یہود کی مثال
بعثتِ محمدی سے پہلے قدیم زمانے میں یہود اسی دعوتِ توحید اور شہادتِ حق کے مقام پر کھڑے کیے گئے تھے۔ مگر انہوں نے غفلت برتی۔ انہوں نے اپنی ڈیوٹی کو انجام دینا چھوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خدا کی نظر میں بے قیمت ہوگئے۔ خدا نے انہیں غیر اقوام کے حوالے کر دیا۔ ان کا یہ حال ہوگیا کہ وہ بڑے بڑے عمل کرتے تھے مگر ان کے عمل کا کوئی نتیجہ ان کے حصے میں نہ آتا تھا۔
بائبل کے آخری ابواب میں یہود کے اس انجام کا تفصیل سے ذکر آیا ہے۔ ان کے نبی بار بار انہیں اس غفلت پر تنبیہ کرتے ہوتے نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں بائبل کا ایک پیراگراف نقل کیا جاتا ہے:
’’تب خداوند کا کلام حجّی نبی کی معرفت پہنچا کہ کیا تمہارے لیے مُسقّف گھروں میں رہنے کا وقت ہے جب کہ یہ گھر ویران پڑا ہے۔ اور اب رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ تم اپنی روش پر غور کرو۔ تم نے بہت سا بویا پر تھوڑا کاٹا۔ تم کھاتے ہو پر آسودہ نہیں ہوتے۔ تم پیتے ہو پر پیاس نہیں بجھتی۔ تم کپڑے پہنتے ہو پر گرم نہیں ہوتے اور مزدور اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کرتا ہے۔ رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ اپنی روش پر غور کرو۔ پہاڑوں سے لکڑی لا کر یہ گھر تعمیر کرو اور میں اس سے خوش ہوں گا اور میری تمجید ہوگی خدا وند فرماتا ہے۔ تم نے بہت کی امید رکھی اور دیکھو تھوڑا ملا اور جب تم اسے اپنے گھر میں لائے تو میں نے اسے اُڑا دیا۔ رب الافواج فرماتا ہے کیوں؟ اس لیے کہ میرا گھر ویران ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کودوڑا چلا جاتا ہے، اس لیے نہ آسمان سے اوس گرتی ہے اور نہ زمین اپنا حاصل دیتی ہے۔‘‘(حجّی،1:1-10)
یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا انجام نظر آتا ہے، انہوں نے بھی بہت بویا پر تھوڑا کاٹا۔ ان کی دھواں دھار تحریکوں اور بڑی بڑی کانفرنسوں کا حاصل عملاً اتنا کم ہے کہ ایسا معلوم ہوتا کہ گویا مسلمانوں کا ہر رہنما اپنی محنت کی کمائی کو سوراخ دار تھیلی میں جمع کر رہا ہے جو گھر پہنچتے پہنچتے گر جائے۔
