قربانی کی حقیقت

قربانی کی حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ تم دو، تاکہ جوکچھ تمھارے با ہر ہے وہ تم کومل سکے۔ قربانی اس بات کا سبق ہے کہ اگر تم کچھ پانا چاہتے ہو تو کھونے کا حوصلہ پیدا کر و۔ اگر تم زندہ رہنا چاہتے ہو تو موت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ قربانی ایک بے روح رسم نہیں ، قربانی ایک زندہ حقیقت ہے جو زندگی سے اسی طرح گہرا تعلق رکھتی ہے جس طرح قدرت کے ابدی قوانین ہماری کائنات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ قربانی عمل کا خاتمہ نہیں، عمل کا آغاز ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی چیز بھی بڑی چیز ہوتی ہے کیوں کہ وہ کسی بڑی چیز کی علامت ہوتی ہے ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ قربانی کا ہے۔ یہ بظاہر ایک معمولی جانور کو خدا کے نام پر پیش کرنا ہے۔ مگر وہ ایک عظیم چیز ہے کیوں کہ وہ ایک عظیم چیز کی علامت ہے نہ کہ محض ایک وقتی قسم کی بے روح اور بے معنی رسم۔ جانور کی قربانی آدمی کی طرف سے ایک عزم کی علامت ہے، یہ عزم کہ آدمی اپنا سب کچھ حتی کہ اپنی جان بھی اعلی تر مقصد کے لیے قربان کرے گا ۔

ایک چھوٹی چیز کس طرح ایک بڑی چیز کی علامت بن جاتی ہے ، اس کی وضاحت کے لیے میں قریبی تاریخ کی ایک مثال دوں گا۔ نومبر 1962کا واقعہ ہے۔ ہندستان کی مشرقی سرحد پر ایک پردیسی طاقت کی جارحیت کی وجہ سے زبر دست خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ سارے ملک میں سنسنی خیزی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ اس وقت قوم کی طرف سے جو مظاہرے ہوئے اس میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ احمد آباد کے 25 ہزار نو جوانوں نے مشترکہ طور پر یہ عزم کیا کہ وہ ملک کے بچاؤ کے لیے لڑیں گے اور ملک کے خلاف باہر کے حملہ کا مقابلہ کریں گے ، خواہ اسی راہ میں ان کو اپنی جان دے دینی پڑے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ ان میں سے ہر شخص نے اپنے پاس سے ایک ایک پیسہ دیا اور اس طرح 25 ہزارہ پیسے جمع کیے ۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے ان پیسوں کو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی خدمت میں پیش کیا۔ پیسہ دیتے ہوئے انھوں نے ہندوستانی وزیر اعظم سے کہا کہ یہ 25 ہزار پیسے تم 25 ہزار نو جوانوں کی طرف سے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے (To give ourselves to you )کا نشان ہیں ۔ ان نوجوانوں میں سے ہر ایک نے بظا ہر صرف ایک پیسہ دیا تھا جس کی عام حالات میں کوئی قیمت نہیں۔ مگر ان کا پیسہ اس لیے انتہائی قیمتی ہو گیا کہ وہ ایک انتہائی بڑی حقیقت کی علامت تھا۔ ان کے 25 ہزار پیسے 25 ہزار زندگیوں کے نمائندہ تھے ۔ پیسہ کی صورت میں گویا وہ خود اپنی زندگیاں اپنے ملک کے لیے دے رہے تھے ۔ انھوں نے علامتی طور پر ایک پیسہ قربان کر کے در حقیقت اپنی زندگی کو قربان کرنے کا عزم کیا تھا۔ اسی طرح جانور کی قربانی بھی دراصل ایک عزم کی علامت ہے ، اس عزم کی کہ آدمی اپنا سب کچھ حتی کہ اپنی جان بھی اعلیٰ تر خدائی مقصد کے لیے قربان کر دے گا۔

یہ دنیا خدا نے اس ڈھنگ پر بنائی ہے کہ یہاں جو اپنے کو مٹاتا ہے وہی اس دنیا سے اپنے لیے پاتا ہے ۔ قربانی اسی خدائی قانون کو یاد دلانے کا ایک سالانہ عمل ہے جو ہماری روز مرہ کی زندگی میں شامل کر کے ہمیں دیا جاتا ہے ۔ قربانی میں آدمی جانور کو خدا کے نام پر ذبح کرتا ہے۔ اس کے بعد اس کے گوشت کو خود کھاتا ہے اور دوسروں کو کھلاتا ہے ۔ خدا کے دئے ہوئے رزق سے کھا نا آدمی کی روزانہ کی ضرورت ہے۔ کوئی آدمی کھائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی عام ضرورت کی چیز کو ایک روز خصوصی طور پر خدا کے نام پر قربان کر کے اس کو ایک اہم سبق دینے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ قربانی گویا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی وہ قیمت دینے کے لیے تیار ہے جو خدا کی اس زمین میں ایک تحقیقی کامیابی حاصل کرنے کے لیے اسےدینا چاہیے۔

یہ قربانی دنیا کے عمومی نظام سے الگ کوئی چیز نہیں۔ وہ قدرت کا عالم گیر قانون ہے ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھیے درخت کے ایک بیج کو کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کر دیا جائے تو وہ ہمیشہ ایک بیج کی صورت میں پڑا رہے گا ۔ مگر جب اس کو مٹی میں ڈال دیا جائے تو اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اب اس معمولی بیج کے اندر سے ایک ایسا درخت نکلتا ہے جو مزید بے شمار بیج پیدا کرتا ہے اور پیدا کرتارہتا ہے۔ وہ اپنے ہرے بھرے وجود سے زمین کی رونق بن جاتا ہے۔ جس کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں جس سے طرح طرح کے مختلف فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ کولڈ اسٹوریج میں رکھے ہوئے بیج اور مٹی میں ڈالے ہوئے بیج کے انجام میں اس فرق کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کو قربانی کہا جاتا ہے۔ مٹی کے بیجنے اپنے آپ کو فنا کر دیا ۔ اس لیے وہ ایک عظیم درخت بن کر زمین پر قائم ہو گیا۔ اس کے برعکس، کولڈ اسٹوریج کے بیج نے اپنے کو فنا نہیں کیا۔ اس لیے وہ غیر اہم ہو کر رہ گیا— ایک بیج اپنے کو مٹاتا ہے تب وہ درخت بنتا ہے ۔ درخت اپنے بہترین حاصل کو لٹاتا ہے تب وہ اپنی شاخ پر ایک پھول کھلانے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ پھول اپنے حسین وجود کو فنا کرتا ہے۔ تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے ایک قیمتی پھل نکلے۔ پھل اپنے وجود کو ختم کرنے پر راضی ہوتا ہے تب ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس انسان کا گوشت اور خون بنےجو زمین کو آباد کرے اور خلا کے فاصلوں کو ناپے۔

دنیا میں انسان کے لیے جن کامیابیوں کے امکانات رکھے گئے ہیں ان سب کا زینہ صرف ایک ہے اور وہ قربانی ہے۔ علم میں کمال پیدا کرنا تجارت میں اعلیٰ مقام پر پہنچنا، سیاست میں اونچا عہدہ حاصل کرنا، اخلاق اور انسانیت کے اعتبار سے ترقی کے درجات طے کرنا، ایک خاندان یا ایک قوم کو اونچا اٹھانا، سب قربانی کی راہ سے حاصل ہوتا ہے اس دنیا کے بنانے والے نے اس کو اس ڈھنگ پر بنایا ہے کہ یہاں کسی قسم کی کوئی کامیابی قربانی کی حد تک کوشش کیے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ بڑے بڑے الفاظ بول کر یا محض ادھر اُدھر کی سرسری کا رروائیاں کر کےکوئی بڑی ترقی حاصل کرلے تو یہ ایک ایسی خوش خیالی ہے جو خدا کی اس دنیا میں کبھی واقعہ نہیں بنتی۔

پھر ایک ایسی دنیا میں کیوں کر ممکن ہے کہ خدا قر بانیوں کے بغیر کسی سے خوش ہو جائے۔ دنیا میں کسی چیز کو پانے یا نہ پانے کا ایک اصول مقرر کر کے گویا خدا نے یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ انسان کے لیے خدا کو پانے یا نہ پانے کا اصول کیا ہے ۔ وہ صرف قربانی ہے۔ دنیا میں کسی چیز کو پانے کی جو شرط ہے وہی خدا کو پانے کی شرط بھی ہے ۔ آدمی اگر اپنے رب کو خوش کرنا چاہتا ہے تو اس کو اپنے رب کے لیے اپنے آپ کو قربان کرنا پڑے گا۔ خدا اسی کو اپنا سب کچھ دیتا ہے جس نے خدا کو اپنا سب کچھ دے دیا ہو۔ قربانی کی قیمت دیے بغیر کسی کو خدا کے بنائے ہوئے اس نظام میں کچھ بھی نہیں مل سکتا ۔

پھر جو اصول دنیا میں کامیابی کا ہے وہی اصول آخرت میں کامیابی کا بھی ہے۔ اور آخرت کی دنیا چونکہ موجودہ دنیا سے بہت زیادہ قیمتی ہے اس لیے آخرت کی خاطر جو قربانی مطلوب ہے وہ بھی بہت زیادہ بڑی قربانی ہے ۔ اسلام کے نزدیک ہماری زندگی دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس کا چھوٹا، بہت چھوٹا حصہ موجودہ دنیا میں ہے۔ اور اس کا بڑا، زیادہ بڑا اور مستقل حصہ آخرت میں ، جو مرنے کے بعد ہمارے سامنے آئے گا ۔ اگلی دنیا کی کامیابی کا سارا دارو مدار بھی موجودہ دنیا کی طرح، قربانی پر ہے۔ اگلی دنیا گویا بہترین چنے ہوئے انسانوں کی کالونی ہے۔ آج جولوگ اپنے فکر وعمل میں بہترین انسان ثابت ہوں گے وہ اگلی دنیا میں جنت کی کالونیوں میں بسائے جائیں گے اور جو لوگ آج اعلی انسانیت کا ثبوت نہ دے سکیں وہ جہنم کے پر عذاب ماحول میں دھکیل دئے جائیں گے۔

اچھا انسان بننا کیا ہے۔ اچھا انسان بننا یہ ہے کہ آدمی خدائی سطح پر جینے لگے۔ وہ اپنے اندر خدائی اوصاف پیدا کرے۔ اس مقصد کے لیے آدمی کو شیطان سے لڑنا پڑتا ہے۔ اپنی پوری زندگی کو شیطان کے اثرات سے پاک کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مسلسل قربانیوں کا راستہ ہے ۔ وہی شخص خدا کی جنتی دنیا میں اپنے لیے جگہ پاتا ہے جو اس قربانی کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کر سکے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ آدمی تمام بے حقیقت خیالات کو اپنے ذہن سے نکالے اور صرف صحیح اور برحق خیالات کو اپنے ذہن میں جگہ دے خواہ یہ فکری آپریشن اس کے لیے اپنے محبوب تصورات کو ذبح کرنے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ آدمی اپنے کردار کوحق کی بنیاد پر قائم کرے خواہ اس کی خاطر دنیوی فائدوں اور مصلحتوں کو کچلنا پڑے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ آدمی سچائی کے آگے جھک جائے خواہ اس کی قیمت میں اس کو بڑائی کی گدی سے محروم ہو جانا پڑے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ آدمی حقیقت پسندی اور اصول پرستی کو اپنی زندگی کا دستور بنائے خواہ اس کی وجہ سے وہ دنیا میں بے جگہ ہو جائے۔

ہر زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ دنیا میں کچھ طریقے رائج ہو جاتے ہیں ۔ تعلقات کی کچھ بنیادیں قائم ہو جاتی ہیں ۔ کچھ محبوب خیالات آدمی کے ذہن میں جگہ پالیتے ہیں۔ انھیں چیزوں کے بل پر آدمی جی رہا ہوتا ہے ۔ وہ خیال اور عمل کے ایک حلقہ سے اپنے کو جوڑ کر ناز کر رہا ہوتا ہے کہ میں نے بہترین حلقہ کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کرلی ہے۔ اب جب اس کے سامنے حق کی دعوت آتی ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دعوت اس کی مصلحتوں پر ضرب لگا رہی ہے۔ اس کے تعلقات کو توڑنا چاہتی ہے۔ اس کے ان خیالات کو بے قیمت ثابت کر رہی ہے جن کے سہارے وہ اپنے لیے ایک حسین مستقبل کا خواب دیکھ رہا تھا ۔ ان وجوہ سے حق کی دعوت کو قبول کرنا اس کے لیے ایک عظیم قربانی کا عمل بن جاتا ہے۔ یہ اپنی پوری زندگی کو حق کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ مگر یہی وہ قربانی ہے جو آدمی کو خدا کی نظر میں محبوب بناتی ہے۔ یہی وہ قربانی ہے جس سے آدمی کے اوپر ابدی جنتوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ اپنے وجود کی قربانی ہی جنت کی واحد قیمت ہے ۔ اس قربانی کے بغیر کسی کو خدا کی جنت نہیں ملتی ۔

____________________________________________

نوٹ:یہ تقریریکم نومبر 1971کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion