جنگ کازمانہ ختم

وسیع ترتقسیم میں جنگ کے دو دور ہیں۔ ایک وہ ابتدائی دورجب کہ جنگی مقابلہ کا فیصلہ تلوار کےذریعہ ہوتا  تھا۔ دوسرادور جدیددورہےکہ لڑائی میں بم کی طاقت استعمال کی جاتی ہے۔ دونوں دوروں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ تلوار جب چلائی جاتی تھی تووہ صرف ایک دشمن کی گردن کو کاٹتی تھی۔ اب بم کےزمانے میں جنگ کامطلب یہ نہیں۔اب جنگ کا مطلب صرف تباہی ہے۔جوبم دشمن کےاوپرڈالاجاتاہےوہ مختلف پہلوؤں سے خود ڈالنے والےکےلیے بھی تباہی کاسبب بنتاہے۔ایسی حالت میں جنگ ایک بےفائدہ عمل بن چکی ہے۔اب جنگ ایک دیوانگی ہے،نہ کہ کسی مقصدکےحصول کے لیے اقدام۔

حقیقت یہ ہےکہ نئےہتھیاروں کےظہورکےبعدجنگ اب ایک قابل ترک چیزبن چکی ہے۔جب جنگ مثبت معنوں میں بےنتیجہ ہوجائےتوایسی حالت میں جنگ چھیڑنا ایک دیوانگی ہے،نہ کہ عقل مندی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion