علم کا حصول

عربی کا ایک مقولہ ہے:الْعِلْمُ لَا يُعْطِيكَ بَعْضَهُ حَتَّىٰ تُعْطِيَهُ كُلَّكَ (علم تم کو اس وقت تک اپنا جزء نہیں دیتا جب تک تم اس کو اپنا کل نہ دے دو)۔ یہ مقولہ نہایت صحیح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علم کے حصول کے لیے یکسوئی اور ارتکاز لازمی طور پر ضروری ہیں۔ کامل ذہنی یکسوئی کے ساتھ جب کوئی شخص لمبی مدت تک محنت کرتا ہے، اس کو علم کا کوئی حصہ ملتا ہے۔ تاہم یہ حصہ بھی صرف جز ئی ہوتا ہے۔ انسان کی محدود عمر کے مقابلہ میں علم کا دائرہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ کوئی شخص اپنی ساری زندگی لگادینے کے بعد بھی علم کے صرف ایک جز ءتک رسانی حاصل کرسکتا ہے۔ علم کے کل تک پہنچنا موجودہ دنیا میں کس بھی شخص کے لیے ممکن نہیں۔ 

)ڈائری،14جون1997(

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion