کتنا فرق
1928ء میں کلکتہ میں ایک ہی زمانہ میں دو اجلاس ہوئے۔ ایک کانگریس کا، دوسرا تحریک خلافت کا۔ اس وقت مہاتما گاندھی کانگرس کے سب سے بڑے لیڈر تھے اور مولانا محمد علی تحریک خلافت کے ۔ خان عبدالغفار خاں اپنے کچھ پٹھان ساتھیوں کو لے کر کلکتہ گئے اور دونوں کانفرنسوں میں شریک ہوئے۔ خان عبدالغفار خاں اپنا ایک تاثر اپنی خود نشت سوانح عمری میں ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’گاندھی جی(کانگرس کے اجلاس میں )تقریر کر رہے تھے۔ ایک نوجوان بار بار کھڑا ہو جاتا تھا اور گاندھی جی پر سخت حملے کرتا تھا۔ گاندھی جی بالکل غصہ نہیں ہوتے تھے۔ وہ منہ کھول کر قہقہہ لگاتے ہوئے ہنس پڑتے تھے۔ اس کا میرے اوپر بڑا اثر ہوا جب میں واپس اپنے کیمپ میں آیا تو میں نے یہ سرگذشت اپنے ساتھیوں کو سنائی اور کہا کہ دیکھو یہ ہندوؤں کا لیڈر ہے۔ اس کے اخلاق کو دیکھو اور اپنے مسلمان لیڈروں کے اخلاق کو دیکھو‘‘۔
اس وقت ہم کچھ پٹھان لوگ(خلافت کانفرنس میں ) محمد علی کے پاس گئے کہ یہ ہمارا لیڈر ہے، اس کے ساتھ اس بارہ میں چند باتیں کریں۔ محمد علی باہر آئے تو ہم نے ان سے اس طریقہ سے اپنی بات کہنی شروع کی کہ محمد علی صاحب، آپ ہم مسلمانوں کے لیڈر ہیں۔ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔ کل ہم کانگرس کے اجلاس میں گئے تھے تو وہاں گاندھی جی تقریر کر رہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ بعض نوجوان ان کی مخالفت کر رہے تھے۔ لیکن گاندھی جی ان کے سامنے ہنس دیتے۔ ہم نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس کی وجہ سے ان کی تقریر میں کسی قسم کی تیزی یا تندی پیدا نہیں ہوئی۔ پھر میں نے کہا کہ آپ ہمارے رہنما ہیں۔ ہم آپ کی برتری کے خواہاں ہیں۔ اگر آپ اپنے اندر صبر کا مادہ پیدا کر لیں تو یہ بہت ہی اچھا ہوگا۔
محمد علی صاحب ہماری باتیں سنتے ہی بڑے ناراض اور غضب آلود ہوئے اور کہا کہ دیکھو، یہ جنگلی پٹھان ہمیں سمجھانے آئے ہیں اور پھر ہم کو وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم ان کے اس رویہ سے بڑے مایوس ہوئے اور ناراض بھی۔ اور میں تو پھر اس کے بعد خلافت کے ان جلسوں میں بالکل شریک نہیں ہوا اور چلا آیا۔ واپس اپنے گاؤں جاکر میں نے اپنے پختون ساتھیوں سے یہ واقعہ بیان کیا اور کہا کہ کلکتہ میں مَیں خلافت اور کانگرس دونوں کے جلسوں میں شریک ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ہمارے مسلمان لیڈروں اور ہندوؤں کے لیڈروں میں کتنا بڑا فرق ہے۔ ایک طرف غصہ کے جذبات بھڑکتے دکھائی دیے اور دوسری طرف محبت اور پریم سے باتیں کی جاتی تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ گاندھی جی واقعی ہندوؤں کے ہی لیڈر نہیں رہیں گے بلکہ وہ مسلمانوں کی لیڈری بھی کریں گے۔ ان کا مزاج گرم نہیں۔ بلکہ ان کے جذبات ٹھنڈے ہیں۔ وہ گالیاں کھا کر بھی ہنس دیتے ہیں۔
