اس کی بڑھی ہوئی محنت کا یہ نتیجہ نکلا کہ پوری جماعت میں ٹاپ کیا۔ (ڈائری، 7دسمبر1996)
