انتظاربھی حل ہے
پیغبر اسلام ﷺ نے فرمایا:أفْضلُ الْعِبادةِ انْتظارُ الْفَرَجِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر3571)۔ یعنی، کشادگی کاانتظارکرنا ایک افضل عبادت ہے۔
ہرفرداورگروہ پر ہمیشہ ایسےحالات آتےہیں جن میں وہ اپنےآپ کوتنگی میں محسوس کرنےلگتاہے۔ایسےموقع پربیشتر لوگ یہ کرتےہیں کہ وہ شعوری یاغیرشعوری طورپرتنگی کوایک مستقل حالت سمجھ لیتے ہیں اوراس کوفوراًاپنےآپ سے دورکرنےکےلیے حالات سےلڑناشروع کر دیتے ہیں۔ اس قسم کی لڑائی ہمیشہ بےفائدہ ثابت ہوتی ہے۔اس کانتیجہ صرف یہ ہوتاہےکہ تنگی پرکچھ اور مشکلات کا اضافہ کر لیا جائے۔
تنگی کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں آتی، وہ صرف وقتی طورپرآتی ہے۔ایسی حالت میں تنگی کے مسئلے کاآسان حل صرف یہ ہے کہ انتظارکی پالیسی ختیارکی جائے۔یعنی غیرضروری طور پر حالات سے لڑائی نہ چھیڑی جائےبلکہ سادہ طورپر انتظار کرو اور دیکھو (wait and see) کی پالیسی اختیاکی جائے۔اس پالیسی کانتیجہ یہ ہوگاکہ آدمی کاذہنی سکون بربادنہ ہوگا۔ اور جو کچھ ہونےوالاہےوہ اپنےآپ اپنےوقت پر ہو جائے گا۔
جب کوئی مسئلہ پیش آتاہےتوآدمی یہ چاہنےلگتاہےکہ فوراًاس کاحل نکل آئے۔یہی اصل غلطی ہے۔آدمی اگرپیش آئےہوئےمسئلے کوانتظارکےخانے میں ڈال دےتوکوئی مسئلہ ،مسئلہ نہیں۔
