یہ احترام نہیں ، ناقدری ہے
فقہ کی کتابوں میں علی مرغینانی (511-593ھ) کی کتاب ’’ہدایہ‘‘ بہت مشہور اور مقبول کتاب ہے۔ علمائے احناف کے فتاوی کا مدار زیادہ تر اسی پر ہے ۔ اگر کوئی شخص کہے کہ ہدایہ کی جلدوں کو سمجھ کر پڑھنے یا اس کا مطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس اس کی ’’تلاوت‘‘ کرلینا کافی ہے ۔ اس کو جلی حرفوں میں چھپوا لیا جائے اور الفاظ کی صحیح ادائیگی کی ضمانت کے لیے اعراب بھی لگا دیے جائیں اور اس کے بعد لوگوں کو دے دیا جائے کہ وہ صبح و شام اس کے الفاظ کو دہر الیا کریں۔ اگر کوئی ایسا کہے تو سارے علما اس کے مخالف ہو جائینگے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ قرآن کے بارے میں وہ ٹھیک اسی عمل پر راضی ہو گئے ہیں۔ جو بات انھیں شامی او ر درمختار اور ہدایہ اور کنز الدقائق کے معاملہ میں بے معنی نظر آتی ہے ، وہی بات قرآن کے معاملہ میں عین مطلوب بن گئی ہے ۔
مجھے ایک بار سفر میں ایک نوجوان کی ہم راہی کا اتفاق ہوا ۔ یہ ایک فیض یافتہ نوجوان تھا اور صوم و صلوٰۃ کا نہایت پابند تھا ۔ وہ اپنے گلے میں ایک حمائل لٹکائے ہوئے تھا۔ ہمیشہ باوضو رہتا اور جہاں موقع ملتا، قرآن کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دیتا ۔ اس کا ذوق شوق دیکھ کر میں نے کہا:آپ عربی زبان بھی سیکھ لیجیے تاکہ جب آپ قرآن پڑھیں تو اس کو سمجھ بھی سکیں۔ میری اس بات کے جواب میں اس نے جو کچھ کہا وہ عام مسلمانوں کی نفسیات کی مکمل ترجمان تھی’’:ہم تو صرف ثواب کے لیے قرآن پڑھتے ہیں‘‘۔
یہ حال اس کتاب کا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اس کے اتارنے کا مقصد ہی یہ بتایا ہے کہ لوگ اس پر غور کریں اور اس سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں (ص، 38:29) (الرسالہ، مئی 1978)
