موت کے وقت
عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور سفر میں تھاکہ سخت بیمار پڑا اور راستہ میں ہی 59ھ میں اس کا انتقال ہو گیا۔ آخر وقت میں اس کی زبان پر یہ فقرہ تھا:بادشاہ وہ ہے جو نہ مرے۔
یزید بن معاویہ کے بعد معاویہ بن یزید بن معاویہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ بہت تھوڑی مدت میں 64ھ میں ان کاانتقال ہو گیا۔ وفات کے وقت ان سے کہا گیا ’’اپنے خاندان میں سے کسی کو خلیفہ نامزد کر دیجیے‘‘۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا ’’ میں نے خلافت سے نہ زندگی میں فائدہ اٹھایا ہے اور نہ مرنے کے بعد اس کا بوجھ اٹھاؤں گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ بنوامیہ اس کی شیرینی لیں اورمیرے حصہ میں اس کی تلخی آئے‘‘۔
مامون الرشید بڑے جاہ و جلال کا بادشاہ تھا۔ 218ھ میں جب وہ مرنے لگا تو آخری جملہ جو اس کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا— اے وہ جس کی سلطنت کبھی زائل نہ ہو گی، اس پر رحم کر جس کی سلطنت زائل ہو رہی ہے۔ اے وہ جو کبھی نہیں مرے گا، اس پر رحم فرما جو مر رہا ہے۔
خلیفہ واثق باللہ کی وفات 232ھ میں ہوئی۔ جب اس کی موت کاوقت آیا تو اس نے حکم دیا کہ فرش اٹھا دیا جائے۔ جب فرش ہٹا دیا گیا تو اس نے اپنار خسار زمین پر رکھ دیا اور کہا:اے وہ جس کی بادشاہی لازوال ہے،۔ اس پر رحم کر جس کی بادشاہی ختم ہو گئی۔‘‘ یہ کہتے ہی اس کا انتقال ہو گیا۔
خلیفہ معتضد باللہ عباسی کا انتقال 289ھ میں ہوا۔ اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے چند عربی شعر پڑھے جن کا مطلب یہ ہے: میں نے بڑے بڑے بہادر مارے، میں نے کوئی دشمن نہ چھوڑا۔ کسی کو بھی میں نے سرکشی پر باقی رہنے نہ دیا۔ میں نے دارالسلطنت کو تمام مخالفوں سے خالی کر دیا۔ ان کو پراگندہ کر کے انہیں مشرق و مغرب میں پھیلا دیا۔ لیکن جب میں اپنی عزت و بلندی میں ستاروں تک پہنچ گیا اور تمام مخلوق کی گردنوں میں میری غلامی کا طوق پڑ گیا تو ایسا ہوا کہ موت نے مجھ پر ایک تیر چلایا اور میری آگ کو بجھا دیا۔ دیکھ لو، اب میں جلد ہی اپنے گڑھے میں ڈالا جانے والا ہوں۔
حجاج بن یوسف نے گورنر بننے کے بعد عراق میں خطبہ دیا:گردنیں اونچی ہو رہی ہیں۔ سروں کی فصل پک چکی ہے اورکٹائی کا وقت آ گیا ہے۔ میری نظریں وہ خون دیکھ رہی ہیں جو پگڑیوں اور داڑھیوں کے درمیان بہہ رہا ہے۔‘‘ یزید کے بعد بنو امیہ کی حکومت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے اس نے لاکھوں آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔ 54 سال کی عمر میں وہ مرض الموت میں مبتلا ہوا تو اس کو بے حد سخت تکلیف تھی۔ ابو منذر یعلی نے لوگوں کی طرف سے اس پر لعنت کرتے ہوئے کہا کہ تو اس قوم کا فرعون تھا، آج تیرے لیے نہ نجات ہے اور نہ فریاد۔ حجاج یہ سن کر بری طرح روپڑا۔ اس نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور کہا: الٰہی مجھے بخش دے کیوں کہ لوگ کہتے ہیں کہ تو مجھے نہیں بخشے گا۔ آہ میری ہلاکت، آہ میری ہلاکت، اگر اس جبار و قہار نے مجھ پر رحم نہ کیا۔
