ایک اور واقعہ
ابن عبدالبر نے استیعاب (جلد 4، صفحہ 1831) میں قتادہ کی روایت نقل کی ہے۔ عمر فاروق کہیں جا رہے تھے۔ راستہ میں ان کو ایک بوڑھی خاتون ملیں ۔ آپ نے ان کو سلام کیا۔ سلام کا جواب دینے کے بعد وہ بولیں: ’’اے عمرؓ، ایک وقت تھا جب میں نے تم کو بازار عکاظ میں دیکھا تھا۔ اس وقت تم عمیر کہے جاتے تھے۔ لاٹھی ہاتھ میں لیے بکریاں چراتے تھے۔ پھر زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ تم عمرؓ کہے جانے لگے۔ پھر ایک وقت آیا کہ تم امیر المومنین کہے جاتے ہو۔ دیکھو رعیت کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو کہ جو اللہ کی وعید سے ڈرتا ہے، اس کے دور کا آدمی بھی قریبی رشتہ داروں کی طرح ہوتا ہے اور جو موت سے ڈرتا ہے، اس کے حق میں اندیشہ ہے کہ وہ اسی چیز کو کھودے گا جسے وہ بچانا چاہتا ہے‘‘۔
جارود عبدی، جو اس وقت عمر فاروقؓ کے ساتھ تھے، یہ سن کر بولے: ’’اے عورت تو نے امیر المومنین کے ساتھ بہت زبان درازی کی، عمر فاروقؓ نے فرمایا:انہیں کہنے دو، جانتے ہو یہ کون ہیں۔ ان کی بات تو سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی تھی۔ عمر کو تو بدرجہ اولیٰ سننا چاہیے۔ یہ خاتون قبیلۂ خزرج کی خولہ بنت ثعلبہ تھیں جن کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 58 کے شروع میں آیا ہے:
بے شک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں ...‘‘—
