مسلم دنیا سے مغربی دنیا کی طرف

ابتداء ً تقریباً ایک ہزار سال تک یہ عمل مسلم دنیا میں ہوتا رہا۔ مگر سولھویں صدی عیسوی میں ایک نیا انقلاب آیا۔ مسلمانوں کے آپس کے اختلاف کی وجہ سے ایک طرف بغداد کی عباسی خلافت ٹوٹ گئی اور دوسری طرف اسی باہمی اختلافات کے نتیجے میں اسپین کا مسلم اقتدار ختم ہوگیا۔ اس کے بعد مسلم دنیا میں کوئی ادارہ ان لوگوں کی سرپرستی کرنے والا نہ رہا جو علمی وفکری تحقیق کا کام کر رہے تھے۔ چنانچہ علماء اور مفکرین کی بڑی تعداد دھیرے دھیرے اٹلی اور فرانس کی طرف منتقل ہوگئی۔ مخصوص اسباب کی بنا پر یورپ میں ان لوگوں کو بہت پذیرائی ملی۔ انقلابی عمل جو اس سے پہلے مسلم دنیا میں ہو رہا تھا، وہ یورپ کی دنیا میں ہونے لگا۔ تاہم یورپ پہنچ کر اس کے اندر ایک تبدیلی آگئی۔ مسلم دنیا میں یہ کام اسلام کے زیر اثر ہو رہا تھا، یورپ کو اسلام سے دلچسپی نہ تھی، اس نے اس کو اسلام سے جدا کرکے خالص علمی حیثیت سے فروغ دینا شروع کیا۔ اگرچہ مسلم علوم اور عربی زبان کی اس منتقلی کا اثر یورپ کے مسیحی عقائد پر بھی پڑا۔ حتیٰ کہ مارٹن لوتھر (1546-1483) براہ راست طور پر یورپ کے اوپر اسلامی اثرات کی پیداوار تھا۔ تاہم علمی و فکری تحریک کا ارتقاء یورپ میں آزاد سیکولر شعبہ کے طور پر ہوا، نہ کہ مذہب کے ایک ذیلی شعبہ کے طور پر، جدید مغرب کا سائنسی اور جمہوری انقلاب تمام تر اسلامی انقلاب کی دین ہے۔ البتہ مغرب نے اس کو مذہب سے جدا کرکے سیکولر شکل دے دی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید مغربی انقلاب، اسلامی انقلاب کی ایک دنیوی صورت ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایٹم بم آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی فوجی صورت ہے اور قومی ملکیت مارکسی نظریہ کی معاشی صورت۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion