علم کا مقصد
افغانستان کے سفر (1988) میں ایک افغانی عالمِ دین سے ملاقات ہوئی۔ ان کی تعلیم پاکستان کے ایک دار العلوم میں ہوئی ہے اور اچھی اردو جانتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں الرسالہ برابر پڑھتا ہوں۔ وہ مجھے پاکستان کے ایک واقف کار کے ذریعہ مل جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ صاحب پورے رسالہ کی فوٹو کاپی کر کے مجھے روانہ کر دیتے ہیں۔
انہوں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اکتوبر 1988 کے الرسالہ میں زمین سے محروم (صفحہ 3) کے عنوان سے جنرل ضیاء الحق مرحوم پر جو مضمون ہے وہ لاجواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاء کی موت پر مسلم دنیا کے تقریباً ہر اخبار اور ہر رسالہ نے مضامین شائع کیے ہیں اور ہر رہنما نے اپنے بیانات دیے ہیں، مگر آپ کا مضمون ان سب میں منفرد تھا۔ دوسرے لوگوں نے عام طور پر صرف ضیاء کی تعریف کی ہے ، ان کو ہیرو بنایا ہے۔ مگر آپ نے اس سے سبق کا پہلو نکالا ہے۔ اور مؤمن کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ ہر واقعے اور ہرحادثے سے عبرت اور نصیحت لے سکے۔
انہوں نے کہا کہ امت پر اس قسم کا سب سے بڑا واقعہ وہ تھا جب کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی۔ اس وقت صحابہ کرام نے ایسا نہیں کیا کہ ہر ایک آپ کی شان میں تعریفی تقریر کرنے لگے اور آپ کو ’’شہید‘‘ یا اسلامی ہیرو ثابت کرنے میں تمام الفاظ صرف کر ڈالے۔ اس کے برعکس، انہوں نے اس واقعے سے موت اور آخرت کی یاد حاصل کی۔ حضرت ابو بکر تشریف لائے اور آپ کی میت کو دیکھا تو قرآن کی یہ آیت پڑھی:كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ۔ اسی طرح حضرت عباس نے فرمایا:وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَقَدْ ذَاقَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم الْمَوْتَ۔ مذکورہ عالم نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ اس دور میں الرسالہ سنتِ رسول کو زندہ کر رہاہے۔ لوگوں کو قومی دین سے نکال کر خداوندی دین پر لا رہا ہے۔ اس وقت اس سے بڑا کوئی کام نہیں۔ (الرسالہ، مارچ 1989)
