اسلامی تمنا
جامعہ دارالاسلام کے ایک طالب علم سے جون 2000 میںملاقات ہوئی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میری تمنا ہے کہ مجھے سعودی عرب میں کوئی کام مل جائے اور وہاں میں بیت اللہ (مکہ) کے پڑوس میں رہوں۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی صحیح تمنا نہیں۔ اگریہ صحیح اسلامی تمنا ہوتی تو فتح مکہ کے بعد سارے صحابہ آکر مکہ میں آباد ہوجاتے اور یہیں ان کی قبریں بنتیں۔ مگر جیساکہ معلوم ہے مکہ میں صحابہ کی بہت کم قبریں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ میں فرمایا تھا کہ میں ساری دنیا کے لیے نبی بناکر بھیجا گیاہوں۔ اس لیے تم لوگ مختلف ملکوں میں جاؤ اور وہاں کے لوگوں کو میرالایاہوا دین پہنچاؤ۔ اس کے بعد وہ اطراف کے ملکوں میں پھیل گئے اور دعوتی عمل میں اپنی تمام عمر پوری کردی۔
)ڈائری، 11جون2000(
