ر از داری
فتح مکہ کے واقعات کے ذیل میں آیا ہے کہ مدینہ میں آپ نے سفر کے لیے تیاری کا حکم دیا۔ عام مسلمان ضروری تیاری میں مصروف ہو گئے۔ اس زمانے میں حضرت ابو بکر صدیق اپنی صاحبزادی عائشہ کے گھر میں آئے جو پیغمبر اسلام ﷺ کی اہلیہ تھیں۔ وہ اس وقت ضروری تیاری کر رہی تھیں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اپنی صاحبزادی سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے تم کو اس کا حکم دیا ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے دوبارہ پوچھا کہ یہ تیاری کہاں کے سفر کے لیے ہے۔ حضرت عائشہ نے جواب دیاکہ خدا کی قسم مجھ کو نہیں معلوم — وَاللهِ مَا أَدْرِي (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 14)۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ تھی کہ آپ نازک معاملات میں ہمیشہ راز داری کا طریقہ اختیار فرماتے تھے۔ یہی آپ نے فتح مکہ کی مہم میں کیا۔ مدینہ سے آپ اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ نکلے مگر آپ نے لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ ہم کہاں جارہے ہیں۔ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچے جہاں سے راستہ سیدھا مکہ کی طرف جاتا تھا، اس وقت ہم نے جانا کہ یہ سفر مکہ کے لیے ہے۔ نازک اجتماعی معاملات میں رازداری بے حد اہم ہے اکثر اوقات کامیابی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ فریق ثانی کو آپ کے منصوبہ کا پیشگی علم نہ ہو سکے۔ پیغمبر اسلام نے اس حکمت کو نہایت اہتمام کے ساتھ اپنی زندگی میں اختیار فرمایا۔
