سب عورتیں یکساں
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کبھی شیطان کی صورت میں آگے آتی ہے اور کبھی وہ شیطان کی صورت میں پیچھے جاتی ہے۔ جب تم میں سے کوئی شخص کسی غیر عورت کو دیکھے اور وہ اُس کو پسند آئے اور وہ اُس کے دل میں اُتر جائے تو وہ اپنی بیوی کا قصد کرے اور وہ اُس سے ملے کیوں کہ اس کی وجہ سے اُسں کے دل میں جو ہے وہ اُس سے نکل جائے گا(صحیح مسلم، حدیث نمبر 1403)۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی غیر عورت کو دیکھے اور وہ اُس کو اچھی لگے تو وہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے۔ کیوں کہ اُس کے پاس بھی وہی ہے جو دوسری عورت کے پاس ہے(سنن الدارمی، حدیث نمبر 2261)۔
ان روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خوبصورتیدراصلجنت کی چیز ہے، اور وہ جنت ہی میں کسی خوش نصیب انسان کو ملے گی۔ خوبصورتی موجودہ دنیا کی چیز ہی نہیں۔ اگر کوئی مرد کسی غیر عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو سمجھ لیجیے کہ یہ شیطان کا فریب تھا۔ شیطان کا یہ فریب صرف اُس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک وہ عورت اُس کو بیوی کی حیثیت سے نہ لے۔ بیوی کی حیثیت سے ملنے کے بعد شیطان کا خوش نما پردہ اُس سے ہٹ جاتا ہے اور وہی عورت اُس کو ایک عام عورت دکھائی دینے لگتی ہے جو پہلے اُس کو دل کش صورت میں دکھائی پڑی تھی۔
ایسی حالت میں ہر عقلمند آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ جب وہ کسی اجنبی عورت کو دیکھے اور وہ اُس کو اچھی لگے تو وہ اُس کو نظر کا دھوکہ سمجھے۔ وہ واپس ہو کر اپنی بیوی کے پاس آ جائے۔ کیوں کہ فطرت کی تخلیق کے مطابق،اُس کی اپنی بیوی کے پاس بھی وہی نسوانیت ہےجو اُس کو اجنبی عورت کے یہاں نظر آئی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ بظاہر ایک غیر خوبصورتعورتبھیاُسیطرح کی ایک نسوانی شخصیت ہے جیسا کہ بظاہر ایک خوبصورت عورت۔ جدید دنیا میں لومیریج کے باوجود طلاق کی کثرت کا سبب یہی ہے۔ جب یہ لوگ شادی سے پہلے بوائےفرینڈ اور گرلفرینڈ کی حیثیت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو ایک فریب نظر کے تحت دونوں غیر حقیقی طور پر ایک دوسرے کو خو بصورت سمجھ لیتے ہیں۔ مگر جب یہی لوگ شادی کے بعد بوائےہزبنڈ اور گرلوائف کی حیثیت سے ایک دوسرے کو پا کر ایک ساتھ رہنا شروع کرتے ہیں تو جلد ہی پچھلی کشش ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اُکتا کر وہ ایک دوسرے سے جُداہو جاتے ہیں۔
جو عورت یا مرد اس حقیقت کو جان لے وہ فریبنظر میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنا لیں گے کہ وہ اپنی زندگی کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں گزار یں، وہ اپنی زندگی کو زیادہ با معنیٰ زندگی بنا سکیں۔