ماضی اور حال
ایک باپ کے پاس ایک زرخیز زمین تھی اس نے اس میں کچھ بیج بوئے اور اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں تو شاید زندہ نہ رہوں لیکن بیس سال بعد تم یہاں پھل دار درختوں کا ایک باغ دیکھو گے اور اس سے فائدہ اٹھاؤ گے۔ 20 سال گزرنے کے بعد بیٹوں نے اس زمین کو دیکھا ، وہاں صرف چٹیل میدان تھا وہاں نہ کوئی درخت تھا اور نہ پھل ۔
بیٹوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ باپ نے نادانی کے تحت پتھروں کے ٹکڑوں کو بیج سمجھ لیا تھا۔ باپ نے زمین میں پانی دیا اور کچھ چیز بکھیری، مگر وہ بیج نہیں تھے، پتھر کے ٹکڑے تھے۔ ظاہر ہے کہ درخت کا باغ بیج سے نکلتا ہے، نہ کہ پتھر کے ٹکڑوں سے ۔
اگر کسی قوم کو آپ دیکھیں کہ اس کے رہنما ماضی میں سو سال تک بڑی بڑی تحریکیں اٹھاتے رہے۔ وہ قوم کے سامنے خوشنما الفاظ بولتے رہے اور اس کو بڑی بڑی امیدیں دلاتے رہے ۔ مگر حال میں وہ قوم اس طرح داخل ہوتی ہے کہ اس کی حیثیت صرف ایک تباہ حال گروہ کی ہے۔ اس کا کوئی بھی معاملہ درست نہیں۔ کسی بھی پہلو سے اس کے قدموں کے نیچے وہ مستحکم زمین نہیں۔جس پر قومیں کھڑی ہوتی ہیں۔
ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ماضی کے رہنماؤں نے درخت کے بیج نہیں بوئے تھے۔ بلکہ بیج کے نام پر پتھر کے ٹکڑے بکھیرے تھے، اور پتھر کے ٹکڑے کبھی کسی قوم کے لیے لہلہاتےہوئے باغ نہیں بنتے۔
حال ہمیشہ ماضی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جیسا ماضی ویسا حال کوئی فرد یا کوئی گروہ اگر ایسے حال کا وارث بنے، جس میں اس کے لیے کچھ نہ ہو تو ایسے فرد یا گروہ کو اغیار کے ظلم اور سازش کی شکایت نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ ماضی میں کوئی حقیقی عمل نہ کر سکا۔ اس لیے حال میں کوئی حقیقی نتیجہ بھی اس کے حصہ میں نہیں آیا۔
ماضی کے لیے اپنی کوتاہی کا اعتراف حال میں عمل کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ ایسا آدمی ازسرنو عمل کر کے حال میں وہ چیز پالیتا ہے جس کو وہ ماضی میں نہ پاسکا تھا۔
