غزوۃ سویق

ذوالحجہ2ھ

غزوۃ بدر کی شکست کے بعد جب ان کے بچے ہوئے لوگ مکہ پہنچے تو مکہ میں اس شکست کا خوب چرچا ہوا۔ ابو سفیان جو مکہ کے سردار تھے اور ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ انہوں نے قسم کھائی کہ میں جب تک مسلمانوں پر حملہ کرکے اس وقت تک غسل نہیں کروں گا۔

 چنانچہ وہ اور دو سو سوار جارحانہ ارادہ کے تحت مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ لوگ مقام عریض تک پہنچے جو کہ مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں وہ لوگ ایک کھجور کے باغ میں گھسے۔ وہاں دو شخص زراعت کے کام میں مصروف تھے۔ ایک شخص انصار میں سے تھا اور دوسرا مزدور تھا۔ انہوں نے ان دونوں کو قتل کر دیا اور کچھ درخت جلا دیےاور سمجھے کہ ہماری قسم پوری ہوگئی، اور پھر واپس چلے گئے۔ پیغمبر اسلام کو جب معلوم ہوا تو آپ دو سو مسلمانوں کے ساتھ ابو سفیان کے تعاقب میں روانہ ہوئے مگر وہ لوگ آپ کے پہنچنے سے پہلے جا چکے تھے۔ چلتے وقت وہ لوگ اپنے ستوکے کچھ تھیلے وہاں چھوڑ گئے وہ سب مسلمانوں کو مل گئے۔ اسی لیے اس غزوہ کا نام غزوۃ السویق یعنی ستو والا غزوہ پڑ گیا۔

9ذوالحجہ کو پیغمبر اسلام غزوہ السویق سے مدینہ واپس آئے اور10 ذوالحجہ کو عید الاضحی کی دو رکعت نماز مسلمانوں کے ساتھ ادا کی۔ اور دو مینڈھے قربانی کیے اور مسلمانوں کو قربانی کا حکم دیا۔ یہ اسلام میں پہلی عیدالاضحی تھی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion