جدید امکانات کا استعمال
موجودہ زمانے کے مسلمان عجیب و غریب طور پر ایک استثنائی محرومی سے دوچار ہوئے ہیں۔ اس محرومی میں شاید کوئی بھی دوسری قوم یا دوسرا گروہ ان کا شریک نہیں۔ وہ ہے — دور جدید کے عظیم امکانات کو استعمال کرنے میں ناکام رہنا۔
موجودہ زمانے میں جن امکانات (opportunities) کا دروازہ انسان کے لیے کھلا، ان میں سے ایک نہایت قیمتی امکان وہ تھا جس کو آزادی (freedom) کہا جا تا ہے۔ فرانس کے انقلابی مفکر روسو نے اپنی کتاب معاہدۂ عمرانی(Social Contract) کا آغاز اس جملے سے کیا تھا:انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پاتاہوں۔ یہ قول دور جدید کا کلمہ بن گیا۔ یہ تصور اتنا بڑھا کہ موجودہ زمانے میں مسلّمہ طور پر یہ مان لیا گیا کہ آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔ ہر انسان کا یہ ناقابل تنسیخ حق ہے کہ وہ جس چیز کو درست سمجھتا ہے اس کو اختیار کرے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ اس مطلق آزادی کو مقید کرنے والی صرف ایک چیز تھی، وہ یہ کہ آدمی اپنی آزادی کے استعمال میں جارح نہ بنے اور تشدّد کے بجائے پُرامن ذرائع سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اس کی وضاحت کے لیے دو متعلق قصے کا ذکر مفید ہو گا جو اس معاملے کو بخوبی طور پر واضح کر تا ہے۔
300 سال پہلے جب امریکہ انگریزوں کے سیاسی غلبے سے آزاد ہوا تو ایک امریکی شہری خوشی منانے کے لیے ایک سڑک پر نکلا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو زور زور سے ہلاتاہوا جارہا تھا۔ اس دوران اس کا ایک ہاتھ ایک راہ گیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہ گیر نے غصہ ہو کر کہا کہ یہ کیا نا معقول حرکت (What is this nonsense) ہے۔ امریکی شہری نے جواب دیا کہ اب امریکہ آزاد ہے، اب میں جو چاہوں کروں۔ راہ گیر نے نرمی کے ساتھ جواب دیا کہ بیشک تم آزاد ہو مگر تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے:
Your freedom ends where my nose begins.
یہ قصہ آزادی کے جدید تصور کو نہایت خوبی کے ساتھ واضح کر رہا ہے۔ جدید دور انسان کو مکمل آزادی دیتا ہے، اس واحد شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے ساتھ تشدّد نہ کرے۔
مہاتما گاندھی جو اپنی مغربی تعلیم کے دوران اس حقیقت کو جان چکے تھے۔ انہوں نے اس کو ہندستان کی تحریک آزادی میں استعمال کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے 1857 میں ہندستان کے مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے یہ تحریک پر تشدّد طریق کار کے اصول پر چلائی۔ 60 سال سے زیادہ لمبی مدت تک خونیں جنگ کرنے کے باوجود یہ تحریک ناکام رہی۔ اس کے بعد 1919 میں مہاتما گاندھی نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے طریق کار کو بدل کر آزادی کی اس تحریک کو پر امن جد و جہد کے اصول پر چلایا۔ یہاں تک کہ 1947میں ہندستان آزاد ہو گیا۔
اس فرق کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مسلم رہنما اپنے مقلدانہ فقہی ذہن کی بنا پر طریق کار کے نام سے صرف ایک ہی طریقے کو جانتے تھے اور وہ مسلح جہاد ہے۔ مدوّن فقہ کی تمام کتابیں پر امن جد و جہد (peaceful struggle) کے تصور سے خالی ہیں۔ یہ کتابیں صرف ایک ہی طریقے کا تعارف کراتی ہیں اور وہ پر تشدّد جدوجہد ہے۔ کیوں کہ یہ کتابیں اس دور میں لکھی گئیں جب کہ انسان طاقت کے نام سے صرف تلوار کو جانتا تھا۔ عربی کا ایک قدیم مقولہ ہے:جنگ کو جنگ کا ٹتی ہے (اَلْحَرْبُ أَنْفَى لِلْحَرْبِ)۔ ایک فارسی شاعر نے اس قدیم تصور کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہے— جو شخص تلوار مارتا ہے اسی کے نام کا سکہ چلتا ہے:
ہر کہ شمشیر زند سکه بنامش خوانند
یہ عسکری طرز فکر موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اس طرح سرایت کیے ہوئے ہے کہ شاید کوئی بھی مسلمان اس سے خالی نہیں مختلف شکلوں میں ہرجگہ اس کو دہرایا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک فلسطینی ترانے کا ایک شعر یہ ہے کہ آؤ ہم لڑیں، آؤ ہم لڑیں۔ کیوں کہ لڑائی ہی کامیابی کاراستہ ہے:
هَلُمَّ نُقَاتِلْ، هَلُمَّ نُقَاتِلْ فَإِنَّ الْقِتَالَ سَبِيلُ الرَّشَادِ
قدیم فقہ پر مبنی یہ ذہنی ڈھانچہ (mental framework) اتنا زیادہ عام ہوا کہ نام نہاد جدید مفکرین بھی اس کے خول سے باہر نہ آسکے۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی، سید قطب، ڈاکٹر اقبال، سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر موجودہ زمانے میں ہمارے رہنماؤں کی تمام قربانیاں رائگاں ہو کررہ گئیں۔
موجودہ زمانے میں مسلّح طریق کار کے مقابلے میں پر امن طریق کار کس طرح زیادہ نتیجہ خیز ہے اس کا اندازہ مہاتما گاندھی کی ایک مثال سے ہو تا ہے۔ وہ ہندستان کی تحریک آزادی میں1919 میں شریک ہوئے۔ اس وقت تک ہندستان کی تحریک آزادی تشدّد کے اصول پر چلائی جارہی تھی۔ برٹش حکومت اس تشدّد کو جوابی تشدّد سے کچل دیتی تھی۔ مہاتما گاندھی نے اچانک یہ اعلان کیا کہ ہم تشدّد کے بجائے عدم تشدّد کے اصول پر اپنی تحریک چلائیں گے۔ طریق کار کی اس تبدیلی نے برٹش حکومت کو بے بس کر دیا۔ کیوں کہ غیر متشدّدانہ تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے اس کے پاس کوئی جواز باقی نہ رہا تھا۔ چنانچہ کہا جا تا ہے کہ جب مہاتما گاندھی نے تحریک آزادی کے لیڈر کی حیثیت سے نیا اعلان کیا تو ایک انگریز کلکٹر نے اپنے سکریٹریٹ کو یہ ٹیلی گرام بھیجا کہ براہ کرم یہ بتائیں کہ ایک شیر کو تشدّد کے بغیر کیسے ہلاک کیا جائے
Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently.
