انقلابی ذہن کی ضرورت
شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات 1762) نے اپنی کتاب عقد الجید (صفحہ 4) میں اجتہاد اور مجتہد کے مسئلہ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجتہد وہ ہے، جس کے اندر پانچ قسم کے علوم موجود ہوں— کتاب اللہ کا علم ، سنّت رسول کا علم ، علما سلف کے اقوال یعنی ان کے اتفاقات اور اختلافات کا علم، زبان کا علم، اور قیاس واستنباط کا علم)اَلْمُجْتَهِدُ مَنْ جَمَعَ خَمْسَةَ أَنْوَاعٍ مِنَ الْعِلْمِعِلْمَ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعِلْمَ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَأَقَاوِيلَ عُلَمَاءِ السَّلَفِ مِنْ إِجْمَاعِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ، وَعِلْمَ اللُّغَةِ، وَعِلْمَ الْقِيَاسِ(۔
شاہ ولی اللہ دہلوی (اور دوسرے علما)نے مجتہد کی جو شرطیں لکھی ہیں وہ بجائے خود درست ہیں۔ مگر یہ شرطیں صرف مقید اجتہاد کے لیے کارآمد ہیں، غیر مقید اجتہاد کے لیے یہ شرطیں کافی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں۔ ایک عام اجتہاد اور دوسرا خاص اجتہاد۔ عام اجتہاد سے مراد وہ اجتہاد ہے جو احوال ظاہری سے تعلق رکھتا ہو۔ اور خاص اجتہاد سے مراد وہ اجتہاد ہے جس کا تعلق احوال باطنی سے ہے۔ یعنی وہ حالات جو اوپری سطح (face value) پر دکھائی نہ دیتے ہوں مگر وہ گہری سطح (under current) میں موجود ہوں۔ان دونوں کے فرق کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ اجتہاد عام کا تعلق بصارت سے ہے ، اور اجتہاد خاص کا تعلق بصیرت سے۔
مثال کے طور پر اگرمجتہد کے سامنے یہ مسئلہ ہو کہ مسح علی الخفین ( چمڑے کے موزوں پرمسح ) کی جو رعایت شریعت میں دی گئی ہے ، کیا وہ رعایت موجودہ زمانے کے صنعتی موزوں پر بھی ہے، تو اس قسم کے اجتہاد کے لیے مذکورہ 5 علوم کی واقفیت کافی ہے۔ اسی طرح اگر یہ سوال ہو کہ انجکشن کی سوئی جسم میں داخل ہونے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں تو اس مسئلہ کا حکم معلوم کر نے کے لیے بھی مذکورہ پانچ علوم میں واقفیت کافی ہو سکتی ہے۔ ایسا آدمی اپنے اس علم کی بنیاد پر قدیم فقہی ذخیرہ میں ایک ایسا جزئیہ پا سکتا ہے جس میں فقیہ نے یہ فتویٰ دیا ہو کہ بچھو کسی کے جسم میں ڈنک داخل کر دے تو اس کی وجہ سے اس کا وضو ٹوٹے گا یا نہیں۔
مگر اجتہاد خاص کے لیے مذ کورہ پانچ شرطوں کے علاوہ ایک اور شرط لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ مزید شرط حد یث کے الفاظ میں یہ ہے:وَعَلَى الْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ بَصِيرًا بِزَمَانِهِ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ یعنی، دانا شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے کو جاننے والا ہو۔
حدیث میں جس مزید شرط کا ذکر ہے اس کو ایک لفظ میں حالات زمانہ سے واقفیت کہا جاسکتا ہے۔ یعنی مجتہد جس زمان و مکان میں اجتہاد کر رہا ہے ،اس زمان و مکان سے وہ بھر پور واقفیت رکھتا ہو۔ وہ تقلیدی علوم میں دستگاہ کے ساتھ غیر تقلیدی علوم پر گہری نظر رکھتا ہو۔ یہ دوسری صلاحیت خارجی معلومات اور غور و فکر اور حقائق کی معرفت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
اسلامی تاریخ میں غیر مقید اجتہاد یا تحقیقی اجتہاد کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ اس قسم کی ایک مثال مدنی دور میں کی جانے والی صلح حدیبیہ ہے۔ اس صلح کے وقت بظاہر جو حالات تھے وہ تمام تر اہل اسلام کے خلاف تھے۔ کیوں کہ یہ 10 سالہ نا جنگ معاہدہ مخالفین کی یک طرفه شرطوں کو مان کر کیا جارہا تھا۔ صلح کے اس ظاہری پہلو کی بنا پر اس کو قبول کرنا صحابہ پر سخت گراں گزر رہا تھا۔ حتیٰ کہ عمر فاروق نے اس معاہدہ کو دنیۃ (ذلت) قرار دیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3182)۔
اس معاملے کی حقیقت قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن میں اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے:فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا (48:27)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ:پس جانا اللہ نے جو کچھ نہ جانا تم نے۔ مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم صرف دکھائی دینے والی باتوں کو جانتے تھے مگر اس کے ساتھ کچھ بظاہر نہ دکھائی دینے والی باتیں بھی وہاں موجود تھیں اور اللہ کی رہنمائی سے اللہ کے رسول نے ان بظاہر نہ دکھائی دینے والی باتوں کی بنیاد پر صلح کا یہ معاہدہ کیا۔
حدیبیہ کے وقت ظاہری باتیں تو یہ تھیں کہ یہ صلح مخالفین کی یکطرفہ شرطوں پر کی جارہی تھی۔ مگر غیر ظاہری (under current) بات یہ تھی کہ اہل اسلام اور غیر اہل اسلام کے درمیان جنگی حالات کی بنا پر معتدل فضا میں اختلاط (interaction) ختم ہو گیا تھا۔ اب اگر دونوں فریقوں کے درمیان نا جنگ معاہدہ ہو جائے تو معتدل حالات میں لوگ ایک دوسرے سے ملنے لگیں گے اور دونوں فریقوں کے درمیان کھلا تبادلۂ خیال (open dialogue) شروع ہو جائے گا۔ اس عمل کے دوران اسلام کی خوبیاں اپنے آپ لوگوں کے اوپر ظاہر ہونے لگیں گی اور وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں:يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (110:2) سے تعبیر کیا گیا ہے۔یعنی، لوگ خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں فوج در فوج۔
چنانچہ یہی ہوا۔ صلح حدیبیہ کے وقت اہل اسلام کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بھی کم تھی مگر اس کے بعد امن کے حالات میں اسلام کی جو اشاعت ہوئی اس کے نتیجے میں دو سال سے بھی کم مدت میں اہل اسلام کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ کسی جنگ کے بغیر صرف عددی طاقت کے ذریعہ اہل اسلام کو غلبہ حاصل ہو گیا۔
یہی واقعہ تیرہویں صدی میں ایک اور صورت میں پیش آیا۔ جنگجو تاتاری ہتھیار کی طاقت سے مسلم دنیا میں داخل ہو گئے۔انہوں نے سمرقند سے حلب تک مسلم بستیوں کو تباہ کیا اور عباسی خلافت کا خاتمہ کر دیا۔ یہ فتنہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں میں یہ مقولہ مشہور ہو گیا کہ:مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ التَّتَرَ انْهَزَمُوا وَأُسِرُوا فَلَا تُصَدِّقُوهُ (الکامل فی التاریخ لابن الاثیر، جلد10، صفحہ 353)۔ یعنی اگر تم سے کہا جائے کہ تا تاری شکست کھا گئے اور قید کر لیے گئےتو تم اس کو نہ ماننا۔
یہ ظاہری صورت حال تھی۔ مگر اس کی تہہ میں ایک اور چیز چھپی ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ تا تاری نیزہ اور تلوار کی طاقت ضرور رکھتے تھے مگر وہ نظریہ حیات (ideology) سے خالی تھے۔
مسلمانوں سے اختلاط کے دوران وہ اسلام کے نظریہ سے متعارف ہوئے۔ چونکہ ان کے پاس اس سے مقابلے کے لیے کوئی جوابی نظریہ موجود نہ تھا، وہ تیزی سے اسلامی نظریہ سے متاثر ہونے لگے۔ یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا جس کو ایک مشہور مستشرق فلپ کے ہٹی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہوگئے تھے:
The religion of Muslims has conquered where their arms had failed. (History of the Arabs by P. K. Hitti, 1989, p. 488)
اب بعد کے زمانے کو دیکھیے۔ اس سلسلے میں پہلی سبق آموز مثال شاہ ولی اللہ دہلوی کی ہے۔ ان کے زمانے میں ہندستان کی مغل سلطنت کمزور ہو گئی تھی۔ اور یہ آثار نظر آنے لگے تھے کہ جلد ہی وہ زوال کا شکار ہو کر ختم ہو جائے گی۔ اس وقت شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کوشش اس پر لگا دی کہ یہ مسلم سلطنت کسی نہ کسی طرح دوبارہ مستحکم ہو جائے۔ انہوں نے اس وقت کے مسلم حکمرانوں کو جوش دلایا کہ تم لوگ تلوار لے کر اٹھو اور اپنے دشمنوں سے لڑ کر ان کا خاتمہ کر دو (التفہیمات الالٰہیہ،1936، جلد1، صفحہ16-215)۔ دوسری طرف انہوں نے کابل کے حاکم احمد شاہ ابدالی کو ترغیب دی کہ وہ ہندستان پر حملہ کر کے سکھوں اور مرہٹوں کازور توڑ دے تاکہ مغل سلطنت محفوظ ہو کر قائم رہ سکے۔
مگر شاہ ولی اللہ کی یہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنے صرف قریبی اور ظاہری حالات کو دیکھتے تھے۔ عالمی اعتبار سے حالات کا جو نیا سیلاب آرہا تھا اس سے وہ قطعا بے خبر تھے۔ نئے سیلاب سے میری مراد ڈیماکریسی کا دور ہے۔ شاہ ولی اللہ کا یہ خیال تھا کہ وہ قائم الزمان ہیں (فیوض الحرمین 2007، حیدرآباد سندھ، صفحہ 111)۔ مگر ان کی ساری سوچ جانے والے دورِ بادشاہت میں کام کر رہی تھی۔ آنے والے دور جمہوریت میں کیا صورت پیش آئے گی، اس سے وہ مطلع نہ ہو سکے۔ دور بادشاہت میں ایک شخص پورے ملک کا حاکم ہوا کرتا تھا مگر دور جمہوریت میں عوامی حاکمیت کا اصول رائج ہونے والا تھا۔ اور وہ مسئلہ پیدا ہونے والا تھا جس کو اکثریت کے مقابلے میں اقلیت کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ اگر حالات کے رخ کو دیکھ پاتے تو وہ اپنی ساری طاقت دعوت کے محاذ پر لگا دیتے۔ جس میں گویا اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کا راز چھپا ہوا تھا۔ دعوت کا مطلب یہ تھا کہ مغل سلطنت اگر ختم ہو جائے تب بھی اہل اسلام اپنی عددی برتری کے زور پر غالب حیثیت کے حامل ہوں گے۔ مگر شاہ ولی اللہ دہلوی دعوت کی اس انقلابی اہمیت سے بالکل بے خبر تھے۔ حتیٰ کہ ان کی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغۃمیں ہر قسم کے ابواب ہیں مگر کتاب الدعوۃ یا کتاب التبلیغ اس کے اندر موجود نہیں۔
اب سید جمال الدین افغانی (وفات 1897) کی مثال لیجیے۔ ان کے زمانے میں انگریز اور فرانسیسی تقریباً پوری مسلم دنیا پر سیاسی اعتبار سے غالب آگئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی نے اپنی پوری زندگی اس سیاسی غلبہ کو ختم کرنے میں لگادی۔ ان کا نعرہ تھا اَلشَّرْقُ لِلشَّرْقِيِّينَ(مشرق مشرقیوں کے لیے ہے)۔ بظاہر دیکھیے تو آج مغربی قوموں کا سیاسی تسلّط ختم ہو چکا ہے اور تقریباً ساٹھ آزاد مسلم ممالک دنیا کے نقشے پر وجود میں آچکے ہیں۔ مگر حقیقی حالات کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوا۔ مسلم قومیں آج بھی اہل مغرب کی بالاتری کے تحت جینے پر مجبور ہیں۔
اس کا سبب یہ ہے کہ سید جمال الدین افغانی حالات کو صرف ظاہر کے اعتبار سے دیکھ سکے ، وہ گہری حقیقتوں سے آشنا نہ ہو سکے۔ وہ انگریز اور فرانسیسیوں کے غلبے کو صرف سیاسی غلبہ کے ہم معنی سمجھتے رہے۔ مگر یہ اصل معاملے کا صرف ایک ظاہری پہلو تھا۔ اصل حقیقت یہ تھی کہ مغربی قوموں نے علم میں تقدم حاصل کر لیا تھا، وہ سائنس اور ٹکنالوجی میں مسلمانوں سے آگے بڑھ گئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی اپنے قدیم سیاسی ذہن کی بناپر معاملے کے ان گہرے پہلوؤں کو نہ دیکھ سکے۔
سید جمال الدین افغانی اگر جدید زمانے میں علم کی اہمیت کو سمجھتے تو وہ بیرونی غلبے کو ایک وقتی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیتے اور اپنی ساری طاقت اس راہ پر لگا دیتے کہ مسلمان علمی اعتبار سے اس طرح آگے بڑھ سکیں جس طرح مغربی قومیں اس میدان میں آگے بڑھ گئی ہیں۔ اگر وہ بے فائدہ سیاسی جہاد کو چھوڑ کر علمی جہاد میں سر گرم ہو جاتے اور اپنے ساتھیوں کو اس راہ پر لگا دیتے تو یقینی ہے کہ مسلم ملکوں کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو آج ہر طرف دکھائی دیتی ہے۔
یہ چند مثالیں بتاتی ہیں کہ مذکورہ پانچ شرطیں مقید اجتہاد کے لیے بلاشبہ کافی ہیں۔ مگر مقید اجتہاد یا مطلق اجتہاد کے لیے ایک اور شرط لازمی طور پر ضروری ہے اور وہ ہے زمانے کے حالات سے گہرائی کے ساتھ باخبر ہونا۔ اس مزید شرط کے بغیر جو اجتہاد کیا جائے گا وہ سراسر بے نتیجہ رہے گا۔ ایسا اجتہاد کبھی ملت کو نتیجہ خیز رہنمائی نہیں دے سکتا۔
