قربانیاں بے نتیجہ رہیں
1۔ سید احمد بریلوی(1831-1786) اور ان کے ہزاروں ساتھیوں نے پنجاب کی سکھ اسٹیٹ(مہاراجہ رنجیت سنگھ) کے خلاف مسلح اقدام کیا۔ مگر ان کا اقدام مکمل طور پرناکام رہا۔ سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھی1831 میں بالاکوٹ کے میدان میں بری طرح ہلاک کر دیے گئے۔ سکھ ریاست اپنی پوری شان کے ساتھ بدستور قائم رہی۔
اس کے بعد اسی سکھ ریاست سے انگریزوں کا ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ میں انگریز مکمل طور پر کامیاب رہے۔1846 میں انگریزوں کی کامیابی اس نوبت کو پہنچ گئی کہ سکھوں کو تسلیم کرنا پڑا کہ ایک انگریز ریزیڈنٹ لاہور میں رہے۔1849میں انگریز سکھ ریاست کو آخری طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ سکھوں کے اوپر انگریزوں نے اتنا زیادہ قابو پایا کہ ہندستان میں انگریز فوج کا20فیصد سے زیادہ حصہ سکھوں کا ہوتا تھا۔1857 کے ’’غدر‘‘ کو جس انگریزی طاقت نے ناکام بنایا اس میں سکھ بڑی تعداد میں شامل تھے۔ (16-745)
2۔ انیسویں صدی میں انگریز ایشیا کے بڑے حصے پر قابض ہوگئے۔ اس وقت سید جمال الدین افغانی(1879-1838) اور ان کے بہت سے ہم خیال مسلم رہنما انگریزوں کے خلاف اٹھے۔ ہندستانی علماء نے 1857 میں اور اس کے بعد انگریزوں کے خلاف لڑائیاں کیں۔ مگر ان میں سے کوئی بھی انگریزی اقتدار کو ختم نہ کر سکا۔ مسلم رہنماؤں کی ہر کوشش خود ان کی اپنی شکست اور ہلاکت پر ختم ہوتی رہی۔
اس کے بعد ہندستان کے’’ہندولیڈر‘‘ مہاتما گاندھی(1948-1869)سامنے آئے۔ انہوں نے 1919 میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک شروع کی۔1942 میں انہوں نے انگریزو ہندستان چھوڑو (Quit India) کا نعرہ دیا۔ مہاتما گاندھی اپنی کوشش میں پوری طرح کامیاب رہے۔ انگریز1947 میں ہندستان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ ہندستان میں انگریزی اقتدار ختم ہونے ہی کا یہ نتیجہ بھی تھا کہ اس کے بعد انہیں مسلم دنیا اور عرب ممالک سے اپنی فوجیں واپس بلانی پڑیں۔ عرب دنیا کا انگریزی اقتدار سے آزاد ہونا براہ راست طور پر ہندستان کی آزادی کا نتیجہ تھا جو مہاتما گاندھی کی قیادت کے تحت ظہور میں آیا۔
3۔ فلسطین میں1948 میں یہودی ریاست(اسرائیل) قائم ہوئی۔ اسی وقت سے عربوں اورساری دنیا کے مسلمانوں نے اس کے خلاف جدوجہد شروع کر دی۔ شیخ حسن البنا (1948-1906) سے لے کر مسٹریا سرعرفات (2004-1929) تک بے شمار مسلم رہنماؤں کے نام اس جدوجہد کی فہرست میں شامل ہیں۔ ساری دنیا کے تمام مسلمان بلااختلاف اس مہم کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس مسلح مہم میں لاکھوں لوگ اپنی جانیں دےچکے ہیں۔ لاتعداد بلین ڈالر اس پر، براہ راست یا بالواسطہ طور پر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ مگر نتیجہ بالکل برعکس ہے۔
افغانستان سے مراکش تک پھیلی ہوئی وسیع و عریض مسلم دنیا کے اندر اسرائیل ایک چھوٹا سا دھبّہ ہے۔ مگر اس کے خلاف مسلمانوں کی نصف صدی کی کوششیں بھی بالکل ناکام ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ 1967کی جنگ کے بعد اسرائیل کا رقبہ، ابتدائی رقبہ کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہوگیا۔ اسرائیل کے مقابلے میں ساری دنیا کے مسلمان مکمل طور پر بے بس ثابت ہو رہے ہیں۔
اس ناکامی کی توجیہ مسلم رہنماؤں کی طرف سے یہ کی جاتی ہے کہ اسرائیل میں ہمارا مقابلہ دراصل یہودیوں سے نہیں ہے بلکہ ایک سپرپاور(امریکہ) سے ہے۔ مقابلہ اگر صرف یہودیوں سے ہوتا تو اب تک ہم اس کا خاتمہ کر چکے ہوتے۔ امریکہ کی حمایت کی وجہ سے اب تک ہم اس محاذ پر کامیاب نہ ہو سکے۔
مگر اسی سپرپاور(امریکہ) کے بارے میں دوسری مثال لیجیے ۔ یہ مثال ویٹ نام کی ہے۔1954 کے جنیوا معاہدہ کے تحت ویٹ نام کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ نارتھ ویٹ نام پر کمیونسٹوں کا غلبہ تھا، اور ساؤ تھ ویٹ نام پر امریکہ کا۔ تاہم کچھ لوگوں نے اس تقسیم کو نہیں مانا۔ ساؤ تھ ویٹ نام میں کمیونسٹ نواز باغیوں نے اپنی مخالفانہ سرگرمیاں شروع کر دیں۔ اس کو فرو کرنے کے لیے امریکہ کی مسلح فوجیں1965 میں ویٹ نام میں داخل ہوگئیں اور1975 تک اپنی ساری قوت کے ذریعہ’’باغیوں‘‘ کی طاقت کو کچلنے کی کوشش کرتی رہیں۔ لیکن گیارہ سال کی کوشش مکمل طور پر ناکام رہی۔ آخر کار1975 میں امریکہ کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ وہ یک طرفہ فیصلہ کے تحت اپنی فوجوں کو ویٹ نام سے واپس بلا لے۔
فلسطین(اسرائیل) میں امریکہ صرف بالواسطہ طور پر شریک ہے۔ اس کے باوجود تمام عرب اور مسلمان اس کے مقابلے میں بے بس ثابت ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف ویٹ نام میں امریکہ اپنی پوری فوجی طاقت کے ساتھ براہ راست دخیل تھا، پھر بھی ویٹ نامیوں نے امریکہ کو ناکام واپس ہونے پر مجبور کر دیا۔
