ان کا مکمل انقلاب جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا
جے پرکاش نارائن (1979-1902) اپنے علم اور صلاحیت کے اعتبار سے ہندستان کے چوٹی کے لیڈروں میں سے تھے۔ ان کو عام طور پر مخلص اور سنجیدہ انسان سمجھا جاتا تھا اور ہر طربقہ کے لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ پٹنہ میں ان کے مکان کے سونے کے کمرہ میں دیوار پر یہ شعر لگا ہوا تھا:
مالک تری رضا رہے اور توہی تو رہے باقی نہ میں رہوں نہ مری آرزو رہے
وہ اپنے دل میں سماجی اصلاح کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے اور اپنے الفاظ میں سمپورن کرانتیTotal Revolution کے علم بردار تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ ہندوستان کے لوگ ان کا مطلوبہ مکمل انقلاب لانے کے لیے بے قرار ہیں۔ صرف اندرا حکومت راستہ کی رکاوٹ ہے۔ اندرا حکومت ختم ہو جائے تو اس کے بعد مطلوبہ سماجی نظام نہایت آسانی سے قائم ہو جائے گا۔ ان کو اپنے اس اندازہ پر اتنا یقین تھا کہ وہ اس اعلیٰ مقصد کے حصول کی خاطر فوج اور پولیس کو بغاوت پر ابھارنے کو بھی جائز سمجھنے لگے۔ اندرا گاندھی کی بعض غلطیوں نے ان کو موقع دیا اور وہ 1977ء میں اس حکومت کو ختم کرنے میں شان دار طور پر کامیاب ہوگئے۔ تاہم اس ’’کامیابی‘‘ کے معنی صرف یہ تھے کہ اقتدار اندرا اور سنجے کے ہاتھ سے نکل کر مرارجی ڈیسائی اور کانتی ڈیسائی کے ہاتھ میں چلا گیا۔ مطلوبہ سماجی نظام کا قیام پھر بھی خیالی امید ہی بنا رہا۔ اقتدار کی تبدیلی کے بعد اگرچہ ذاتی طور پر جے پرکاش کا مقام اتنا بلند ہوا کہ ان کو ’’لوک نائک‘‘ کا پرفخر خطاب دیا گیا۔ تاہم اپنی تمام ظاہری کامیابیوں کے باوجود8 اکتوبر1979ء کو وہ دنیا سے اس احساس کے ساتھ چلے گئے کہ ان کا مکمل انقلاب اپنی تمام تر دھوم کے باوجود، جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا۔ مزید یہ کہ جنتا پارٹی میں بہت جلد پھوٹ پڑ گئی اور صرف28 ماہ بعد جنتا حکومت ٹوٹ گئی۔ اپنی محبوب جنتا پارٹی کا یہ انجام جب ان کے علم میں آیا تو ان کی زبان سے نکلا:’’باغ اجڑ گیا‘‘(ہندستان ٹائمس20 جولائی1979ء) آخر میں وہ اتنے دل شکستہ ہوگئے تھے کہ موت سے ایک دن پہلے اچھوت پٹوردھن ان سے پٹنہ میں ملے اور ان کی خیریت پوچھی تو انہوں نے کہا:’’ میں کس طرح جی رہا ہوں، بس موت کا انتظار کر رہا ہوں‘‘۔ (ٹائمس آف انڈیا9 اکتوبر1979)
جے پرکاش نارائن کا یہ واقعہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ وہ ایک عبرت کا آئینہ ہے جس میں آپ اسی قسم کی بہت سی دوسری تصویریں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ایک مصلح جب ’’ظالم حکومت‘‘ کو ہٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو مشترک دشمنی کا جذبہ بہت سے مختلف الخیال عناصر کو اکٹھا کر دیتا ہے۔ اس طرح مصلح کی جماعت اقلیت میں ہونے کے باوجود متحدہ محاذ میں شامل ہو کر اکثریت حاصل کر لیتی ہے۔ مگر جب ظالم حکومت ہٹ جاتی ہے تو سب کا مفاد الگ الگ ہو جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ اب مصلح کی جماعت اکیلی ہو کر دوبارہ اسی اقلیت کے مقام پر چلی جاتی ہے جہاں وہ متحدہ محاذ بننے سے پہلے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ’’ظالم‘‘ کو ہٹا کر بھی عادل کو اقتدار کی گدی پر بٹھا نہیں پاتی۔ جے پرکاش نارائن اور ان کی قسم کے دوسرے مصلحین کی شاندار کامیابی کے معاً بعد عبرتناک ناکامی کا سبب یہی ہے۔
سوئی کے کارخانہ میں لوہے کے ایک ٹکڑے کو تقریباً20 مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے تب وہ سوئی بن کر تیار ہوتی ہے جس کو ایک آدمی سلائی کے کام میں استعمال کر سکے ۔ اب اگر ایک جلد باز آدمی ہتھوڑے کی پہلی ہی ضرب سے سوئی بنانا چاہے تو مطلوبہ سوئی تو نہ بنے گی البتہ لوہے کا ٹکڑا ٹوٹ پھوٹ کر بے کار ہو جائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ زمانہ میں تعمیر ملت اور احیاء اسلام کی کوششوں کا ہوا ہے۔ ایک سو سال سے بھی زیادہ مدت کے پرشور ہنگاموں کے باوجود آج بھی ہمارا قافلہ اسی مقام پر ہے جہاں وہ ایک سو سال پہلے تھا بلکہ شاید کچھ اور پیچھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈر پہلی ہی ضرب میں ایک عمدہ چمک دار’’سوئی‘‘ تیار کر لینا چاہتے ہیں۔ وہ’’20 مرحلوں‘‘ کے صبر آزما دور سے گزرنا نہیں چاہتے۔
انیسویں صدی میں کچھ لوگوں نے دیکھا کہ مغربی قو میں مسلم ملکوں کے اوپر قابض ہوگئی ہیں۔ انہوں نے سمجھا کہ میں لڑ بھڑ کر کسی طرح ان اجنبی قوموں کو نکال دوں اور اس کے بعد اسلام کی عظمت کا دور دوبارہ واپس آ جائے گا۔ بے شمار جانی و مالی نقصان کے بعد یہ مہم کامیاب ہوگئی، مگر اسلام اور مسلمان جس مغلوبیت کی حالت میں پہلے تھے وہیں اب بھی باقی رہے۔ کیوں کہ جدید دنیا میں بالادستی کا مقام حاصل کرنے کے لیے بہت سی علمی و عملی تیاریوں کی ضرورت تھی اور اس کے لیے ہمارے پرجوش لیڈروں نے کچھ نہیں کیا تھا۔
غیر مسلم اکثریت کے ملکوں میں لوگوں نے دیکھا کہ برسراقتدار پارٹی کے زیرانتظام مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ انہوں نے سمجھا کہ ہماری تمام مصیبتوں کی جڑ بس یہ پارٹی ہے جس کے ہاتھ میں بروقت ملک کا اقتدار ہے۔ اگر اس پارٹی کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے تو ہماری تمام مصیبتیں ختم ہو جائیں گی۔ الیکشن کے موقع پر دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے سیاسی طوفان مچایا اور بالآخر برسراقتدار پارٹی کو اقتدار سے ہٹا دیا۔ مگر اس کے بعد جو دوسری پارٹی منتخب ہو کر اقتدار کے منصب پر بیٹھی اس کے تحت بدستور اسلام اور مسلمان ظلم کا شکار ہوتے رہے۔ کیوں کہ نئی منتخب پارٹی بھی اسی غیر مسلم اکثریت کے افراد سے بنی تھی جس سے پہلی پارٹی بنی تھی۔ پھر وہ پہلی پارٹی سے مختلف کیوں ہوتی۔
یہی سیاسی ڈراما مسلم اکثریت کے ملکوں میں ایک اور شکل میں دہرایا گیا ہے۔ یہاں اسلامی مفکرین اور ملی قائدین نے دیکھا کہ جو مسلم شخصیت یا مسلم جماعت ان کے ملک میں حکومت کر رہی ہے اس کے زیر حکومت بہت سی غیر اسلامی چیزیں رائج ہو رہی ہیں۔ انہوں نے سمجھا کہ بس اس شخص کو کسی طرح مار ڈالو یا اس جماعت کو اقتدار سے ہٹا دو تو اس کے بعد ہر طرف نظام اسلام اور نظام مصطفی کی ہوائیں چلنے لگیں گی۔ مختلف اندرونی و بیرونی عناصر کے اشتراک سے یہ مہم کامیاب ہوگئی۔ سب سے بڑے’’مخالف اسلام‘‘ کو ختم کر دیا گیا۔ مگر اس کے بعد دوسرا نظام آیا وہ بھی پہلے ہی کی طرح غیر اسلامی نظام تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت کو چلانے والے افراد ہمیشہ اپنے سماج سے نکل کر آتے ہیں ، نہ کہ آسمان سے۔ اور جب سماج بگڑا ہوا ہو تو محض کسی فرد یا کسی سیاسی پارٹی کے بدلنے سے نظام نہیں بدل سکتا— اس کے نتیجہ میں قوم کے اندر حقیقت پسندی کی بجائے جذباتیت پیدا ہوتی ہے۔ تعمیری مزاج کے بجائے سیاسی مزاج بنتا ہے۔ پرامن طریقوں کے بجائے تخریبی طریقے پرورش پاتے ہیں، اور جو مقصد ہے وہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
