روس کی مثال
تاریخ میں اس نوعیت کی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں جب کہ امن کی طاقت جنگ کی طاقت سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔ پرامن ذرائع نے وہ کام انجام دےدیا جو جنگی ذرائع سے بھی انجام نہیں پا سکتا تھا۔ پوری تاریخ میں اس تدبیر کی سب سے زیادہ شاندار مثال وہ ہے جو رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں پیش آئی۔ (اس کی تفصیل کتاب’’دین کامل‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے) یہاں ہم بیسویں صدی کی ایک اور مثال درج کرتے ہیں۔
18ویں صدی میں وہ شہنشاہیت وجود میں آئی جس کو عام طور پر برطانیہ عظمیٰ (Great Britain) کہا جاتا ہے۔ روس ایک عظیم سرحدی ملک کی حیثیت سے ہمیشہ برطانیہ کی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ پہلے اس ملک میں زار کی سلطنت قائم تھی۔ 191ء میں کمیونسٹ انقلاب آیا اور روس نے سوویت روس کی شکل اختیار کر لی۔
پہلی عالمی جنگ (18-1914) کے دوران کمیونسٹ پارٹی کو موقع ملا کہ وہ حالات کی ابتری کو استعمال کر کے روس میں اپنا نفوذ حاصل کر سکے ۔کمیونسٹ نظریات تیزی سے روسی باشندوں میں پھیلنے لگے۔ وہ زار کے ’’ظالمانہ‘‘ نظام کے مقابلے میں اشتراکی نظام کو اپنے لیے زیادہ بہتر سمجھنے لگے۔
یہ صورت حال برطانیہ کے لیے اس کی سلطنت کے مشرقی حصہ میں ایک خطرہ کے ہم معنی تھی۔ چنانچہ نومبر 1918ء میں انگریز فوجی افسروں کا ایک وفد سمرقند بھیجا گیا تاکہ وہ تازہ صورت حال کا جائزہ لے کر اس کے بارے میں رپورٹ پیش کرے۔ یہ ایک خفیہ وفد تھا۔ چنانچہ ظاہری طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ:ایک تجارتی وفد ہے اور وسط ایشیا کی کپاس کا سودا کرنے جا رہا ہے۔ وفد کے ممبران یہ تھے:
کرنل بیلی (F.M. Bailey)
کرنل ایتھرٹن (P.T. Etherton)
میجر بلیکر (L.V.S. Blacker)
اس وفد نے روسی علاقے میں پہنچ کر اس مقصد کے تحت وہاں کا جائزہ لیا جس کے لیے وہ بھیجا گیا تھا۔ واپسی کے بعد کرنل ایتھرٹن نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا —وسط ایشیا کے قلب میں
‘‘In the Heart of Central Asia’’
مصنف نے اپنی کتاب میں جو باتیں لکھیں، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ بالشو یکوں (کمیونسٹوں) کے نئے نظریات جن کو لے کر وہ بڑھ رہے ہیں، وہ بالقوہ طور پر مشرق میں انگریزی غلبے کے لیے اس سے زیادہ بڑا خطرہ ہیں جتنا کہ ماضی میں شہنشاہ زار کی تمام فوجیں ہو سکتی تھیں:
‘‘The new set of ideas of the Bolsheviks was potentially much more of a menace to English domination in the Orient than all the Czar's armies in the past.’’ (pp. 92-93)
بیسویں صدی کے آغاز میں شہنشاہ زار کے پاس ہر قسم کی فوجی طاقت تھی۔ اس کے مقابلےمیں کمیونسٹوں کے پاس صرف ایک غیر فوجی طاقت تھی۔ اور وہ ان کا نظریہ تھا۔ روس میں دونوں طاقتوں (فوج اور نظریہ) کے درمیان مقابلہ پیش آیا۔ اس مقابلے میں فوجی طاقت کے حاملین کو شکست ہوئی اور جو لوگ نظریے کی طاقت لے کر آگے بڑھے تھے ، وہ کامیاب ہو گئے۔ یہ واقعہ روس میں اکتوبر 1917ء میں پیش آیا۔
مذکورہ واقعہ اسلامی طریق کار کی صداقت کی ایک عصری تصدیق ہے۔ اسلام کا اعتماد سب سے زیادہ اپنی نظریاتی طاقت پر ہے۔ اسلامی تحریک اپنی نظریاتی طاقت کے زور پر آگے بڑھتی ہے۔ اسلام اپنے نظریے کے ذریعے ہر دوسری چیز پر غلبہ حاصل کرتا ہے۔ اسلام کی تاریخ اس کی نمایاں مثال ہے۔ مذکورہ حوالہ اسی اسلامی صداقت کی گویا ایک عصری تائید و توثیق ہے۔
