تہذیب جدید کے نتائج
’’مغربی سماج میں اگر بگاڑ ہے تو مسلمانوں کے موجودہ سماج میں بھی بگاڑ ہے۔ اس کے باوجود آپ مغربی تہذیب کو غلط اور اسلام کو صحیح کیسے کہتے ہیں‘‘ ایک شخص نے کہا۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں۔اس لیے کہ جس اعتبار سے ہم مغربی تہذیب اور اسلام کے درمیان تقابل کررہے ہیں اس میں دونوں کے درمیان ایک واضح فرق ہے۔ مسلم سماج کا بگاڑ اسلام سے انحراف کا نتیجہ ہے۔ جب کہ مغربی سماج کا بگاڑ عین اس کے اصولوں پر عمل کرنے کا نتیجہ۔
مسلمانوں کے درمیان جو بگاڑ ہے وہ اصول اور عمل کے درمیان فرق ہوجانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ جب کہ مغربی سماج کا بگاڑ اصول اور حقیقتِ واقعہ کے درمیان ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ جدید مغربی تہذیب نے معاشرتی زندگی کے بارے میں مذہبی اصولوں کے بالمقابل کچھ دوسرے اصول وضع کیے۔ اور قدیم اصول کے مقابلہ میں جدید اصول کی معقولیت کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ زمین کے قابلِ لحاظ حصے پر مغربی اقوام کا سیاسی اور مادی غلبہ قا ئم ہوگیا۔ انھیں یہ حیثیت حاصل ہو گئی کہ وہ قدیم اصولِ حیات کو رد کر کے جدید اصول حیات کی بنیاد پر انسانی معاشرہ کی تشکیل کر یں۔
مغربی اقوام کے غلبے کے ساتھ ہی یہ عمل شروع ہوگیا۔ اب اس تجربہ پر 100 سال سے زیادہ مدت گزرچکی ہے۔ مگر عملی تجربہ اصول کی صداقت کو ثابت نہ کر سکا۔ اس تجر بے نے نہ صرف یہ بتایا کہ مغرب نے انسانی زندگی کے جو نئے اصول وضع کیے تھے وہ فطرت سے مطابقت نہ رکھتے تھے۔ اصول اور حقیقت واقعہ کا یہ ٹکراؤ بہت جلد ظاہر ہوگیا۔ مغربی زندگی میں شدید قسم کی ابتری پیداہوگئی جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
مسلم سماج میں آج جو بگاڑپایا جاتا ہے اس کا حل یہ ہے کہ مسلم سماج کو سابقہ اسلامی اصولوں کی طرف لوٹایا جائے۔ مگر یہی بات مغرب کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی۔ مغرب کا سماج اگر پیچھے کی طرف لوٹا یا جائے تو اس کا لو ٹنا عین انھیں اصولوں کی طرف لوٹنا ہوگا جن پر آج بھی وہ پوری طرح قائم ہے۔ جن لوگوں نے آزادانہ جنسی اختلاط کا نظر یہ پیش کیا یا جنھوں نے عورت کو ہر مردانہ شعبہ میں داخل کرنے پر اصرار کیا یا جنھوں نے یہ کہا کہ نکا ح کا ادارہ ایک غیر ضروری بندھن ہے۔ وہ آخر اپنے اصولوں کی طرف لوٹیں تو کس چیز کی طرف لوٹیں گے۔ وہ اسی چیز کی طرف لوٹیں گے جس پر آج بھی وہ قائم ہیں اور جس کے ہولناک نتائج سے وہ با لفعل دوچار ہورہے ہیں مسلمانوں کے بگاڑ کا حل یہ ہے کہ وہ اسلام کے چھوڑے ہوئے اصول کو دوبارہ اختیار کریں۔ جب کہ مغربی معاشرہ کے بگاڑکا حل یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار کردہ اصول کر ترک کردے۔اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے یہاںہم کچھ واقعاتی مثالیں پیش کریں گے۔
