اصلاحِ نصاب، یا اصلاحِ ماحول

مسلم رہنماؤں کے درمیان عرصے سے یہ تحریک چل رہی ہے کہ دینی مدارس کا نصاب (syllabus) بدلا جائے۔ یہ اصل مسئلے کا صرف کم تر اندازہ ہے۔ دینی مدارس میں بلا شبہ اصلاح کی ضرورت ہے، لیکن اِس ضرورت کا تعلق اصلاً اصلاحِ نصاب سے نہیں ہے، بلکہ اصلاحِ ماحول سے ہے۔ موجودہ حالت میں خواہ مدارس کا نصاب بدل دیا جائے یا اس کو باقی رکھا جائے، دونوں صورتوں میں یقینی طورپر مطلوب نتیجہ نکلنے والا نہیں ۔

دینی مدارس کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہاں کا نصاب قابلِ تبدیلی ہے، دینی مدارس کا اصل مسئلہ وہاں کا قدامت پرستانہ ماحول ہے جس کو بدلنا ضروری ہے۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دینی مدارس میں مکمل طورپر جمود (stagnation) کی فضا قائم ہے۔ اِن مدارس میں آزادانہ سوچ کو شجرِ ممنوعہ سمجھا جاتاہے۔ مدارس کا یہی جامد ماحول مدارس کے جدید رول کی ادائیگی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک اِس ماحول کو بدلا نہ جائے، مدارس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ دورِ جدید میں اپنا مطلوب رول ادا کرسکیں گے۔

مولانا شبلی نعمانی (وفات 1914)نے لکھا تھا کہ ہمارے مدارس میں مُتون پڑھائے جاتے ہیں ، فنون نہیں پڑھائے جاتے۔ یہ ایک صحیح بات تھی۔ اِس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مدارس میں اساتذہ اور طلبا کی سوچ تمام تر کچھ کتابوں اور ان کتابوں کے مصنفین پر مُرتکز رہتی ہے۔ وہ اِنھیں چند کتابوں کو علم سمجھتے ہیں اور ان کے مصنفین کو علما کا درجہ دیتے ہیں ۔ اِس سے طلبا اور اساتذہ کے اندر بند ذہن پیدا ہوتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر ہمارے مدارس میں فنون پڑھا ئےجائیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ موضوعات (subjects) زیر بحث آنے لگیں گے۔ اِس طرح غور وفکر کا دائرہ بہت زیادہ وسیع ہوجائے گا۔ اس طرح سوچ کا دائرہ چند مخصوص علما تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ کسی موضوع پر دوسرے اہلِ علم نے جو کچھ لکھا ہے، وہ بھی غور وبحث کے دائرے میں آجائے گا۔ اس طرح لوگوں کے ذہن کھلیں گے۔ لوگوں کا ذہنی ارتقاء ہوگا۔ لوگوں کے اندر تقلید کے بجائے اجتہاد کی صلاحیت ترقی کرے گی۔ ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ چاہنے لگے گا کہ پچھلے لوگ جو کام کرچکے ہیں ، میں اُن سے آگے جاؤں، میں علمی ارتقاء کی مزید منزلیں طے کروں ۔

اِس معاملے کی ایک مثال مولانا شبلی نعمانی کی زندگی میں پائی جاتی ہے۔ مولانا شبلی نعمانی نہ صرف یہ کہ ایک اچھے عالم تھے، بلکہ وہ ایک فعال آدمی تھے۔ وہ اظہارِ خیال کی آزادی کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ وہ جہاں بھی رہتے تھے، وہاں وہ لوگوں کے اندر یہ اسپرٹ پیدا کرتے تھے کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور کھلے ذہن کے تحت رائے قائم کریں اور دورِ جدید کے لحاظ سے اعلیٰ قابلیت پیدا کریں ۔ اِس سلسلے میں وہ انگریزی زبان سیکھنے پر بھی زور دیا کرتے تھے۔

اِس کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ مولانا شبلی کے قیامِ ندوہ (1905-1913) کے زمانے میں وہاں ایک زندہ علمی ماحول پیدا ہوگیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ مولانا شبلی نعمانی کے زمانے میں کئی اعلیٰ علمی شخصیتیں پیدا ہوئیں ۔ مثلاً مولاناسید سلیمان ندوی (وفات1953 ) ، مولانا ابو الکلام آزاد (وفات 1958)، مولانا عبدالباری ندوی (وفات 1976)، مولانا عبد الماجد دریابادی (وفات 1977)، وغیرہ۔

تعلیم کے سلسلے میں دو چیزیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں— نصاب، اور اساتذہ۔ کسی تعلیمی ادارے میں بلاشبہ نصاب کی بہت اہمیت ہے۔ لیکن نتیجے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو نصاب سے بھی زیادہ اہمیت اساتذہ کی ہے۔ نصاب کی حیثیت عملاً ایک ذریعہ کی ہے۔ تاہم اِس ذریعہ کا جو استعمال کرتاہے، وہ استاذ ہے۔ استاذ اگر لائق اور فعال ہو تو وہ کسی بھی نصاب کو استعمال کرکے طلبا کے اندر مطلوب روح پیدا کرسکتا ہے، اور اگر استاد لائق اور فعال نہ ہو تو اچھے سے اچھا نصاب بھی عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گا۔ (الرسالہ، نومبر 2009)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion