جب آدمی عقل کھو دے

پندرھویں صدی قبل مسیح تک مصر میں عمالقہ کی حکومت تھی جو مصر کے باہر سے آ کر مصر کی حکومت پر قابض ہو گئے تھے۔ یوسف علیہ السلام اسی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد مصر میں قومی انقلاب ہوا۔ عمالقہ کی حکومت ختم ہو گئی اور ایک ملکی خاندان نے مصر کی حکومت پر قبضہ کر لیا اور اپنا لقب فرعون اختیار کیا۔ موسیٰ علیہ السلام سابق حکمراں قوم (بنی اسرائیل) سے تعلق رکھتے تھے اور فراعنہ میں سے ایک فرعون کے پاس خدا کا پیغام لے کر بھیجے گئے۔

فرعون اپنے زمانہ میں بڑے جاہ و جلال کا بادشاہ تھا۔ حضرت موسیٰ جب اس کے دربار میں آ کر کھڑے ہوئے تو فرعون نے ان کو حقیر سمجھا۔ دبے ہوئے فرقہ کا ایک فرد، جس کے پاس نہ شان دار کپڑے تھے اور نہ پرشکوہ سواری، نہ اس کے آس پاس دنیوی اہمیت کی اور کوئی چیز موجود تھی ، اچانک بادشاہ کے دربار میں آ کر کہتا ہے کہ میں تمہارے پاس خدا کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے درباری ہنس پڑے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کی بات کو مذاق سمجھا۔ ان کے لیے ناقابل فہم تھا کہ اتنی معمولی حیثیت کا آدمی خدا کا نمائندہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کے پیغام کو اس کے دلائل کے اعتبار سے نہیں دیکھا بلکہ اس اعتبار سے دیکھا کہ اس کا پیش کرنے والا کیسا ہے۔ اور جب انہیں نظر آیا کہ پیش کرنے والا ایک معمولی آدمی ہے تو انہوں نے ان کی بات کو، دلائل کی عظمت کے باوجود ، حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔

حضرت موسیٰ کی بات ملک میں پھیلنے لگی اور بہت سے لوگ اس کے وزن کو محسوس کرنے لگے۔ اس وقت فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم کس کی باتوں پر دھیان دے رہے ہو۔ یہ شخص تو عجیب الجھی ہوئی باتیں کرتا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہ ہو سکا کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ دوسری طرف میرا معاملہ ہے کہ میں صاف اور سمجھ میں آنے والی بات کہتا ہوں۔ میرے برسرِ حق ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ خدا نے مجھ کو بڑائی عطا کی ہے۔ ا س ملک کا اقتصادی نظام میرے حکم کے تحت چل رہا ہے ، موسیٰ اگر خدا کے نمائندے ہیں تو ’’کیوں نہ ان پر سونے کے کنگن اتارے گئے۔ یا فرشتوں کا دستہ ان کے ساتھ ہوتا‘‘۔ فرعون کی یہ باتیں اس حد تک کارگر ہوئیں کہ اس نے اپنی قوم کی عقل کھو دی اور قوم نے اس کا کہنا مان لیا، وہ پہلے ہی سے فاسق لوگ تھے (43:54)۔

جب بھی حق کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو اس کی زد سب سے پہلے ان لوگوں پر پڑتی ہے جو کسی چلے ہوئے مذہب کے بل پر عوامی قیادت حاصل کیے ہوں، ایسے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ داعی کی باتوں سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں تو وہ کچھ دلفریب باتیں کہہ کر لوگوں کے ذہن کو اس سے پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ داعی کے کھلے ہوئے دلائل کے مقابلہ میں ان کی پُرفریب باتوں کی کوئی حقیقت نہیں کرتے اور قائدین کی خوش نما باتوں میں آ کر ان کے ساتھ ہو جاتے ہیں اور حق کے داعی کو چھوڑ دیتے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion