مقام کیسے ملا
حمزہ بن عبدالمطلب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ ان کے متعلق اسلامی تاریخ میں لکھا گیا کہ حمزہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے ذریعہ اللہ نے دین کو طاقت دی:فَكَانَ حَمْزَةُ مِمَّنْ أَعَزَّ اللهُ بِهِ الدِّينَ (البداية والنهاية ، جلد3، صفحہ 233)۔ حضرت حمزہ کو یہ مقام بلاسبب نہیں مل گیا ۔ بلکہ وہ ان کے حقیقی عمل کے نتیجہ میں انہیں حاصل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حکم ہوا کہ اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو آگاہ کرو (26:214) تو آپ نے خصوصی طور پر حمزہ کے سامنے دین توحید کو پیش کیا۔ مگر ان کے ذہن پر باپ دادا کے دین کا اتنا غلبہ تھاکہ ابتداء میں کئی سال تک اسلام کی صداقت ان کو سمجھ میں نہ آ سکی۔ آخرکار نبوت کے چھٹے سال انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ایک روز وہ شکار کھیل کر واپس آئے۔ ان کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی۔ عین اس وقت ایک عورت نے آکر ان سے کہا کہ ابھی میں نے صفا پہاڑی کے پاس محمد کو دیکھا ہے۔ وہاں عمرو بن ہشام (ابوجہل) بھی تھا اور وہ تمہارے بھتیجے کو گالی دے رہا تھا اور بہت زیادہ برا کہہ رہا تھا۔ حمزہ خاندانی غیرت کے تحت گھر سے نکلے۔ کعبہ میں انہوں نے ابوجھل کو پا لیا۔ وہ ابھی تک غصہ میں تھے۔ انہوں نے لوہے کی کمان ابوجہل کے سر پر اتنے زور سے ماری کہ خون نکل آیا۔ انہوں نے ابوجہل سے کہا کہ تم میرے بھتیجے کے دشمن بنے ہوئے ہو، تو سن لو کہ میرا دین بھی وہی ہے جو محمد کا دین ہے (دینی دین محمد) ابوجہل کا تعلق قبیلہ بنو مخزوم سے تھا اور حمزہ کا تعلق قبیلہ بنو ہاشم سے۔ گھر واپس آئے تو قوم کے کچھ لوگ ان سے ملے۔ انہوں نے حمزہ کو شرم دلائی کہ تم صابی (بددین) ہو گئے۔ تم نے اپنے باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ دیا۔ ایک بھتیجے کی خاطر تم قوم کے تمام اکابر سے کٹ گئے وغیرہ۔ اس طرح کی باتوں سے حمزہ ذہنی کش مکش میں مبتلا ہو گئے۔ انہیں شبہ ہونے لگا کہ شاید میں نے خاندانی حمایت کے جوش میں آ کر غلطی کر دی ہے۔ وہ رات بھر بے چین رہے۔ انہیں ساری رات نیند نہیں آئی۔ صبح ہوئی تو اسی بے چینی کے عالم میں خانہ کعبہ میں گئے۔ وہاں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے پورے تضرع اور انابت کے ساتھ دعا کی::
فَقَالَ:مَا صَنَعْتُ؟ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ رُشْدًا فَاجْعَلْ تَصْدِيقَهُ فِي قَلْبِي وَإِلَّا فَاجْعَلْ لِي مِمَّا وَقَعْتُ فِيهِ مَخْرَجًا (سيرت ابن اسحاق ،صفحہ 172)۔ یعنی، میں نے جو کچھ کیا، اے اللہ اگر وہ ہدایت ہے تو اس کی تصدیق میرے دل میں ڈال دے۔ ورنہ میں جس میں پڑ گیا ہوں اس سے میرے لیے نکلنے کی صورت پیدا فرما۔
اسی کے ساتھ اگلے دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ انہوں نے آپ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے میں ایک معاملہ میں پڑ گیا ہوں۔ اور اس سے نکلنے کی صورت مجھے نظر نہیں آتی۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ ہدایت ہے یا گمراہی ہے۔ اس لیے آپ اس معاملہ میں مجھے بتائیے۔ اے بھتیجے میں تم سے اس معاملہ میں سننا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے ان کو نصیحت کی۔ انہیں خوف دلایا اور ان کو اللہ کے انعام کی خوش خبری دی۔ اس کے بعد اللہ نے ان کے دل میں یقین ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صادق ہیں۔ اے میرے بھتیجے، اپنے دین کا اعلان عام کرو۔ خدا کی قسم، اگر مجھے وہ سب کچھ دیا جائے جس پر آسمان نے سایہ کیا ہے، تب بھی میں اس دین کو نہیں چھوڑوں گا (سيرت ابن اسحاق ، صفحہ172)۔
اس کے بعد حضرت حمزہ آپ کے مکمل ساتھی بن گئے۔ زمانۂ جاہلیت میں وہ ایک دولت مند شخص تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد ان کی دولت ختم ہو گئی۔ انہیں اپنے وطن مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا۔ اسلام کی خاطر انہیں اپنی قوم سے لڑائی لڑنی پڑی۔ یہاں تک کہ احد کی جنگ میں وہ شہید ہو گئے۔ تاہم آخر تک وہ پوری وفاداری کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وابستہ رہے۔ یہ وہ عظیم سعادت ہے جو حضرت حمزہ کو حاصل ہوئی۔ تاہم یہ سعادت انہیں سادہ طور پر نہیں مل گئی۔ انہوں نے اپنے غیرت کے جذبات کو خدا کے دین کے لیے استعمال کیا۔ جب شیطان نے ان کے اندر شبہ ڈالا تو انہوں نے اس شبہ کو قبول نہیں کر لیا، بلکہ اس کے لیے گریہ و زاری کے ساتھ دعائیں کیں۔ رسول اللہؐ سے مل کر اس کی وضاحت معلوم کی۔ اور جب بات واضح ہو گئی تو پھر کوئی چیز ان کے لیے اعتراف میں مانع نہیں ہوئی۔ انہوں نے نہ صرف کھلے دل سے اعتراف کیا بلکہ ہر نقصان اور مصیبت کو برداشت کرتے ہوئے برابر اس پر قائم رہے۔ یہ ہے حضرت حمزہ کی وہ قربانی جس کے نتیجہ میں ساری دنیا کے مسلمان ہر ہفتہ جمعہ کے خطبہ میں ’’سید الشہداء حمزہ‘‘ کہہ کر ان کی دینی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔ جواں مردی یا مردانگی سے عربوں کی کیا مراد ہوتی تھی، اس کو قدیم عربی اشعار میں دیکھا جا سکتا ہے جس کو عہد جاہلی کا کلام کہا جاتا ہے۔ اس جاہلی کلام کا ایک منتخب مجموعہ وہ ہے جو ’’الحماسۃ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں ہم حماسہ سے کچھ اشعار بطور نمونہ نقل کرتے ہیں::
|
إِذا هَمَّ هَمّاً لَم يَر اللَيلَ غُمَّةً |
عَلَيهِ وَلَم تَصعُب عَلَيهِ المَراكِبُ |
|
قَلِيلُ التَّشَكِّي لِلْمُهِمِّ يُصِيبُهُ |
كَثِيرُ الْهَوَى شَتَّى النَّوَى وَالْمَسَالِكِ |
|
إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضُهُ |
فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلُ |
|
يَسُرُّكَ مَظْلُوْمًا وَيُرْضِيْكَ ظَالِمًا |
وَكُلَّ الَّذِي حَمَّلتهُ فَهُوَ حَامِلُه |
|
إِذَا هَمَّ لم تُرْدَع عَزِيْمَةُ هَمِّهِ |
وَلَمْ يَأتِ مَا يَأتِي مِنَ الأَمْرِ هَائِبَا |
|
لَا مُتْرَفًا إِنْ رَخِيَ الْعَيْشُ سَاعَدَهُ |
وَلَا إِذَا حَلَّ مَكْرُوهٌ بِهِ خَشَعَا |
|
لَا يَسْأَلُونَ أَخَاهُمْ حِينَ يَنْدُبُهُمْ |
فِي النَّائِبَاتِ عَلَى مَا قَالَ بُرْهَانَا |
|
فَذَاكَ قَرِيْعُ الدَّهْرِ مَا عَاشَ حُوَّلٌ |
إِذَا سُدَّ مِنْهُ مِنْخَرٌ جَاشَ مِنْخَرُ |
ترجمہ
جب وہ کسی بات کا ارادہ کر لیتا ہے تو رات اس کو غم گین نہیں کرتی اور نہ سواری پر چلنا اس کے لیے مشکل ہوتا۔
سخت معاملہ پیش آنے پروہ شکایت نہیں کرتا۔ وہ بہت باحوصلہ ہے۔ اور بہت منزلوں اور بہت راستوں والا ہے۔
جب آدمی کی آبرو ملامت زدہ بات سے گندی نہ ہوئی ہو تو وہ جو چادر بھی اوڑھے وہ اس کے لیے اچھی ہے۔
وہ تم کو مظلومی میں خوش کر دے گا اور تم ظالم ہو تو تم کو راضی کرے گا۔ اور تم جو ذمہ داری بھی اس پر ڈالو اس کو وہ ضرورکرے گا۔
جب وہ ارادہ کر لے تو اس کے پختہ ارادہ سے اس کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔ اور آنے والی چیزوں میں سے کوئی چیز اس کو خوف زدہ نہیں کرتی۔
اگر اس کو زندگی کی آسودگی ملے تو وہ عیش پرست نہیں بنتا، اور اگر اس کو تنگی پیش آ جائے تو وہ پست ہمت نہیں ہوتا۔
ان کا بھائی کسی مصیبت پر ان کو پکارے تو وہ اس سے دلیل نہیں پوچھتے بلکہ فوراً اس کی مدد پر دوڑ پڑتے ہیں۔
یہی انتخاب زمانہ شخص ہے ، وہ جب تک جیتا ہے متحرک رہتا ہے ، اس پر ایک راستہ بند ہوتا ہے تو وہ دوسرے راستہ میں چل پڑتا ہے۔
