توسیعی صحبت

قرآن کی سورہ نمبر 26 میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام ﷺکی بابت فرمایا ہے کہ وہ ساجدین کے درمیان تمہارے تقلب کو دیکھ رہا ہے(26:219)۔ قرآن کی اس آیت میں ساجدین سے مراد مومنین ہیں۔اور تقلب کا مطلب ہے، چلنا پھرنا۔ اس سے مراد رسول اللہ ﷺکی صبح و شام کی سرگرمیاں ہیں جو آپ اہل ایمان کی اصلاح کے لیے اور ان کے اندر دینی شعور کو بیدار کرنے کے لیے انجام دیتے تھے۔آپ کی یہ کوششیں بھی توسیعی مفہوم میں صحبت رسول کا ایک حصہ تھیں۔ان کی کوششوں کے دوران آپ مسلسل اہل ایمان کے دینی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔توسیعی صحبت کے معاملہ کو سمجھنے کے لیے   یہاں اس قسم کی ایک مثال نقل کی جاتی ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ:يَا رَسُولَ اللهِ كَانَ ‌يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ! قَالَ’’: إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، وَقَعَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ ‘‘(مسنداحمد،حدیث نمبر 9624)۔ یعنی، ابوہریرہ بتاتے ہیں کہ ایک شخص نے ابوبکر کے خلاف سب و شتم کیا اور رسول اللہ ﷺ وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ اس پر متعجب ہوتے رہے اور تبسم فرماتے رہے۔ جب اس آدمی نے بہت زیادہ سخت کلامی کی تو ابوبکر نے اس کی بعض باتوں کا جواب دے دیا۔اس کے بعد رسول اللہﷺ غصہ ہو گئے اور وہاں سے اٹھ گئے۔ پھر ابوبکر چل کر ان سے ملے۔انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول،وہ آدمی مجھ کو سب شتم کر رہاتھا اور آپ بیٹھے رہے۔پھر جب میں نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو گئے اور وہاں سے اٹھ کر چلے آئے۔آپ نے فرمایا کہ پہلے تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے بول رہا تھا۔ پھر جب تم نے اس کو بعض  باتوں کا جواب دیا تو (فرشتہ چلا گیا) اور شیطان آگیا۔تومیں نے شیطان کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کیا۔

یہ اس چیز کی ایک اعلیٰ مثال ہے جس کو ہم نے پیغمبر کے ذریعہ ملی ہوئی شعوری بیداری کہا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر دو قسم کی صفات ہوتی ہیں— نفس امّارہ اور نفس لوّامہ۔نفس امّارہ شیطان کی علامت ہے اور نفس لوّامہ فرشتہ کی علامت۔ ایک آدمی آپ کو گالی دے اور آپ چپ رہیں تو گالی دینے والے کا نفس لوامہ بیدار ہو کر اندر ہی اندر اس کو ملامت کرتا رہتا ہے۔ یہ گویا آپ کی طرف سے فرشتہ کا جواب دینا ہے۔ اس کے برعکس، جب آپ ایسا کریں کہ سخت کلا می کے جواب میں آپ بھی سخت کلامی کریں تو دوسرے آدمی کا نفس امّارہ متحرک ہو جائے گا۔یہ آدمی کا شیطان کے زیر اثر آجانا ہے۔

رسول اللہﷺنے اپنی اس تلقین کے ذریعے صحابہ کو ایک عظیم حقیقت بتائی۔آپ نے صحابہ کے اندر وہ فکری روشنی پیدا کی جو ہر معاملہ میں ان کی کامیابی کی ضامن بن جائے، خواہ وہ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔

پیغمبر اسلامﷺنے اپنے ارشادکے ذریعہ اہل ایمان کو ایک گہری سوچ عطا کی۔ آپ نے بتایا کہ ہر انسان کے اندر پیشگی طور پر دو مختلف قسم کی شخصیتیں چھپی ہوئی ہیں۔ ایک، تمہاری دشمن شخصیت اور دوسری، تمہاری دوست شخصیت۔ یہ تمہارے اپنے اختیار میں ہے کہ تم فریق ثانی کو اپنا دوست بناتے ہو یا اپنا دشمن۔اگر تم نے فریق ثانی کے نفس امّارہ کو جگایا تو اس کی دشمن شخصیت تمہارے حصہ میں آئے گی۔اور اگر تم نے اس کے نفس لوّامہ کو جگایا تو اس کی دوست شخصیت تمہارے حصہ میں آئے گی۔

پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعہ اس اہم حقیقت کی طرف نشاندہی فرمائی کہ اس دنیا میں کچھ نہ کرنے کا نام بھی کرنا ہے اور کچھ نہ بولنے کا نام بھی بولنا۔اگر ایک شخص آپ کے خلاف سب شتم کر رہا ہے، اور آپ جواب نہیں دیتے اس کا مطلب سادہ طورپر یہ نہیں ہے کہ آپ نے جواب نہیں دیا ،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے خاموش رہ کر زیادہ طاقت ور متکلم کوبولنےکا موقع دیا ، یعنی خدا کے فرشتے کو۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ آپ جو کام کم موثرانداز میں انجام دیتے، اس کو خدا کے فرشتہ نے زیادہ موثر انداز میں انجام دے دیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion