ظاہر سے زیادہ باطن کو دیکھنا
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھے طریقہ سے رہو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز ناپسند ہواور اﷲ نے اس میں بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو:وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (4:19)۔
یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے کہ کوئی مومن کسی مومنہ سے نفرت نہ کرے۔ اگر اس کی ایک خصلت مرد کو پسند نہ آئے تو اس کی دوسری خصلت اس کی پسند کے مطابق ہوگی:لَا يَفْرَك مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ سَخِطَ مِنْهَا خُلُقا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ (صحيح مسلم، حديث نمبر1469) ۔
اس تعلیم کا مطلب دوسرے لفظو ںمیں یہ ہے کہ کسی ظاہری ناپسندیدگی کو دیکھ کر اس سے بیزار نہ ہوجا ؤ۔ کیوں کہ خدانے کسی کو ہر اعتبار سے ناقص نہیں بنایا۔ ہر عورت یا مرد کا معاملہ یہ ہےکہ اگر ایک اعتبار سے اس کے اندر کمی ہے توکسی اور اعتبار سے اس میں زیادتی بھی ضرور موجود ہوگی۔
ایک شخص نے شادی کی۔ اس کی بیوی آئی تو اس نے دیکھا کہ وہ نازک اندام نہیں ہے بلکہ مضبوط ہاتھ پاؤں والی ہے اور دیکھنے میں نیم مرد معلوم ہوتی ہے۔ وہ نازک اندام بیوی چاہتا تھا۔ اس لیے بھاری بھرکم قسم کی بیوی کو دیکھ کر اس سے بیزار رہنے لگا۔ مگر جلدہی حالات بد لے۔ مرد کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ زیادہ کام کرنے کے قابل نہ رہا۔ اب بیوی نے طے کیا کہ وہ اپنے شوہر کا سہا رابنے گی۔ اس نے بھر پور محنت کرکے روزی کمانا شروع کیا وہ چونکہ طاقتور اور مضبوط ہاتھ پا ؤں والی تھی، اپنے کام میں کامیاب رہی۔ اس کی وجہ سے گھر میں معقول پیسے آنے لگے۔ شوہر کا روزگار چھوٹنے کا کو ئی اثر گھر کے مالیاتی نظام پر نہیں پڑا۔ اب شوہر کو معلوم ہوا کہ وہ بیوی جس کو اس نے اپنے لیے زحمت سمجھ لیا تھا ، وہ اس کے لیے عظیم رحمت تھی۔ اس کی بیوی کے اندر اگر چہ نازک اندامی کی صفت نہ تھی۔ مگر اس کے اند ر ایک اور نہایت قیمتی صفت تھی۔ یعنی شوہر کی معذوری کے وقت اس کا معاشی سہارا بننا۔
زندگی کی یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ(24:32)۔ یعنی، تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو صالح ہوں ان کا نکاح کر دو۔ اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔
یہی بات ایک حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے:
ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللهِ -عَزَّ وَجَلَّ- عَوْنُهُمُ: الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ(سنن الترمذی ، حديث نمبر4995)۔يعني، تین شخص ہیں کہ ان کی مدد اﷲ کے ذمہ ہے۔ وہ نکاح کرنے والا جو طالب عفت ہو اور وہ مکاتب جو مال ادا کرکے آزاد ہونا چاہتا ہو اور اﷲ کے راستہ میں جہاد کرنے والا۔
