تعصّب کی حد
جاراللہ زمخشری (467-537ھ) ایک معتزلی عالم تھے۔ معتزلہ سے عام مسلمانوں کا اختلاف اتنا بڑھا کہ وہ ان کی کتابوں کے دشمن ہو گئے۔ فرقہ معتزلہ میں کثرت سے علما تھے اور انہوں نے بہت بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں مگر ان کی تمام کتابیں جلا دی گئیں۔ اس میں صرف ایک استثنا ہے اوروہ زمخشریکا ہے۔ زمحشری اگرچہ معروف معتزلی تھا۔ تاہم اس کی دو کتابیں المفصل (نحو) اور الکشاف (تفسیر قرآن) آج بھی موجود ہیں اور علمائے اہل سنت کے درمیان بدستور مقبول ہیں۔ اور علمی مرجع کے طور پر کام دیتی ہیں۔
اسی طرح ابن منظور (711-630 ھ) ایک شیعہ تھا۔ شیعی گروہ اور اہل سنت کے درمیان ایک ہزار سال سے زبردست اختلافات موجود ہیں۔ آج تک ان میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ شیعہ علما کی کتابیں صرف شیعہ فرقہ کے درمیان رائج ہیں۔ سنّی علما ان کو دیکھتے ہیں تو تردید کے لیے ، نہ کہ استفادہ کے لیے۔ مگر یہاں بھی بعض استثنا ہیں۔ مثلاً ابن منظورکی کتاب لسان العرب (لغت) کو علما اہل سنّت کے درمیان خصوصی مقام حاصل ہے اور اہل علم عام طور پر اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
زمخشری کا اعتزال اور ابن منظور کی شیعیت ان کی کتابوں کو علما اہل سنّت کے درمیان مقبول بنانے میں حارج نہ ہو سکیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بعض اہم موضوعات پر ایسی قیمتی کتابیں لکھیں، جن کے مثل اس خاص موضوع پر کوئی دوسری کتاب موجود نہ تھی۔ ان کی مقبولیت ان کے امتیازی عمل کی قیمت ہے۔ بعض آدمی کا کام اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ اعتقادی اختلافات ان کو قبول کرنے میں حارج نہیں ہوتے۔
زندگی کے معاملات کو سمجھنے کے لیے جن لوگوں کو صرف ’’تعصب‘‘ کا لفظ معلوم ہے انہیں ایک اور حقیقت کی خبر نہیں۔ وہ یہ کہ تعصب کے عمل میں بھی ایک حد ہے۔ ایک حد کے بعد تعصب غیر موثر ہو جاتا ہے، یہ حد ہے ’’امتیاز‘‘۔
اگر آپ اپنی کارکردگی کو عام معیار سے بڑھا کر امتیاز کے درجہ میں پہنچا دیں تو تعصب کی دیواریں اپنے آپ گر جاتی ہیں۔ اس کے بعد آپ کا دشمن بھی آپ کا اتنا ہی قدرداں بن جاتا ہے جتنا آپ کا دوست۔
