تاریخ سبق دیتی ہے
آٹو مین لینڈر (1980-1895) ایک یہودی سائنس داں تھا۔ وہ جرمنی میں پیدا ہوا۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانہ میں وہ ہٹلر کے وی ٹو راکٹ(V-2 Rocket) کے منصوبہ میں کام کر رہا تھا۔ ہٹلر کے زمانہ میں جرمنی میں پہلی بار یہ راکٹ تیار کیے گئے۔ ان راکٹوں نے لندن میں زبردست دہشت پھیلا دی تھی۔ ہٹلر نے جب اپنے ملک کے یہودیوں کے خلاف ظلم و زیادتی شروع کی تو آٹو مین لینڈر(Otto Mainlander) اور دوسرے یہودی سائنس داں ہٹلر سے سخت برہم ہوگئے۔ اس برہمی کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ آٹو مین لینڈر اور تقریباً ایک درجن یہودی سائنس داں جو ہٹلر کے راکٹ کے منصوبہ میں کام کر رہے تھے، وہ ضروری سامان اور فنی رازلے کر بھاگے اور ان کو امریکہ کے حوالے کر دیا۔ امریکہ میں بھی راکٹ کی سائنس پر ابتدائی تجربات ہو رہے تھے۔ جرمنی کے یہودی ماہرین کی مدد حاصل ہونے کے بعد اس تحقیق میں مزید تیزی پیدا ہوئی۔ چنانچہ امریکہ نے راکٹ تیار کر کے جرمن علاقوں پر اتنی تیزی سے حملے کیے کہ ہٹلر کو دفاع کی پوزیشن میں ڈال دیا۔ ا نہیں جرمن یہودیوں کی مدد سے امریکہ نے وہ ایٹم بم تیار کیے جو 1945ء میں جاپانپر گرائے گئے اور جس کے بعد دوسری جنگ عظیم کا فیصلہ اتحادیوں کے حق میں ہوگیا(21 جنوری1980ء)۔
تاریخ میں اس طرح کے واقعات بار بار ہوئے ہیں۔ کسی شخص یا گروہ کے زوال کا سبب اکثر اس کے وہ اپنے لوگ ہوتے ہیں جن کو وہ شخص یا گروہ اپنی آمرانہ پالیسی کی بنا پر ناراض کر دیتا ہے۔ یہ ناراض لوگ منفی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں اور ’’بغض معاویہ‘‘ کے جذبہ کے تحت اس کے دشمنوں سے مل جاتے ہیں۔ اپنوں کے اس تعاون سے دشمن کو غیر معمولی طاقت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لیے ممکن ہو جاتا ہے کہ اپنے حریف کے خلا ف زیادہ موثر اقدام کر سکے ۔ وہ نہایت آسانی کے ساتھ اپنے حریف کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ حریف کے ساتھیوں کی مدد اس کے لیے اس مہم کو آسان کر دیتی ہے جو تنہا اپنی قوت سے اس کے لیے مشکل بنی ہوئی تھی۔ یہ بات ایک خاندان کے لیے بھی صحیح ہے اور ایک حکومت کے لیے بھی اور اسی طرح ایک پوری قوم کے لیے بھی۔
اپنوں کا ٹوٹ کر حریف سے ملنا بہت سے پہلوؤں سے نہایت خطرناک ہے۔ اس کا ایک سنگین پہلو یہ ہے کہ حریف کو اپنے دشمن کے راز معلوم ہو جاتے ہیں۔ وہ دشمن کے کمزور پہلوؤں کو جان کر اس کے مطابق اپنا منصوبہ بناتا ہے اور ٹھیک اس مقام پر وار کرتا ہے جہاں اس کا حریف سب سے کم مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہو۔
موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکوں نے ’’ظالمانہ نظام‘‘ کو ختم کرنے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ مگر یہی تحریکیں’’عادلانہ نظام‘‘ کو قائم کرنے میں سراسر ناکام رہیں۔ اس کی وجہ مذکورہ بالا حقیقت کی روشنی میں سمجھی جا سکتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایک ظالمانہ نظام کو توڑنے کے لیے صرف ظلم دشمنوں کی فوج مل جانا کافی ہے، اور وہ ذاتی اسباب کے تحت بہت آسانی سے مل جاتی ہے۔ مگر عادلانہ نظام کو قائم کرنے کے لیے عدل دوستوں کی ضرورت ہے، اور حقیقی معنوں میں عدل دوست اتنے کم ہیں کہ صرف امکان ہی کے درجہ میں ان کا وجود تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مشترک دشمنی کی بنیاد پر قائم ہونے والا اتحاد مشترک دوستی کی بنیاد نہ پا کر ٹوٹ جاتا ہے۔ نفرت اور بغض کی بنیاد پر اٹھنے والی تحریک محبت کی فضا پیدا نہیں کر سکتی۔ اسی طرح ظلم دشمنی کی بنیاد پر اٹھنے والی بھیڑ عدل دوستی کا نظام قائم نہیں کر سکتی۔
