فخر نہیں ذمہ داری

پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم اکتوبر1980ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کی۔ ان کی ڈیڑھ گھنٹہ کی یہ تقریر ان کے اپنے الفاظ میں د نیا بھر کے 90 کروڑ مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے تھی۔ ان کی لکھی ہوئی تقریر کا ایک پیرا گراف یہ تھا:

‘‘As they enter 15th Century Hijra, the Islamic peoples, who have rediscovered their pride in their religion, their great culture and their unique social and economic institutions, are confident that the advent of this century would mark the beginning of a new epoch, when their high ideals of peace, justice, equality of man, and their unique understanding of the universe, would once again enable them to make a worthy contribution to the betterment of mankind.’’

اب کہ اسلامی قومیں پندرھویں صدی ہجری میں داخل ہو رہی ہیں، انہوں نے اپنے مذہب، اپنے عظیم کلچر اور اپنے بے مثل سماجی اور معاشی اداروں میں اپنے فخر کو دوبارہ دریافت کر لیا ہے۔ ان کو یقین ہے کہ اس صدی کا آغاز ایک نئے عہد کی ابتدا ثابت ہوگا جب کہ امن، انصاف، انسانی برابری اور کائنات کے بارے میں ان کا بے مثل شعور ان کو دوبارہ اس قابل بنائے گا کہ وہ انسانیت کی بھلائی میں قابل قدر حصہ ادا کر سکیں۔

جنرل محمد ضیاء الحق نے یہ بات موجودہ مسلمانوں کی تعریف کے طور پر کہی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی میں مسلمانوں کا وہ المیہ بھی چھپا ہوا ہے جس نے موجودہ زمانے میں ان کی تمام اسلامی کوششوں کو بے قیمت بنا دیا ہے۔ آج ساری مسلم دنیا میں اسلام کے نام پر زبردست سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر یہ ساری دھوم فخر(pride) کے طور پر ہے ، نہ کہ ذمہ داری کے طور پر۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی سرگرمی فخر کے احساس کی بنیاد پر اٹھتی ہے (الحدید،57:20) اور اخروی سرگرمی عبدیت کے احساس کی بنیاد پر (الذاریات،51:56) فخر سے انانیت اور مطالبے کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اور عبدیت سے عجز اور ذمہ داری کا۔ اسلامی تحریک وہ ہے جو جہنم سے ڈرانے کے لیے اٹھے۔ مگر موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکیں دنیا میں بڑائی حاصل کرنے کے جذبہ سے اٹھی ہیں۔ قومی سربلندی کے احساس نے ان کو کھڑا کیا ہے۔ آج کے مسلمانوں کے لیے اسلام ایک ناز کی چیز ہے ، نہ کہ حقیقتا آخرت کی صراط مستقیم۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہ تحریکیں مسلمانوں کی قومی تحریکیں ہیں ، نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامی تحریکیں۔ مسلمانوں کے یہاں آج جس مذہب کی دھوم ہے وہ قومی مذہب ہے ، نہ کہ خدائی مذہب۔ کیوں کہ قومی مذہب سے ہمیشہ فخر کی نفسیات ابھرتی ہے اور خدائی مذہب سے ذمہ داری کی نفسیات۔

حقیقی اسلام آدمی کے اندر عجز اور تواضع پیدا کرتا ہے اور جہاں عجز اور تواضع ہو وہاں گویا ساری بھلائیاں جمع ہوگئیں۔ کیوں کہ ہر خرابی کی جڑ کبر اور ہر اچھائی کی جڑ عجز ہے۔ ایسے افراد میں ان کے اسلام کے لازمی نتیجہ کے طور پر خدا کا خوف، آخرت کی طلب، باہمی اتحاد، ایک دوسرے کی خیر خواہی، شکایتوں سے درگزر کرنا، تعمیری کاموں کی طرف توجہ اور حقوق کے مقابلہ میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ اور جس سماج میں ایسی نفسیات والے انسان قابل لحاظ تعداد میں پیدا ہو جائیں وہ اپنے آپ دنیا میں سب سے اونچا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس قومی اسلام آدمی کے اندر فخر و ناز کی نفسیات پیدا کرتا ہے اور جہاں فخروناز کے جذبات ہوں وہاں گویا تمام برائیاں جمع ہوگئیں۔ ایسے افراد کے اندر انانیت، آخرت سے بے خوفی، اپنی غلطیوں کو دیکھنے کے بجائے دوسروں کا احتساب اور پھر ان کیفیات کے نتیجہ میں اختلاف اور باہمی ٹکراؤ عام ہو جاتا ہے۔ وہ خاموش تعمیری کام کے مقابلہ میں نمائشی کاموں کی طرف رغبت رکھتے ہیں۔ وہ پیچھے چلنے کے بجائے ہمیشہ آگے چلنے کے خواہاں رہتے ہیں۔ وہ اپنے معمولی کام کو بڑے بڑے الفاظ میں بیان کرتے ہیں تاکہ اپنے برتری کے جذبہ کو تسکین دے سکیں۔ اسلام ایسے لوگوں کے درمیان کرنے سے زیادہ کہنے کی چیز ہوتا ہے۔ اور جہاں ایسا اسلام ہو وہاں لوگوں کے اوپر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے ، نہ کہ خدا کی رحمت و نصرت۔

یہودیوں کی صہیونی تحریک قدیم اسرائیلی عظمت کو واپس لانے کی تحریک ہے۔ ہندوؤں کی آر ایس ایس تنظیم اپنے شان دار ماضی کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے اٹھی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی بھی ایک پُر فخر دنیوی تاریخ ہے اور موجودہ زمانے کی مسلم تحریکیں  کسی نہ کسی اعتبار سے اسی پُر فخر ماضی کو واپس لانے کے جذبے سے ابھری ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہودیوں اور ہندوؤں کی تحریکیں مذہبی اصطلاحات استعمال کرنے کے باوجود حقیقی معنوں میں مذہبی تحریکیں نہیں ہیں، وہ یقینی طور پر صرف قومی تحریکیں ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کی اسی قسم کے جذبات کے تحت اٹھنے والی تحریکیں بھی محض اس لیے اسلامی تحریکیں نہیں بن جائیں گی کہ وہ اپنے مقصد کو اسلامی الفاظ میں بیان کرتی ہیں۔ خدا کسی کے عمل کو حقیقت کے اعتبار سے دیکھتا ہے ، نہ کہ ظاہر کے اعتبار سے۔ جو تحریک قومی نفسیات کے ساتھ اٹھے وہ خدا کی نظر میں قومی تحریک ہی رہے گی، اس کا قرآن و حدیث کے الفاظ استعمال کرنا کسی بھی طرح اس کو اسلامی تحریک کا مقام نہیں دے سکتا۔ اور نہ اس پر خداکے وہ وعدے پورے ہو سکتے جو صرف حقیقی اسلامی تحریک کے لیے مقدّر ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion