العراق اول قطر في العالم اتخذ الرياضة اسلوبا للحياة

یہاں عنوان کی جگہ پر ہم ایک عربی اخبار کا تراشہ نقل کر رہے ہیں۔ یہ عراقی ہفتہ وار الرياضة والشباب ( بغداد ) سے لیا گیا ہے ۔

Al-Riyadha wa Al-Shabab, no. 102, May 23, 1977

 عرب دنیا میں خطاطی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوئی ہے۔ نئے نئے انداز کی خوبصورت تحریریں وجود میں آرہی ہیں۔ اوپر کا تراشہ اسی کا ایک سادہ سا نمونہ ہے۔

اسلام آیا تو مکہ اور مدینہ میں بمثل ایک درجن آدمی لکھنا جانتے تھے۔ بدر کی لڑائی میں جو لوگ قید ہوئے ، ان میں سے کچھ کتابت کا فن جانتے تھے۔ ان کے فدیہ کے لیے یہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے دس مسلمان بچوں کو لکھنا سکھا دیں اس کے بعد وہ رہا کر دیے جائیں گے۔ اس طرح مدینہ میں لکھنے والوں کی کثرت ہو گئی۔

تاہم کتابت کا فن اس وقت بالکل ابتدائی حالت میں تھا۔ عباسی دور میں ، دوسرے فنون کی طرح اس کو کافی ترقی ہوئی۔ نئے نئے ڈیزائن پیدا کرنے کی کوشش میں خط مرصع ، خط ریاسی وجود میں آئے خط ریاسی ، اپنے موجد ذوالریاستین فضل بن سہل کی طرف منسوب ہے۔ اس زمانہ میں خط کوفی کی بیس سے زائد شکلیں بن گئی تھیں، تاہم یہ سارے خطوط ابتدائی صورت میں تھے ، عربی خط کو حسین بنانے کا کام سب سے پہلے ابو علی محمد بن مقلہ (328ھ) نے کیا۔ اس کے بعد علی بن ہلال (413ھ) آئے اور انھوں نے اس کی تہذیب و تحسین میں مزید اضافہ کیے۔

عربی خط ارتقا کے مراحل سے گزرتا رہا اور اس نے ایک مستقل آرٹ کی حیثیت اختیار کر لی۔ اب یہ خط اتنا دل آویز بن چکا تھا کہ بہت سی دوسری قو میں جب اسلام لائیں تو انھوں نے اپنی قومی زبان کے لیے اسی رسم خط کو پسند کر لیا۔ مثلاً ترکی ، فارسی، افغانی، سندھی، اردو اور افریقہ کی مختلف زبانیں۔

جمالیاتی ذوق انسان کا ایک فطری ذوق ہے۔ یہ ذوق مصوری، مجسمہ سازی اور آرٹ کی دوسری صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے، اسلام میں چونکہ آرٹ کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ہے ، مسلمانوں کے جمالیاتی ذوق نے اپنے اظہار کی دوسری صورتیں تلاش کر لیں، مثلاً تعمیرات، چمن بندی، وغیرہ۔

انھیں صورتوں میں سے ایک فن کتابت بھی ہے۔ کتابت کے فن کا چونکہ بہت گہرا تعلق قرآن وحدیث سے بھی تھا، اس لیے اس فن کی طرف مسلمانوں کی توجہ بہت زیادہ ہوئی مسلمانوں میں بہت بڑے بڑے خطاط پیدا ہوئے جنھوں نے اس فن کو اعلیٰ ترین جمالیاتی معیار پر پہنچا دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عربی خط کی تحسین کے لیے جتنی کوششیں مسلمانوں نے کیں، اتنی کسی بھی دوسرے رسم الخط کے لیے کسی قوم نے نہیں کیں۔ عربی خط آج دنیا کا حسین ترین خط سمجھا جاتا ہے۔ فنی اور تمدنی ترقیوں کا بہت گہرا تعلق اقتصادیات سے ہوتا ہے ۔ چنانچہ فن کتابت کی ترقیاں بھی اس وقت تک جاری رہیں جب تک اقتصادیات کے سرے مسلمانوں کے ہاتھ میں تھے۔ اٹھارویں صدی میں مغلوں اور ترکوں کے زوال اور جدید صنعتی نظام کے ظہور نے مسلمانوں کو اقتصادیات میں پیچھے کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری سرگرمیوں کے ساتھ خط کی تحسین و ترقی کا کام رک گیا۔

بیسویں صدی کے نصف آخر میں پٹرول کی دولت کے ظہور نے ، دوسری چیزوں کے ساتھ ، فن کتابت کو بھی دوبارہ نئی ترقی کے مواقع دے دیے ہیں، عرب ممالک میں ایسے خطاط پیدا ہو رہے ہیں جنھوں نے عربی خط کو ایک نئی زندگی عطا کر دی ہے۔ ’’آفاق عربیہ‘‘ فن کتابت کی ان جدید ترقیوں کی ایک مثال ہے۔

یہاں یہ اضافہ غیر متعلق نہ ہو گا کہ جن زبانوں نے عربی رسم الخط کو اپنایا ، وہ سب موجودہ زمانہ میں اپنے حسب حال اس کے ٹائپ کو بھی اختیار کر چکی ہیں۔ وہ عربی خط کے حسن کے ساتھ دور جدید کی مشینی خوبیوں کو جمع کر کے وقت کے ساتھ ترقی کر رہی ہیں۔ اس میں صرف ایک استثنا ہے۔ اور وہ اسی زبان کا ہے جس کے وارثوں کا یہ خیال ہے کہ ان کی زبان اسی طرح تمام زبانوں میں افضل ہے جس طرح ان کا رسول تمام رسولوں میں ۔۔۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ ہماری زبان اردو ہے جس کے معنی لشکر کے ہوتے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion