حواس نہ کھوئیے
’’اعتماد زندگی ہے اور بے اعتمادی موت‘‘ پرم ہنس کے اس قول کی تشریح ملکۂ برطانیہ کے ایک واقعہ سے بہت اچھی طرح ہوتی ہے ۔
لندن میں بنگھم پیلسں ملکۂ الز بتھ کی شاہی قیام گاہ ہے ۔13جولائی 1982 کو یہ واقعہ ہوا کہ ایک اجنبی شخص ملکۂ برطانیہ کے سونے کے کمرے میں گھس گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹوٹی ہوئی ایش ٹرے تھی، جو دھار دار آلے کا کام کر سکتی تھی۔ یہ امکانی طور پر ایک خطرناک ہتھیار تھا۔ ملکہ نے جب اچانک ایک غیر شخص کو ایسی حالت میں کمرے میں پایا تو ان کو خطرہ کا احساس ہوا۔ ملکہ کا ہاتھ فوراً مخصوص بٹن پر پہنچ گیا۔ یہ محل کی ایک خاص گھنٹی ہے جو خطرہ کے وقت حفاظتی عملہ کو خبر دار کرنے کے لیے بجائی جاتی ہے۔ ملکہ نے بٹن بار بار دبائی مگر گھنٹی خاموش تھی کسی سبب سے وہ بج نہ سکی۔
یہ بڑا نازک لمحہ تھا۔ ملکہ ایک تنہا خاتون کی حیثیت سے کمرے میں تھیں۔ دوسری طرف ایک طاقت ور مرد دھار دار آلہ لیے کھڑا تھا۔ ملکہ اگر آنے والے آدمی پر بگڑ جاتیں یا اس کو نکل جانے کا زبانی حکم دیتیں تو وہ فوراً غصہ میں آکر ٹوٹ پڑتا اور ملکہ کا کام تمام کر دیتا۔ مگر ملکہ نے حاضر دماغی سے کام لیا۔ انھوں نے اپنی قوتوں کو سنبھالا اور آنے والے آدمی سے نرمی کے انداز میں بات شروع کر دی ۔ ملکہ نے اجنبی آدمی کو سگرٹ پیش کی اور اپنی ٹھنڈی باتوں سے اس کی توجہ دوسری طرف موڑ دی ۔ انھوں نے نہ تو آدمی کو برا بھلا کہا اور نہ محل کے اندر بلا اجازت گھس آنے پر کوئی تنبیہ کی ۔ اس طرح انھوں نے اجنبی آدمی کو دس منٹ تک ادھر ادھر کی باتوں میں مشغول رکھا۔ اتنی دیر میں محل کے حفاظتی آدمی پہنچ گئے اور مذکورہ شخص گرفتار کر لیا گیا۔
ملکۂ برطانیہ کی خود اعتمادی نے ان کو ایک بڑے خطرے سے بچا لیا اور اعتماد کھو دیتیں تو شایداگلے دن برطانی قوم اپنی ملکہ کا عالمی دن منانے کی تیاریاں کر رہی ہوتی ۔
نازک وقت میں اپنے اعتماد کو بحال رکھنا اور اپنے دماغ کو حاضر رکھنا بے حد اہمیت رکھتا ہے خطرہ کے وقت گھبرا اٹھنا اپنے معاملہ کو خود اپنے ہاتھوں بگاڑ لینا ہے۔ آدمی اگر حوصلہ نہ کھوئے اور اپنے ہوش و حواس کو درست رکھے تو یقیناً وہ بچ جائے گا۔ اس کا دماغ ایسی تدبیر ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائے گا جو اس کو خطرے کے کنارے پہنچ کر بھی خطرہ سے بچالے۔
ڈاکٹر ہیوگو کا قول ہے کہ احتیاط دانش مندی کی سب سے ہو نہار اولاد ہے ۔ حقیقت ہے کہ زندگی کی بہت سی کامیابیوں کا تعلق محتاط عمل میں ہے نہ کہ پر جوش اقدام ہیں ۔ عقل مندی کے بہت سے پہلو ہیں اور اس میں شک نہیں کہ احتیاط اکثر اوقات سب سے بڑی عقل مندی ہوتی ہے۔ مگر احتیاط کے طریقہ پر پوری طرح وہی شخص عمل کر سکتا ہے جو حالات کی شدت کے باوجود اپنے حواس کو بحال رکھے جوکسی بھی صورت میں مغلوب الحال نہ ہو جائے۔
جب بھی آدمی کے ساتھ کوئی خلاف امید صورت پیش آتی ہے یا وہ کسی خطرہ میں گھر جاتا ہے تو وہ جذبات سے مغلوب ہو کر بے سوچی سمجھی کا رروائی شروع کر دیتا ہے۔ اس قسم کی کارروائی آدمی کو مزید بر بادی کے سوا کسی انجام تک نہیں پہنچاتی ۔ اگر آدمی ہمت نہ ہارے اور گھبرائے بغیر اپنے عمل کا نقشہ بنائے تو وہ ہر مشکل صورت حال سے بآسانی باہر آسکتا ہے۔ حتی کہ شیکسپیئر (1504-1616) کے الفاظ میں اکثر اوقات وہ مسکراہٹ سے وہ چیز حاصل کرلے گا جس کو وہ تلوار کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکا تھا ۔
__________________________________________________
نوٹ:یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 16-17 اگست 1982کو نشر کی گئی۔
