قناعت،ترقی
اکثرخبریں آتی ہیں کہ فلاں بڑی کمپنی دیوالیہ ہوگئی۔ایساکیوں ہوتاہےکہ بڑی بڑی کمپنیاں دیوالیہ پن (bankruptcy) کاشکارہوجاتی ہیں۔اس کاسبب صرف ایک ہے، اوروہ ہےاپنی طاقت سےزیادہ بڑی چھلانگ لگانا۔عام طورپرایساہوتاہےکہ ایک کمپنی کے پاس ذاتی سرمایہ صرف چندملین ڈالرہے۔مگروہ ایک ایسےصنعتی کاروبار کا منصوبہ بناتی ہے جس کوقائم کرنےکےلیے کئی بلین ڈالردرکارہیں۔اب وہ بینک سے سودی قرض لیتی ہے۔ یہ قرض سودکےساتھ قسطوں میں ادا کیا جاتا ہے۔ اب اگر کمپنی کی آمدنی حسب اندازہ جاری رہےتوقرض کی قسطیں بھی اداہوتی رہیں گی۔لیکن اگرکسی وجہ سےآمدنی میں خلل پڑجائےتوکمپنی اس قابل نہ رہےگی کہ وہ قرض کی قسطوں کواداکرسکے۔اسی توازن کے ٹوٹنے کا نام دیوالیہ پن ہے۔ یہ ایک ایسامسئلہ ہےجوہرمادہ پرست انسان کوکسی نہ کسی صورت میں پیش آتاہے۔
یہ مسئلہ کیوں پیداہوتاہے۔اس کاایک نہایت گہراسبب ہے۔ہرآدمی پیدائشی طورپر زیادہ کی طلب رکھتاہے۔اپنی طلب میں کسی حدپررکناانسانی مزاج کےخلاف ہے۔یہی وہ فطری مزاج ہےجومذکورہ مسئلہ پیداکرتاہے۔مادّی طرزفکرمیں اس مسئلہ کاکوئی حل نہیں۔جوآدمی مادّی کامیابی کی اصطلاحوں میں سوچتاہووہ کبھی اس کی کمزوری سے بچ نہیں سکتا۔ اس سے یہ کہنا کہ تم ایک مادّی حد پر رک جاؤ، اس کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ قابل عمل بھی نہیں۔
اس معاملہ میں قابل عمل فارمولہ صرف ایک ہے، اوروہ ہےآخرت پسندانہ سوچ۔ آخرت پسندی کے مطابق، اس مسئلہ کاحل یہ ہے کہ آدمی دنیا میں بقدر ضرورت پرراضی ہوجائے اور آخرت میں بقدر شوق کا طلب گارہو۔ یعنی دنیا میں ضرورت کوکافی سمجھنا، اور زیادہ کی طلب کارخ آخرت کی طرف کردینا۔مختصرالفاظ میں،اس کافارمولایہ ہے۔دنیامیں محدود پر راضی ہونااورلامحدودکوآخرت میں چاہنا۔
