حکومتی منصب

سفیان بن سعید بن مسروق الثوری 97ھ میں کوفہ میں پیدا ہوئے۔ 161ھ میں بصرہ میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ حدیث کے بہت بڑے عالم تھے۔ ان کی کتابوں میں الجامع الکبیر اور الجامع الصغیر بہت مشہور ہیں (الاعلام، جلد3، صفحہ104)۔

المسعودی نے اپنی کتاب مروج الذہب میں القعقاع بن حکیم کے حوالہ سے لکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں خلیفہ المہدی کے پاس تھا۔ اس وقت سفیان الثوری وہاں لائے گئے۔ جب وہ آئے تو خلیفہ کو انہوں نے عام انداز کا سلام کیا، دربار خلافت والا سلام نہیں کیا۔

المہدیکا وزیر الربیع اس کے پاس تلوار پر ٹیک لگائے ہوئے کھڑا تھا۔ المہدی نے سفیان ثوری کو دیکھ کر کہا کہ تم ہم سے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہم تمہارے اوپر قابو نہیں پا سکتے۔ مگر اب تم ہمارے اختیار میں ہو کیا تم اس سے نہیں ڈرتے کہ ہم تمہارے اوپر جو فیصلہ چاہیں کریں۔ سفیان ثوری نے کہا کہ اگر تم میرے معاملہ میں کوئی غلط فیصلہ کرو گے تو قادر مطلق خدا تمہارے اوپر فیصلہ کرے گا اور وہ حق اور باطل کو الگ الگ کر دے گا۔ وزیر ربیع نے کہا کہ اے امیرالمومنین کیا اس جاہل کے لیے سزا وار ہے کہ وہ آپ سے اس طرح خطاب کرے۔ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔

المہدی نے ربیع سے کہا کہ چپ رہو، تمہارا برا ہو۔ وہ اور اس قسم کے لوگ یہی تو چاہتے ہیں کہ ہم انہیں قتل کردیں اوران کو سعید ثابت کر کے اپنے کو شقی بنا لیں۔ کاغذ لاؤ اور ان کے لیے لکھو کہ ان کو کوفہ کا قاضی بنایا جاتا ہے۔ چنانچہ وزیر ربیع نے اس کو لکھ کر انہیں دیدیا۔ سفیان ثوری کاغذ لے کر باہر نکلے۔ اس کو دجلہ میں پھینک دیا اور بھاگ گئے۔ اس کے بعد ان کو ہر شہر میں تلاش کیا گیا لیکن وہ نہیں ملے۔ یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔

سفیان الثوری نے جب کوفہ کے قاضی کا عہدہ قبول نہیں کیا تو اس کے بعد خلیفہ نے کوفہ کے ایک اور عالم کو یہ عہدہ دے دیا۔ ان کا نام شُریک بن عبداللہ بن الحارث النخعی (177) تھا۔ جب یہ خبر مشہور ہوئی تو ایک عرب شاعر نے اس پر یہ شعر کہا کہ سفیان بچ گئے اور اپنے دین کے ساتھ بھاگ گئے۔ اور شریک درہم کے پیچھے دوڑ پڑے:

نَحْرِزُ سُفْيَانَ وَفَرَّ بَدِينَهُ                   وَأَمْسَى شَرِيكًا فِي رَصْدِ اللَّدَرَاهِمِ

شریک النخعی الکوفی بھی سفیان ثوری ہی کی طرح ایک بڑے محدث اور فقیہ تھے۔ ان کے متعلق صاحب تذکرۃ الحفاظ نے لکھا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں نہایت عادل تھے (وکان عادلاً فی قضائہ)ان کے عادل ہونے کا ایک واقعاتی ثبوت یہ ہے کہ خلیفہ المنصور العباسی نے ان کو 153ھ میں کوفہ کا قاضی مقرر کیا۔ مگر ان کے غیر مصالحانہ رویہ کی وجہ سے اس نے انہیں معزول کر دیا۔ اس کے بعدالمہدی نے دوبارہ ان کو کوفہ کا قاضی بنایا۔ مگر اسکے بعد موسیٰ الہادی کو دوبارہ انہیں معزول کرنا پڑا (الاعلام للزرکلی، جلد3، صفحہ163)۔

اس حقیقت کے باوجود شاعرنے مذکورہ شعر کیوں کہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں تقویٰ کا ایک غلط معیار رائج ہو گیا۔ وہ یہ کہ جو شخص عہدہ قبول نہ کرے وہ متقی ہے اور جو شخص عہدہ قبول کر لے وہ غیرمتقی۔ حالاں کہ اسلام میں اعمال کامدارنیت پر ہے، نہ کہ محض ظاہر پر۔ یہ سراسر ایک اضافی چیز ہے کہ کس نے حکومتی عہدہ قبول کیا اور کس نے قبول نہیں کیا۔ دیکھنے کی اصل چیز یہ ہے کہ عہدہ قبول کرنے کے بعد وہ اپنی نیت اور اپنے کردار کے اعتبار سے کیسا رہا۔

اہل علم اور اہل خیر کے لیے حکومتی عہدے قبول کرنا کوئی ناپسندیدہ چیز نہیں۔ اس کی ایک انتہائی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ملتی ہے۔ آپ خدا کے پیغمبر تھے اور آپ نے مصر کے مشرک بادشاہ کی حکومت میں ایک اعلیٰ عہدہ قبول فرمایا۔ مگر بعد کے زمانہ میں علما اسلام غیر ضروری طور پر حکومتی عہدوں کو برا سمجھنے لگے۔ یہاں تک کہا گیا کہ یہ حضرت یوسف کے لیے خاص تھا۔ اب ہمارے لیے وہ جائز نہیں: إِنَّ ‌هَذَا ‌كَانَ ‌لِيُوسُفَ ‌خَاصَّةً، وَهَذَا الْيَوْمُ غَيْرُ جَائِزٍ (تفسير القرطبي، جلد9، صفحہ 215)۔

لیکن یہ نظریہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علما کے لیے حکومتی عہدے قبول کرنا عین جائز ہے اور اس میں اسلام اور ملت کے لیے کثیر فائدے ہیں۔ البتہ شرط یہ ہے کہ نیت خالص ہو اور کسی بھی قسم کا دنیوی مفاد مقصود نہ ہو۔ اسلام میں ساری اہمیت صرف نیت یا اسپرٹ کی ہے، ظاہر کی اہمیت تمام تر اضافی ہے، نہ کہ حقیقی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion